نظام الدین کی آڑ میں حکومت کی اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کی ناپاک کوشش

نظام الدین کی آڑ میں حکومت کی اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کی ناپاک کوشش

از قلم: رفیع اللہ قاسمی

یہ دنیا ہے اوردنیا کی ساری چیزیں فانی ہیں۔ روزانہ اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے چنانچہ ہر روز ایک کثیر تعداد میں اس دنیا میں بسنے والے انسان زندگی اور موت کی کشمکش میں دم توڑ دیتے ہیں۔ کبھی کبھی اللہ تعالی اس فنائیت کو طاعون اور دیگر وائرس جیسی مہلک وبا کی شکل میں کثیر تعداد میں انسانوں کو لقمہ اجل بنا کر ہمیں یہ سبق سکھانا چاہتا ہے کہ اے انسانو! دنیا کی ہر چیز ختم ہونے والی ہے۔ یہاں پر کسی کو دوام اور ہمیشہ کی بقا حاصل نہیں ہے۔ کچھ بیماریاں فطری ہوتی ہیں۔ کچھ بیماریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو قدرتی نہیں ہوتیں بلکہ کسی مقصد کے حصول کے لیے پیدا کی جاتی ہیں جیسے نفرت، عداوت، کینہ، جلن، جانبداری، ہندو مسلم کارڈ، عدل کا عدم نفاذ، کسی مسئلے کو غلط رخ دینا اور غریبوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑناوغیرہ اس طرح کی بیماریاں بالقصد پیدا کی جاتی ہیں تا کہ اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کا جواز نکل سکے اور آئندہ کے لیے تخت شاہی اپنے لیے مخصوص کیا جا سکے ۔

وطن عزیز حکومت سے پریشان تھا۔ حکومت ہر محاذ پر نا کام ہوتی رہی۔ کورونا وائرس اگر دفعتا ملک میں آیا ہوتا اور حکومت اسے کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہوتی تو الگ بات تھی۔ لیکن جب یہ وائرس اڑوس پڑوس کےملکوں میں مہینوں سے تباہی مچا رہا تھا پھر بھی اس کے تحفظاتی اقدامات سے غفلت برتنا کوتاہی نہیں تو اور کیا ہے؟ بغیر منصوبہ بندی کے اتنے وسیع و عریض زمین پر اچانک لاک ڈاون کا فرمان جاری کردینے کے بعدجب لاکھوں کی تعداد میں عوام بھوکی پیاسی راستے پر نکل آئی اور پوری دنیا میں حکومت کی رسوائی ہونے لگی تو یہ پول بھی کھل گئی کہ وہ حکومت جو CAA قانون بنا کر غیر ملکیوں کو روزی روٹی دینے کی فکر کر ہی تھی وہی وقت آنے پر اپنے ہی باشندوں کو بقدر ضرورت دو وقت کا راشن اور کھانا پہونچانے کی بھی اہلیت نہیں رکھتی؟

نظام الدین دراصل کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اپنے معمول کے مطابق ملک کا ہرفرد، تنظیم، حکومتی ادارہ سرگرم عمل تھا۔ 14،13/ مارچ کو مرکز کا پروگرام بھی معمول کے مطابق تھا۔ مختلف ممالک سے اس پروگرام میں شرکت کرنےکے لیے مہمانان کرام آئے ہوئے تھے۔ دہلی حکومت سے جیسی جیسی نوٹیفیکیشن آتی گئی مرکز اس پر عمل کرتا رہا۔ مرکز میں پندرہ سو سے دو ہزار کا مجمع روزانہ آتا جاتا رہتا ہے۔ گویا مرکز دوہزار مجمع کا خودان کا اپنا گھر ہے۔ پروگرام کے بعد لوگ اپنے اپنے گھر تدریجا لوٹ رہے تھے۔اب اچانک لاک ڈاون کی وجہ سے جب تمام آمدو رفت کے ذرائع بند ہوگئے اور وزیر اعظم صاحب نے اعلان کیا کہ جو جہاں ہے وہیں رک جائے تویہ مجمع مرکز میں رکا رہا۔ جائے تو کہاں جائے؟ کیسے جائے؟ اسی سلسلے میں مرکز انتطامیہ کو پولیس ذمہ داروں سے مل کر مجمع کو اپنے اپنے گھر پہونچانے کی فکر ہوئی۔ پولیس انتظامیہ سے مل کر پھنسے ہوئے لوگوں کی ساری تفصیلات بتائی گئی۔ ان افراد کو اپنے اپنے مقام تک پہونچانے کے لیے سارے انتظامات بس، ڈرائیور اور ڈیزل وغیرہ کی ذمہ داری بھی مرکز اپنے سر لے کر صرف پولیس انتظامیہ سے لاک ڈاون پاسیز کا مطالبہ کر رہا تھا مگر پولیس انھیں فراہم نہ کر سکی۔ بعد میں انتظامیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو پورے مرکز کی چیکنگ شروع ہوئی، یہ بھی ان کی ذمہ داری تھی جو ادا کر رہے تھے۔ لیکن گودی میڈیا نے اس پورے معاملے کو فرقہ وارانہ رخ دے دیا۔ کیجریوال سرکار بھی چشتی دکھاتے ہوئے ایف آئی آر تک درج کر ڈالی۔ جب کہ پورے معاملے کا اگر غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو صرف ایک اخلاقی بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ نظام الدین مرکز کو اس وائرس کے موقع پر پروگرام نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ احتیاطا رد کر دینا چاہیئے تھا۔ لیکن جب حکومت معلومات کے اتنے سارے وسائل اور ذرائع ہونے کے باوجود اس وائرس کی سنجیدگی کا احساس نہ کرسکی تو ملک کے باشندے جن تک گودی میڈیا ہی کے ذریعےصحیح غلط خبریں پہونچتی ہیں کس طرح صحیح اندازہ کر سکتے ہیں؟

جناب وزیر اعظم صاحب نے 16/ دنوں میں جب تیسری مرتبہ ملک کی عوام سے خطاب کا اعلان کیا تو پوری لاچار عوام اس بات کی متمنی تھی کہ شاید وہ اپنی عوام کو اس بات سے باخبر کریں کہ کرونا سے لڑنے کے لیے انھوں نے اب تک کیا کیا ہے اور آئندہ حکومت کیا کرتی رہے گی؟ جن غریبوں کے چولھے بجھے ہوئے ہیں وہ اس امید میں تھے کہ چولھا جلانے کی کوئی نئی ترکیب سامنے آئیگی۔ کورونا کے مریض خوش تھے کہ شاید وزیر اعظم صاحب اس مرض کے خلاف کسی اہم کامیابی کا اعلان کریں گے۔ لیکن جب خطاب کیا تو سب کو مایوس کیا۔ کورونا سے لڑنے کے لیے گزشتہ روز کی طرح پھرگھر کے دروازے پر دیا جلانے کے شعبدے کا اعلان کیا۔ ایک سو تیس کروڑ کے وزیر اعظم ہونے کی وجہ سے انھیں اگر کسی رسم عبادت کا اعلان کرنا ہی تھا تو اس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو شریک کرتے ہوئے یہ پیغام دیتے کہ 9/ بجے رات پورے دیش واشی اپنے اپنے مذہب کے اعتبار سے عبادت اور دعائیں کریں۔

حکومت کچھ کام گودی میڈیا کے حوالے کر کے مطمئن ہو گئی ہے۔ جب عوام پوچھے گی کہ کورونا وائرس سے حفاظت کے لیے حکومت نے کیا تیاری کی تھی؟ میڈیا نے عوام کو جواب سمجھا دیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاو حکومت کی عدم تیاری کا نتیجہ نہیں بلکہ مرکز نظام الدین کی دین ہے۔ وطن عزیز کی پوری دنیا میں کتنی جگ ہنسائی ہو رہی ہوگی جب اہل دنیا یہ سنتے اور سوچتے ہوں گے کہ وہ کورونا جس سے تقریبا پوری دنیا پریشان ہوگئی ہے، اٹلی جیسا ترقی یافتہ ملک اپنی لاچاری کا اعلان کرہا ہے مگر جب یہی بیماری بھارت میں اپنے پیر پھیلاتی ہے تو سارا ٹھیکرا ان تبلیغی جماعتوں کے سر پھوڑ دیا جاتا ہے جن کے بارے میں ڈیڑھ سو سے زائد ملکوں کے باشندے ذاتی طور پر یہ جانتے ہیں کہ یہ صرف زمین کے نیچے اور آسمان کے اوپر کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ غیر ملکی مہمانان کیا سوچتے ہوں گے جن کو پوری دنیا میں رسوا کیا جارہا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سیاست گندی ہوتی ہے۔ دوسروں کے پردے میں اپنی کوتاہی کو چھپاکر کچھ دوسرا ہی کھیل کھیلاکرتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading