ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز)ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے شہر کی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ پہلی مرتبہ ناندیڑ میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کا میئر منتخب ہونا طے مانا جا رہا ہے۔ اب سب کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا پارٹی اپنے پرانے اور وفادار کارکنان کو موقع دے گی یا سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان کے قریبی حامی کے گلے میں میئر کے عہدے کی مالا سجے گی۔
اسی پس منظر میں آج میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے گروپ لیڈر کے عہدے پر سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان کے معتمد سمجھے جانے والے مہیش کنکدنڈے کو بلا مقابلہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ جمعرات کو سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان اور نومنتخب کارپوریٹروں کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں مہیش کنکدنڈے کے نام پر مہر ثبت کی گئی۔ اس اہم عہدے پر ایک بار پھر پرانے وفادار کارکنان کو نظرانداز کیے جانے کا احساس پارٹی کے اندر پیدا ہوا ہے، جس کی سیاسی حلقوں میں خاصی چرچا ہو رہی ہے۔
ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بی جے پی نے کل 81 میں سے 45 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کو 14، کانگریس کو 10، ونچت بہوجن آغاڑی کو 5، شیو سینا شندے گروپ کو 4 جبکہ این سی پی اجیت پوار گروپ کو 2 نشستیں ملی ہیں۔ ان انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان نے کی تھی۔ ان ہی کی قیادت میں بی جے پی نے پہلی بار ناندیڑ میونسپل کارپوریشن پر اقتدار حاصل کر کے تاریخ رقم کی ہے۔
واضح اکثریت ملنے کے باعث میئر، ڈپٹی میئر اور گروپ لیڈر کے عہدے بی جے پی کے پاس جانا یقینی ہو چکا ہے۔ آج گروپ لیڈر کے طور پر مہیش کنکدنڈے کا انتخاب کیا گیا ہے۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان کے قریبی اور ایک سنجیدہ و مطالعہ رکھنے والے کارپوریٹر مانے جاتے ہیں۔ وہ دو مرتبہ کانگریس اور ایک مرتبہ بی جے پی کے ٹکٹ پر مسلسل تین بار منتخب ہو چکے ہیں۔ اشوک چوہان کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد مہیش کنکدنڈے نے بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بی جے پی نے انہیں وارڈ نمبر 5 سے امیدوار بنایا، جہاں سے وہ کامیاب ہوئے۔ تاہم گروپ لیڈر کے عہدے پر پارٹی کے کسی پرانے وفادار کارپوریٹر کو موقع ملنے کی امید تھی، مگر ایسا نہ ہونے سے سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
بی جے پی سے میئر بننے کی دوڑ میں کون؟
ناندیڑ میونسپل کارپوریشن میں 81 میں سے 45 نشستیں جیت کر بی جے پی نے یکطرفہ اقتدار حاصل کیا ہے۔ آج ہونے والی ریزرویشن قرعہ اندازی میں میئر کا عہدہ جنرل خواتین زمرے کے لیے مختص ہوا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے جنرل خواتین زمرے سے کل 12 امیدوار منتخب ہوئے ہیں، جن میں سے چار نام میئر کے عہدے کے لیے زیرِ بحث ہیں۔ ان میں جیوتی کلیانکر، سدرشنا کھومنے، ویشالی دیشمکھ اور کویتا مُلے شامل ہیں۔
گروپ لیڈر کے طور پر اشوک چوہان کے حامی کی تقرری کے بعد اب یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا میئر کا عہدہ بھی اسی گروپ کے حصے میں آئے گا یا پھر بی جے پی کے کسی پرانے وفادار کارپوریٹر کو موقع دیا جائے گا۔ اس حوالے سے شہر کی سیاسی فضا میں تجسس اور گہماگہمی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔