وسیم سیّدنے صحافیوں کو متنازعہ بیانات دے دیئے جسکے بعدحامیوں اورمخالفین کے مابین سوشل میڈیاپرلفظی جنگ شروع

تھانے:16فروری(ظفر اللہ خان)گزشتہ دنوں متنازعہ قبرستان کے آغازسے ہی وارداتوں کاسلسلہ مسلسل جاری ہے اورہردن ایک نئی واردات کے ساتھ شہریوں کاشب وروزکی ابتداء ہورہی ہے اسی لئے مسئلے کے حل کےلئے تھانے کمشنریٹ کے ایماء پرمسلم اکثریتی شہرمیں فی الحال باوردی ایک پولیس انسپکٹر،۸اسسٹنٹسب انسپکٹر،۲۲پولیس اہلکاران،ایس آرپی ایف کی ایک پلاٹون اوردوسیکشن کیساتھ آرسی پی(I) موبائیل وین کونظم ونسق اورامن وامان بحالی کے لئے تعینات کردیاہے، جبکہ خفیہ دستوں کی سرگرمیاں اورنگرانی سوشل اورفارمل میڈیاسے ارسال ہونے والی افواہوں پربھی جاری ہے،

لہٰذاتھانے کمشنریٹ کے زیراثرممبراپولیس نے اعلیٰ افسران کے ایماپرحسّاس شہرکے چپّے چپّے پرسنگینوں کو تعینات کرکے ممبراکوسہ کوگویاچھاونی میں تبدیل کردیاہے اورمصروف عوامی مقامات سے شرانگیزعناصر کی حرکات وسکنات کی اطلاعات حاصل کرنے کےلئے پولیس کے جدید اوزارو ہتھیاروںسے لیس خصوصی دستوں کیساتھ پولیس کے خفیہ نظام کوبھی متّحرک کردیاہے،اس بابت تھانے کمشنریٹ کے زیرِاثرکلواریجن کے اے سی پی رمیش دھمال نے نمائندہ کوبتایا’’گزشتہ روزکوسہ کے جس قطعۂ اراضی پرقبرستان کاآغازہواتھاوہاں سیاسی کارندوں کے مابین تنازعہ کھڑاہوا،اسی دوران سوشل میڈیاپرافواہوں کابازارگرم ہوا،اسی کے مدِّنظرپولیس نے علاقے میںراشٹروادی کانگریس اورسماجوادی پارٹی عہدیداران واراکین کوپولیس اسٹیشن بلواکرنظم ونسق اورامن وامان کے لحاظ سے ایک انتباہی مجلس منعقدکرکے فریقین کوآگاہ کیاگیاکہ فارمل یاسوشل میڈیاپرکوئی بھی شرانگیزی شائع کرےگااُس پرسنگین معاملہ درج ہوگاکیونکہ سوشل میڈیاپرپولیس کی خاص نگرانی ہورہی ہے،
https://waraquetaza.com/dsc_0408-mov/اس معاملے میں عوام کوبھی آگاہ کیاگیاہے کہ سوشل پراگرکوئی شرانگیزی ہوئی تویقینامعاملہ درج ہوگا،میرے خیال سے ممبراکوسہ کی عوام اورقائدین دونوں ہی سمجھدارہیں اوروہ کبھی نہیں چاہےں گے کہ شہرمیں نظم ونسق اورامن وامان کامسئلہ کھڑاہوجائے،اس کے باوجود ہم نے علاقے میں پولیس دستوں کونگرانی کےلئے تعینات کردیاہے،فریقین کے متنازعہ معاملات پرکام جاری ہے،مجھے یقین ہے ہرایک کوانصاف ملے گا‘‘واضح رہے ماضی قریب میں کوسہ ایم ایم ویلی میں صوبائی محکمۂ اربن ڈیولپمنٹ کی جانب سے مختص سلاٹرہاوس اورگرلس ہاسٹل کی جگہ پرتھانے بلدیہ سے مبینہ منظورشدہ مذکورہ متنازعہ نئے قبرستان کاآغازہوا،

ذرائع کے مطابق سماجوادی پارٹی کے ضلعی صدروسیم سیّدکوجانکاری ملی کہ مذکورہ بالاقبرستان میں تدفین کےلئے بیگاریوں کے استعمال ہورہاہے، خبرپاتے ہی موصوف ایم ایم ویلی میں متنازعہ قبرستان پہنچے جہاں موجودمبینہ طورپررکنِ اسمبلی کے سیاسی کارندوں منّاساحل اورعمران حکیم نے ان سے مارپیٹ کی،جسکی شکایت ممبراپولیس میں درج ہوئی اوردونوں فریق زنداں کی زینت بنادیئے گئے،پھردوسرے روزفریقین عدالت سے ضمانت پرچھوٹے تووسیم سیّدنے صحافیوں کو متنازعہ بیانات دے دیئے جسکے بعدحامیوں اورمخالفین کے مابین سوشل میڈیاپرلفظی جنگ چھڑگئی،دوسرے روزکوسہ جامع مسجدٹرسٹیان برانگیختہ ہوکرکوسہ شہرمیں وسیم سیّدکوڈھونڈھتے نظرآئے اورممبراپولیس سے رجوع ہوکروسیم سیّدکے خلاف فریادکرنے لگے،اسی کی ساتھ معاملہ عوامی مقامات پر موضوع بحث بن گیالہٰذاپولیس نے احتیاطی طورپر علاقے کوسنگینوں کے سائے میں لے لیاہے ۔