ناندیڑمیں کوروناتشخیص تجربہ گاہ کے چار ملازمین ہی پازیٹیو

ناندیڑ:18جولائی( ورق تازہ نیوز) ضلع میں کورونا مریضوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔ شہری علاقوں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر مریض مل رہے ہیں۔

اب تو ناندیڑ میں کرونا کے مشتبہ مریضوں کی تشخیص کرنے والے ادارہ سوامی رامانندتیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی کے تجربہ گاہ کے ملازمین بھی کرونا سے متاثر ہوئے ہیں ۔ اسلئے تجربہ گاہ کو جمعرات سے بندکیاگیا ہے جو آئندہ کچھ دنوں تک بندرہے گی ۔

23اپریل سے ناندیڑکے سوامی رامانندتیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں کورونا کے نمونوں کی جانچ کا آغاز ہوا جہاں پر نہ صرف ناندیڑ بلکہ پڑوسی اضلاع ہنگولی اور پربھنی کے سویب کے نمونوں کی جانچ کی جارہی تھی ۔اب تک اس تجربہ گاہ میں اب تک پندرہ ہزار سواب نمونوں کی جانچ کی گئی ہے ۔ اس طرح کی اطلاع یونیورسٹی کے متعلقہ محکمہ کے چیف ڈاکٹرجی بی جھورے نے دی ۔ہر رو ز دیڑھ سوتا دو سو نمونوں کی جانچ کی جارہی ہے ۔

وشنوپوری کے شنکرراوچوہان میڈیکل کالج میں تجربہ گاہ شروع کی گئی ہے ۔اس سے قبل ایس آرٹی یونیورسٹی میں مذکورہ تجربہ گا ہ شروع کی گئی ہے ۔

مذکورہ تجربہ گاہ میں کی خاتون ملازمہ اپنے گاوں گئی تھی جہاں اسے کرونا ہوگیا ۔ تجربہ گاہ میںدس لیب ٹیکنیشین ‘ پانچ پی سی آر(مشین آپریٹر) اور چار ڈاٹاانٹری آپریٹرس او رخادم سمیت 28ملازمین کا سٹاف ہے ۔تجربہ گاہ کے ملازمین کرونا پازیٹیو پائے جانے کے اس لیب کو بندکردیاگیا ہے ۔ یہاںکے تمام ملازمین کو کوارنٹین کیاگیا ہے ۔

ورانکے سویب کے نمونے جانچ کیلئے روانہ کئے گئے ہیں۔ فی الحال 21 جولائی تک تجربہ گاہ کو بند کیاگیا ہے ۔دریں اثنا ءایس آر ٹی کی لیب بند ہو جانے سے شنکر راو چوہان میڈیکل اسپتال میں تمام سویب نمونوں کی جانچ کی جائے گی جس سے یہاں پر کام کا بوجھ بڑھ جائے گا۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ رپورٹ تاخیر سے موصول ہوگی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading