ناندیڑ: 21 اکتوبر ۔(ورق تازہ نیوز)مہاراشٹراسمبلی چناو کے لئے آج 21اکتوبر کو ووٹ ڈلے گئے ۔ ناندیڑ حلقہ شمال میں 58.10اور حلقہ جنوب میں 57.01 فیصد پولنگ ہوئی ہے ۔ ناندیڑ شمال حلقہ انتخاب میں اصل مقابلہ ڈی پی ساونت( کانگریس) ‘ بالاجی کلیانکر (شیوسینا)‘ اور ایم آئی ایم کے نامزد امیدوار فیروزلالہ کے درمیان رہا ۔
گزشتہ الیکشن کی طرح اس بار بھی مذہب ‘ذات پات اور علاقہ واریت کی بنیاد پر ووٹ ڈالے گئے ۔ اسی طرح حلقہ جنوب میں کانگریس کے امیدوار موہن ہمبرڈے ‘شیوسنا کی امیدوار راجشری پاٹل‘بی جے پی کے باغی امیدوار دلیپ کندکرتے اوربہوجن ونچت اگھاڑی کے امیدوار فاروق احمد کے درمیان چار رُخی مقابلہ ہورہاہے ۔ لیکن نمبر ایک پر دلیپ کندکرتے اور دوسرے پر راجشری پاٹل دیکھائی دے رہی ہیں ۔ یہاں مسلم ووٹ زبردست پھوٹ کاشکار ہے ۔
مسلم ووٹ کانگریس ‘ونچت اگھاڑی میں زیادہ تقسیم ہوا ۔ کچھ ووٹ ایم آئی ایم کے صابرچاوس کی طرف بھی گیا ہے ۔ دلت ووٹ متحدہ دیکھائی دیا ۔ ونچت اگھاڑی نے شمال اور جنوب دونوں حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے وٹرس کے رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ دلت ووٹ ایک گٹھا ونچت اگھاڑی کی طرف گیا ہے ۔ اس طرح کانگریس کے روایتی مسلم اور دلت اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں ۔شمال حلقہ میںڈی پی ساونت کچھ مسلم ووٹ ملنے کے امکانات ہیں ۔البتہ انھیں مراٹھا‘ودیگر سماج نے ساتھ دیا ہے ۔ ویسے شمال میںڈی پی ساونت کی پوزشن دیگر امیدواروں کے مقابلے کافی مستحکم ہے ۔ووٹوں کی گنتی 24اکتوبر کوہورہی ہے ۔ اسلئے نتائج کاسبھی کوانتظار ہے ۔ کانگریس ‘بی جے پی ‘شیوسینااورایم آئی ایم کے بڑے رہنماوں نے ناندیڑ میں پُرہجوم عوامی جلسوں سے خطاب کیا ۔اس کے باوجود اس الیکشن میں ووٹرس میںجوش وخروش کم دیکھائی دیا ۔ایم آئی ایم اور ونچت اگھاڑی میں اتحاد نہ ہونے سے ان کاووٹ بینک بکھرکررہ گیا ایسا کہاجائے تو درست ہوگا ۔
