21 اگست کو نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں ایک انتہائی دلچسپ نظارہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب اسپیکر ٹریور ملارڈ نے پارلیمنٹ میں اپنی کرسی پر بیٹھ کر ایک نوزائیدہ بچے کو دودھ پلایا۔ یہ نوزائیدہ بچہ کسی اور کا نہیں بلکہ نیوزی لینڈ کے رکن پارلیمنٹ ٹماتی کافے کا تھا جسے اسپیکر اپنی گود میں سلائے ہوئے نظر آئے۔ قابل ذکر یہ بھی ہے کہ ایک طرف تو اسپیکر ٹماتی کے بیٹے کو دودھ پلا رہے تھے اور دوسری طرف ٹماتی خود پارلیمانی بحث میں حصہ لے رہے تھے۔
A photo of the Speaker of New Zealand's Parliament feeding a legislator's baby while carrying out his duties has been shared all over the world. pic.twitter.com/G8MvuuAOkb
— SBS News (@SBSNews) August 22, 2019
دلچسپ بات یہ ہے کہ بچے کو دودھ پلاتے ہوئے تصویر اسپیکر ٹریور ملارڈ نے خود اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر بھی کیا ہے۔ انھوں نے تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ ’’عام طور پر اسپیکر کی کرسی پر کوئی پریزائڈنگ افسر ہی بیٹھ سکتا ہے، لیکن آج اس کرسی پر میرے ساتھ ایک وی آئی پی بیٹھا۔‘‘ ان کا اشارہ بچے کی طرف تھا۔ ٹریور ملارڈ نے مزید لکھا کہ ’’میں ٹماتی کافے اور ٹِم کو گھر کے اس رکن کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔‘‘
Normally the Speaker’s chair is only used by Presiding Officers but today a VIP took the chair with me. Congratulations @tamaticoffey and Tim on the newest member of your family. pic.twitter.com/47ViKHsKkA
— Trevor Mallard (@SpeakerTrevor) August 21, 2019
واضح رہے کہ رکن پارلیمنٹ ٹماتی کافے اپنے بچے کی پیدائش کے بعد پیٹرنٹی لیو (باپ بننے کے بعد ملنے والی چھٹی) پر تھے اور 21 اگست کو پہلی بار اپنے بچے کے ساتھ پارلیمنٹ میں حاضر ہوئے تھے۔ اسی موقع پر اسپیکر نے ان کے بچے کو خود اپنی گود میں لیا اور اسے دودھ بھی پلایا۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے اور 5 ہزار سے زیادہ لوگ اسے لائک بھی کر چکے ہیں۔ کئی لوگوں نے اس تصویر پر تعریفی کمنٹ بھی کیے ہیں۔ کچھ لوگ اس تصویر کو پہلی بار پارلیمنٹ میں ہوئی اچھی ’چیز‘ قرار دے رہے ہیں تو کوئی لکھ رہا ہے کہ ’’والد بھی کام کے ساتھ بچوں کا خیال رکھ سکتے ہیں۔‘‘
This is sending a great message that men?can?take?care?of?babies? too. There's no need to be afraid of holding and feeding a baby. He looks so comfortable. Wonderul! ?
— The Amazon is on fire (@JaccHiHey) August 21, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
