ناندیڑ:28/ فروری ۔( راست) الحمد للہ بتاریخ 25 فروری 15شعبان کی شب میں مسجد بلال بلال نگر ناندیڑ کے مکتب کے بچوں کا سالانہ جلسہ تھا شرکت کاموقع ملا بچوں نے اپنے تعلیم کامظاھرہ اس انداز سے کیاکے یہ 1 گھنٹے کےمکتب کے طلبہ نہی بلکہ مدر سہ کے طلبہ ہے میں مبارک باد پیش کرتا ہوں ان طلبہ کو انکے ماں باپ کو اور ان کے استادوں کو جنہوں نے ان پر محنت کی اور ان کو اس قابل بنایا صرف دیڑھ سال کے عرصہ میں 12 بچوں نے مدرسہ کے انداز میں صرف روزآنہ کے ایک گھنٹے کی محنت سے تیسواں پارہ سورہ یس حفظ کرلیایہ کوئی معمولی بات نہیں ۔
مکاتب کے اوپر ہمارے اسلاف کی جونظر اور فکر تھی وہ اسی وجہ سے اگر مکاتب پر محنت کی جاۓ تو انشاء اللہ ان 1 گھنٹے کے مکاتب سے امت کو حفاظ ملیں گے بہترین قرآن کو پڑھنے والے ملینگے جس کاعمومی نفع امت کو ہوگا کیونکہ دنیاوی شعبوں میں کام کرنے والے افراد وہ انہی مکاتب سے جانے والے طلبہ ہوتے ہیں۔مکتب سے ہماری نسلوں کو فائدہ حاصل ہوہ اسکے لۓ چند چیزیں قابل غور وہ فکر ہے۔
1 مکتب کا نظام چلانے والے افراد دین کی خدمت سمجھ کر اللہ کے واسطہ صحیح نیت کے ساتھ کام کریں 2 ماں باپ جیسے بچوں کی دنیوی تعلیم کی فکر کرتے ہیں اس سے زیادہ مکتب کی فکر کریں اس کی عظمت کو سمجھے 3 استاد اللہ کی رضاکےلۓاور اللہ کا شکر اداکرتے ہوے اس تصور کے ساتھ کہ میں دنیا کا سب سے اعلی کام انجام دے رہا ہوں اور اپنی صلاحیت کو طلبہ میں منتقل کرنے کی کوشش کریں اوربدلہ کی امید اللہ سے رکھیں 4 سب سےاہم کام مکتب کےمنتظمین کا یہ ہے کے وہ معلم کو قرآن کی عظمت کے پیش نظر حق الخدمت اداء کریں کم ازکم ایک گھنٹے کے حساب سے 5 ہزار اگر دوگھنٹے وقت دیتے ہیں تو 10ہزار اگر منتظمین معلمین کاصحیح حق الخدمت نہیں دے رہے ہیں تو وہ ظالم ہے قرآن اور قاری کے حق میں جیسی نیت ہوتی اللہ ویسے فیصلے کرتا اگر انکا حق آپ اداء نہی کرسکتے ہٹ جاؤ دوسروں کے حوالے کردو ورنہ اللہ کوجواب دینا ہوگا۔نیت پر فیصلے ہوتے ہیں اللہ ہر خدمت کرنے والے کی خدمت کواخلاص کے ساتھ قبول فرماۓآمین
بلال نگر کے معلمین اور منتظمین اور پورے محلہ کے احباب کو جو ہر وقت ہرطریقہ سے مکتب کا ساتھ دیتے ہیں اور اپنی میٹھی نیند کو قربان کرکے جلسے میں اخیر تک رہ کر بچوں کی ہمت افزائ کی اللہ جزاۓ خیر عطا فرماۓ آمین اور مکتب کو ترقی نصیب فرماۓ آمین