
امریکہ ، روس ، برطانیہ سمیت دنیا کے متعدد بڑے ممالک جہاں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں گھٹنے ٹیک چکے ہیں وہیں نیو زی لینڈ نے اس معاملے میں بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے ۔نیوزی لینڈ لگ بھگ کورونا سے پاک ہونے کے دہانے پر ہے ۔ یہاں مسلسل پانچ دن سے کوئی نیا معاملہ سامنے نہیں آیا ہے ۔ آخری مریض کو آکلینڈ کے مڈلمور ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے ۔
قریب 50لاکھ کی آبادی والے اس ملک میں کل 1504 افراد کورونا کی زد میں آئے تھے اور 22 افراد کی موت ہوئی تھی۔
ملک کی وزیرا عظم جیسکا آرڈن کی قیادت کی شروعات سے ہی مثال دی جا رہی ہے ۔ کورونا کے سبھی معاملے ختم ہونے کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ نے ایک ایپ لانچ کیا ہے جس کی مدد سے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو کیس کے اپ ڈیٹس ملیں گے ۔ یہاں کورونا کے معاملے سامنے آنے کے ساتھ ہی سرگرمی دکھائی دی گئی اور آخر کار لوکل ٹرانسمشن کو روک دیا گیا ۔ ساتھ ہی وائرس کو پوری طرح سے ختم کرنے کا پلان بنایا گیا ۔
مائیکرو بائیولاجی پروفیسر سائکسی وائلس کے مطابق اس سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ وائیلس آکلینڈ یونیورسٹی کے بائیولومنسٹ سپر بگس لیب کی ہیڈ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ جیسا اٹلی میں ہو اہے ، وہ نیوزی لینڈ میں نہیں ہونے دیں گے۔
وائلس کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر کسی کو پتہ تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے اور وہ کر رہے تھے ۔ جن افراد کو روزگار کا نقصان ہوا ہے ان کی مدد کے لئے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ او رسارے سرکاری افسران 6ماہ تک 20فی صد سیلری کم لیں گے ۔ آرڈین نے گزشتہ ماہ ہی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ملک اس لڑائی کو جیت چکا ہے۔
#UrduNews #CoroanFreeCountry #War #Won #App #MedicalHealthCare #JacindaArdern