ناندیڑ:4دسمبر( ورقِ تازہ نیوز) اپنے شوہر کواغواءکرتے ہوئے اپنے دوستوںکے ساتھ مل کر مارپیٹ اور کھنڈنی وصول کرنے کے الزام میں بیوی کو عدالت نے آج ایک بار پھر دو روزہ پولیس کسٹڈی میں روانہ کیا ہے۔
ٹیکس ایڈوائزر پرکاش تکارام شری رامے کو اس کی بیوی گیتانجلی (35 سال) اور گیتانجلی کے دوست بالاجی شیواجی جادھو (28 سال)، دلیپ سنگھ ہری سنگھ پوار (29 سال)، اوتار سنگھ نانک سنگھ رام گڑیا ( 38 سال) اور امول گووند بکترے ( 26 سال) نے مل کر ایک فوروہیلر میں بٹھاکر اونڈھا روڈ کی سمت لے جاکر اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور زندہ چھوڑنے کے لیے ایک لاکھ روپئے کی کھنڈنی کا مطالبہ کیا۔
اس وقت پرکاش تکارام شری رامے کے پاس صرف 65 ہزار روپئے تھے وہ سب چھین لیے اور مزید پیسے ناندیڑ کو آنے کے بعد دینے کی دھمکی دے کر اسے راستہ پر ہی چھوڑدیا۔ اس معاملہ میں پرکاش شری رامے کی شکایت پر بھاگیہ نگر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد ازاں بھاگیہ نگر پولیس انسپکٹر سدھاکر آڑے کی رہنمائی میں پولیس افسران و ملازمین نے اغواءکرنے والی خاتون اور اس کے دوستوں کو صرف دو گھنٹے کے اندر حراست میں لے لیا۔ اس معاملہ کی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سب انسپکٹر سنیل بھسے کو سونپی گئی۔ سنیل بھسے نے 2 دسمبر کو گیتانجلی اور اُس کے پانچ ملزم دوستوں کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے پولیس کسٹڈی کا مطالبہ کیا۔
عدالت نے گیتانجلی اور دیگر ملزمین کو 4 دسمبر تک پولیس کسٹڈی میں روانہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم آج اُن کی پولیس کسٹڈی ختم ہونے کے بعد پولیس سب انسپکٹر سنیل بھسے، پولیس آفیسر ااوم پرکاش کوڑے، اشونی ایڑکے، پردیپ گردن مارے اور صدیقی نے گیتانجلی اور اس کے ملزم دوستوں کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا اور مزید تحقیقات کے لیے دوبارہ پولیس کسٹڈی کا مطالبہ کیا۔ جس پر فرسٹ کلاس جوڈیشنل مجسٹریٹ نے مذکورہ ملزمین کو دو روزہ یعنی 6 دسمبر تک پولیس کسٹڈی میں روانہ کرنے کا حکم دیا۔