بھارت کی حکمران انتہاپسند قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (پی جے پی) معطل رکن اور سابق قومی ترجمان نوپورشرما نے پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک ٹی وی مباحثے کے دوران میں دیے گئےتوہین آمیز متنازع بیان کو غیرمشروط طورپر واپس لے لیا ہے اورکہا ہےکہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ان کا کبھی ارادہ نہیں تھا۔
بی جے پی نے سخت عوامی ردعمل اور بالخصوص عرب دنیا کی جانب سے بھارت کے بائیکاٹ کی سوشل میڈیا پر مہم کے بعد آج اتوار کو نوپورشرما کی بنیادی رُکنیت معطل کی ہے۔ان کے خلاف عرب دنیا کے صارفین کی جانب سے ٹویٹر پرہیش ٹیگ #إلا_رسول_الله_يا_مودي کے عنوان سے ٹرینڈ چلایا گیا ہے اور یہ آج ٹاپ پر رہا ہے۔
شرمانے دعویٰ کیا کہ ان کے تبصرے ’’ہمارے مہادیو (شیودیوتا) کی مسلسل توہین اور بے عزتی‘‘کا رد عمل تھے کیونکہ وہ اسے برداشت نہیں کرسکتی تھیں۔ٹویٹرپرپوسٹ کیے گئے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ’’میں گذشتہ کئی دنوں سے ٹی وی مباحثوں میں شرکت کررہی ہوں جہاں ہمارے مہادیو کی مسلسل توہین اور بے عزتی کی جارہی تھی۔ یہ مذاق اڑایا جارہا تھا کہ یہ شیولنگ نہیں بلکہ ایک چشمہ ہے۔ شیولنگ کا موازنہ دہلی میں سڑک کنارے نشانات اور کھمبوں سے کرکے بھی اس کا مذاق اڑایا جارہا تھا‘‘۔
وہ بظاہراس دریافت کا ذکرکررہی تھیں جس کے بارے میں بھارت کے بعض ہندوگروہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وارانسی کی تاریخی گیانوپی مسجد میں شیولنگ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’اگر میری باتوں سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے یا کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو میں اس کے لیےغیرمشروط طور پراپنا بیان واپس لیتی ہوں۔میرا مقصد کبھی کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا‘‘۔