ناندیڑ:کورونارپورٹ نگیٹیوآنے کے بعد سرکاری دواخانہ میں مسلم خاتون فوت

ناندیڑ:29۔جولائی۔ (ورق تازہ نیوز)ناندیڑ کے سرکاری اسپتال میں زیرعلاج ایک70 سالہ ضعیف خاتون کی موت ہونے پر اس خاتون کے رشتہ داروں نے اس کیلئے ڈاکٹرز کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کروانے کیلئے نعش کووزیرا?باد پولیس اسٹیشن لے گئے اور متعلقین کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی۔ اس واقعہ سے محکمہ پولیس وصحت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اعلیٰ پولیس افسران نے لواحقین کو کسی طرح سمجھانے میں کامیاب ہوگئے جس کے بعد لواحقین نعش کو واپس لے کر چلے گئے۔

دستیاب تفصیل کے مطابق واشم ضلع کی ساکن قمر النسائ بیگم شیخ عبدالحئی کچھ دن قبول حمایت نگر میں اپنی بیٹی سے ملنے کیلئے ا?ئی تھیں۔ یہاں پر ان کی طبیعت خراب ہونے پرانہیں علاج کیلئے ناندیڑ لایا گیا۔ قبل ازیں قمرالنسائ کے داماد شیخ عثمان نے اپنی ساس کو اپنی پہچان کے ایک خانگی دواخانہ لے گئے تھے جہاں پرڈاکٹر نے کہاکہ ان کا کورونا ٹیسٹ کرنا پڑے گا ا?پ انہیں ناندیڑ کے سرکاری دواخانہ لے جائیں۔ اس پر اپنی ساس کا کورونا ٹیسٹ کیلئے 25جولائی کو ناندیڑ کے شری گروگوبند سنگھ جی سرکاری دواخانہ میں شریک کروایا۔ ان کی کورونا جانچ کی گئی۔

27 جولائی کوجانچ رپورٹ نگیٹو ا?نے کے بعد شیخ عثمان سے کہا گیا کہ ایمبولنس لاکر مریض کو لے جائیں، اس کے لئے باضابطہ ڈسچارج کارڈ بھی دیا گیا۔ڈسچارج کارڈ ملنے کے بعد مریض خاتون کے رشتہ داروں نے انہیں اپنے گھر واشم لے جانے کیلئے ا?کسیجن کی سہولت والی ایمبولنس کا نظم کیا۔اس کیلئے ان لوگوں نے ۲۵ ہزار روپئے خرچ کئے۔ جیسے ہی ایمبولنس مریض کو لینے اسپتال پہنچی یہاں ڈیوٹی پر معمور ڈاکٹروں نے مریض خاتون کو لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد شیخ عثمان نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سرجن سے ملاقات کی اور بتایا کہ میری ساس کو شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور دمہ جیسی بیماریاں ہیں۔ ان کی کورونا رپورٹ بھی نگیٹیو ا?ئی ہے۔ انہیں گھر جانے دیں ، انہیں بیماریوں کی دوائیاں لینا بہت ضروری ہے۔ تاہم ، ڈاکٹر نے ان کی بات نہیں مانی۔نتیجہ میں اس خاتون کی موت ہوگئی ہے۔سرکاری دواخانہ کے ڈاکٹرز کی لاپرواہی سے دلبرداشتہ ہوکر شیخ عثمان نے 28 جولائی کو ضلع کلکٹر کے پاس ان لائن شکایت درج کروائی، جس میں انہوں نے کہاکہ سرکاری دواخانہ کے ڈاکٹرز میں ہم ا?ہنگی نہیں ہے جس کے باعث میری ساس کو ڈسچارج نہیں دیاگیا ، انہیں کورونا مرض نہیں تھا، انہیں دیگربیماریوںکے علاج کی سخت ضرورت تھی۔ ڈاکٹروں کی جانب سےمیری ساس کی بیماریوں کا علاج نہ کرنے اور ڈسچارج نہ دینے کے باعث 28جولائی کی شام 6 بجے میری ساس کی موت واقع ہو گئی۔

پوسٹ مارٹم کے بعد چہارشنبہ 29جولائی کی صبح شیخ عثمان کو ان کی ساس کی نعش دی گئی۔ ایڈیشنل سرجن ، متعلقہ ڈاکٹر کے غیر ذمہ دارانہ ،غیرانسانی رویہ سے ناراض شیخ عثمان نےنعش کو ایمبولنس کے ذریعے سیدھے وزیرا?باد اسٹیشن لے گئے۔ نعش کے ساتھ ایمبولنس پولیس اسٹیشن میںپہنچنے پر کھلبلی مچ گئی۔ اس موقع پر شیخ عثمان نے وزیرا?باد پولیس اسٹیشن اپنی ساس کی موت کے سلسلے میں متعلقین کے خلاف ایک شکایت بھی درج کروائی۔ اپنی شکایت میں شیخ عثمان نے کہاکہ میری ساس کی موت کیلئے ڈسٹرکٹ سرجن ، ایڈیشنل سرجن ، متعلقہ ڈاکٹر ذمہ دار ہیں۔ان تمام کی غفلت وغیرذمہ داری کی وجہ سے موت ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرا?باد پولیس اسٹیشن میں ان سب کے خلاف مجرمانہ قتل کی شکایت درج کروائی۔بعدازیں اعلیٰ افسران نے شیخ عثمان کو کسی طرح سمجھ بجھاکر نعش کو لے جانے کیلئے کہا۔ اس پر شیخ عثمان اپنی ساس کی نعش لے کر واشم کیلئے روانہ ہوگئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading