ناندیڑ:30نومبر ( ورقِ تازہ نیوز) اسمبلی انتخابات میں مہا یوتی نے ریاست سمیت ناندیڑ ضلع میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس کے نتیجے میں انتخابی تبصروں کے مطابق ایک بار پھر ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ بنیں گے، ایسی امیدیں کارکنوں کو تھیں۔ لیکن اب خبریں آ رہی ہیں کہ دویندر پھڈنویس وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ اس بدلے ہوئے سیاسی ماحول سے بی جے پی کے کارکن خوش ہیں، جبکہ شیوسینا کے کارکن غمگین ہیں، ایسے تبصرے ضلع میں ہو رہے ہیں۔اس بار ریاست میں اسمبلی انتخابات مہا یوتی اور مہا وکاس اگھاڑی کے درمیان ہوئے تھے۔ انتخاب سے پہلے برسراقتدار مہا یوتی کی حکومت کے خلاف شور مچایا گیا تھا۔
لوک سبھا انتخابات میں جس طرح مہا وکاس اگھاڑی کو مہاراشٹر میں کامیابی حاصل ہوئی تھی، ویسی ہی کامیابی اس بار حاصل ہونے کی امید تھی، لیکن ریاست کے عوام نے مہا یوتی کے حق میں ووٹ دیا جس کی بدولت ریاست اور ناندیڑ ضلع میں مہا یوتی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ ضلع میں 9میں سے 9 سیٹوں پر مہا یوتی نے جیت حاصل کی۔ ناندیڑ جنوب حلقہ اسمبلی سے موہن ہمبرڈے کو شکست دے کر شیوسینا کے آنند بونڈھارکر نے کامیابی حاصل کی۔ ناندیڑ شمال اسمبلی حلقہ سے بالاجی کلیانکر نے کامیابی حاصل کر کے دوبارہ ایم ایل اے بنے۔
حدگاوں سے کانگریس کے موجودہ ایم ایل اے مادھوراو¿ جوڑگاو¿کر کو شکست دے کر شیوسینا کے بابوراو¿ کوہلیکر نے کامیابی حاصل کی۔ کنوٹ سے بی جے پی کے ایم ایل اے بھیم راو¿کیرام نے سابق ایم ایل اے پردیپ نائیک کو دوبارہ شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ مکھیڑ حلقے سے بی جے پی کے موجودہ ایم ایل اے تُشار راٹھوڑ نے دوبارہ زبردست کامیابی حاصل کی۔ جبکہ رُکن راجیہ سبھا اشوک راو¿ چوہان کی بیٹی شری جیا چوہان نے بھوکر حلقے سے پچاس ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی اور مخالفین کو شکست دی۔ نائیگاو¿ں سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے راجیش پوار دوبارہ ایم ایل اے بنے۔
دےگلور ریزرو حلقے سے کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے جتیش انتاپورکر نے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ جبکہ لوہا-قندہار حلقے سے سابق رکن پارلیمنٹ پرتا پ پٹیل چکھلی کر نے مخالفین کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ بی جے پی، شیوسینا اور این سی پی کی مہا یوتی نے ریاست اور ناندیڑ ضلع میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی سطح پر ہونے والے تبصروں کے مطابق ایکناتھ شندے دوبارہ وزیر اعلیٰ بنیں گے، ایسی شیوسینا کے تمام کارکنوں کی امیدیں تھیں۔
کئی سماجی طبقات کے لیے کیے گئے فیصلے، ترقیاتی کام اور ملک میں مقبول ہونے والی لاڈلی بہن اسکیم جیسی جرا¿ت مندانہ اسکیمیں ایکناتھ شندے نے وزیر اعلیٰ کے طور پر شروع کی تھیں۔ ان فیصلوں کی وجہ سے ریاستی حکومت بھی مقبول ہوئی تھی۔ اسی حمایت کے بل پر شندے دوبارہ وزیر اعلیٰ بنیں گے، ایسا لگ رہا تھا۔ لیکن ریاست بھر میں مہا یوتی کو حاصل کامیابی میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی ثابت ہوئی، جبکہ شیوسینا دوسرے نمبر پر آ گئی۔ مجموعی طور پر اس بدلتے ہوئے سیاسی ماحول کی وجہ سے اب دویندر پھڈنویس ایک بار پھر وزیر اعلیٰ بنیں گے، ایسی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس سے ایکناتھ شندے کا نام پیچھے چلا گیا ہے۔ اس ناراضگی میں شندے ممبئی سے اپنے گاو¿ں واپس آ گئے ہیں۔
اس ناراضگی کا اثر ریاست اور ناندیڑ ضلع میں بھی محسوس ہو رہا ہے۔ ایکناتھ شندے کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے امکانات سے پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں میں جو جوش تھا وہ اب کم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بی جے پی کے قائدین دہلی میں ان کے نام کو پسند کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اس وقت ایکناتھ شندے کا نام وزیر اعلیٰ کی دوڑ سے پیچھے چلا گیا ہے۔ ان سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے بی جے پی کے کارکن خوش ہیں، جبکہ شیوسینا کے کارکن غمگین ہیں، ایسی باتیں سیاسی حلقوں میں کی جا رہی ہیں۔