چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے اب پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔چینی ماہرین نے اس مہلک وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ڈیٹا جاری کیا ہے اور دوسرے ممالک سے بھی ڈیٹا منظرعام پرآرہا ہے۔اس سے ایک عجیب بات سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ اس وائرس سے عورتوں کی نسبت مردوں کی زیادہ اموات ہورہی ہیں۔
چین کے علاوہ دوسرے ممالک سے منظرعام پر آنے والے ڈیٹا کے حاصلات سے بھی اس امرکی تصدیق ہوئی ہے کہ کورونا وائرس سے مردوں ہی کی زیادہ اموات ہوئی ہیں۔عورتیں بالعموم لمبی عمر پاتی ہیں جبکہ بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایک وائرس کیسے جنسی تفریق کررہا ہے اور اس سے تویہ ظاہر ہورہا ہے کہ آیندہ کورونا وائرس کا کون سی صنف زیادہ شکار ہوسکتی ہے؟
کورونا وائرس کے متاثرین کا ڈیٹا
کورونا وائرس سے ہلاکتوں اور اس کے متاثرین کے اعداد وشمار اکٹھے کرنے کا عمل ابھی جاری ہے۔اس لیے کووِڈ-19 کے بارے میں ابھی بہت کچھ پردۂ اخفا میں ہے اور اس کے پھیلنے کے انداز اور ہلاکتوں کے بارے میں تحقیقات بدستورجاری ہیں۔
ہلاکتوں کی شرح میں فرق کی وضاحت
کورونا وائرس سے مرد وعورتوں کی ہلاکتوں میں عدم مساوات کی اب تک مختلف وضاحتیں پیش کی گئی ہیں۔ڈاکٹر بالقیس کا کہنا ہے کہ اس میں طرز زندگی اور کردار کا بھی بڑا تعلق ہے۔مرد بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے بعد کم ہی کسی طبیب سے رجوع کرتے یا طبی مشورے پر عمل کرتے ہیں۔
بعض محققین کا کہنا ہے کہ مرد حضرات کے کووِڈ-19 سے مرنے کی ایک اور وجہ ان میں شراب اور سگریٹ نوشی کی عادت ہے۔ان دونوں کی لت سے بیماری کا شکار ہونے کےامکانات بڑھ جاتے ہیں اور یوں کورونا وائرس کا شکار ہونے سے ایسے مردوں کے مرنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
بعض مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مرد اپنے ہاتھوں کو کم دھوتے ہیں جبکہ ماہرین اس مہلک وائرس سے بچاؤ کے لیے ہاتھوں کو وقفے وقفے سے صابن اور صاف پانی سے دھونے کا مشورہ دیتے ہیں۔
بعض ماہرین کے نزدیک جنس کی بنیاد پر جسم کے مدافعتی نظام میں بھی فرق ہوتا ہے۔ڈاکٹر ماہر بالقیس کے بہ قول خواتین کرونا ایسے وبائی وائرس کا مردوں کی نسبت کم شکار ہوتی ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان میں خود کار مدافعتی نظام بننے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ہارمون کے توازن اور جینیاتی عوامل کا بھی اس عدم مساوات سے تعلق ہے۔خواتین میں آسٹروجین بھی مردوں سے زیادہ ہوتے ہیں اور یہ ان میں وائرس کے مقابلے میں مدافعت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ’’ جینز کی نمایاں تعداد بھی مدافعتی ردعمل کو منظم کرتی ہے۔یہ ایکس کروموسوم پر ان کوڈ ہوتے ہیں اور یہ کروموسوم عورتوں میں دو ہوتے ہیں جبکہ مردوں میں ایکس کروموسوم ایک ہوتا ہے۔‘‘ تاہم ان کے مطابق مرد اور عورت کے مدافعتی نظاموں میں فرق کے بارے میں ابھی تحقیق جاری ہے۔
بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ