Awhad News 4 Dec 22

24

اوہاڈ تو خواتین کی عزت وآبرو کا محافظ ہے، اس پر الزام عائد کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے

جمعیۃ العلماء مہاراشٹر کے لیگل سیل کے سربراہ گلزار احمد اعظمی کا جیتندراوہاڈ کی مکمل حمایت کا اعلان

ممبئی: ممبراکلوا کے رکن اسمبلی اور سابق کابینی وزیر جیتندراوہاڈ پر عائد کیے جانے والے بے بنیادالزامات کے خلاف ناراضگی اور عوامی حمایت کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے۔نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک بھر کی سرکردہ شخصیات نے اب کھل کر جیتندراوہاڈ کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے یہ اب ایک عوامی تحریک بنتی جارہی ہے۔جمعیۃ العلماء مہاراشٹر لیگل سیل کے سربراہ گلزاراعظمی نے اوہاڈ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوہاڈ پر ایک خاتون سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے کہ وہ ایک ایسے شخص کے کردار کو داغدارکرنے کی کوشش کررہے ہیں جو خواتین کی عزت وآبرو کا محافظ ہے۔اوہاڈ کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں، وہ کسی خاتون سے چھیڑچھاڑ کرنا تودور، ایسی حرکت کرنے والوں کو بھی برداشت نہیں کرے گا۔ افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں پر جو اس طرح کی سازش کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

گلزاراحمد اعظمی کا کہنا ہے کہ ممبرا میں میرا سمدھیانا ہے اور 1985ءسے میرا وہاں آنا جانا ہے۔ میری ایک بچی ممبرا میں ہے۔ میں ممبرا کو اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ ایک ویران سا علاقہ ہوا کرتاتھا۔ ایک مسلم علاقہ ہونے کی وجہ سے ممبرا ہمیشہ ہی سیاسی عدم توجہی کا شکار ہوتاتھا۔نہ کسی نے اس علاقے پر توجہ دی تھی اور نہ ہی اس علاقے کے لوگوں پر۔ حکومت اور کارپوریشن کے سوتیلے رویئے کی وجہ سے یہاں پر انفراسٹرکچر کی حالت بہت لچر تھی۔ بجلی پانی کی سپلائی بھی برائے نام تھی۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی تھیں۔ممبرا نے ممبئی کے فسادات میں بے گھر ہوئے لوگوں کو اپنے دامن میں پناہ دی، لیکن اسی کے ساتھ ہی یہ شہر فرقہ پرست طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا۔ کچھ لوگ اسے دہشت گردی کا گڑھ کہنے لگے تو کچھ لوگ منی پاکستان۔ یہاں پر آئے دن چھاپے اور گرفتاریوں کی خبریں اخبارات کی شاہ سرخیاں بننے لگیں۔ یہاں کے لوگوں کو اپنے بچوں کو پڑھانے کے لئے اچھے اسکولوں میں ایڈمیشن نہیں ملتا تھا۔ بینک ممبرا کے نام پر لون نہیں دیتے تھے۔ پاسپورٹ بنانا تو ناممکن سا تھا، گویا یہ ایک بلیک لسٹڈ ایریا تھا۔ پھر وہ بھی دن آیا جب جیتندراوہاڈ یہاں سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد تو گویا ممبرا کو ترقی کو پرسے لگ گئے۔ جیتندراوہاڈ نے نہ صرف اس علاقے کی کایاپلٹ کردی بلکہ یہاں کے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بھی تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ممبرا کی سڑکیں کشادہ ہوئیں، جدید طرز کی رہائشی عمارتیں تعمیر ہوئیں،اسکول وکالج کھلے، ٹرافک کے مسئلے کے حل کے لیے بائی پاس روڈ تعمیر ہواغرض کہ ایک بلیک لسٹڈ مسلم علاقہ دیکھتے ہی دیکھتے ممبئی کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگیا۔گزشتہ 15؍سالوں میں جیتندر اوہاڈ نے ممبرا اور اس سے متصل کلوا کے لئے جو کچھ کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

گلزاراحمد اعظمی کے مطابق ملی کاموں میں جیتندراوہاڈ کا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا بھی ان کو عوام کا گرویدہ بناتا ہے۔ مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں جو لوگ آر ایس ایس یا اس کے نظریات کے ماننے والے لوگوں کے خلاف ہروقت کھڑے نظر آتے ہیں، ان میں جیتندر اوہاڈ کانام سب سے اوپر رہتا ہے۔ چاہے وہ آر ایس ایس کی فرقہ پرستی ہو یا پھر سناتن سنستھا کی دہشت گردانہ سرگرمیاں جیتندر اوہاڈ ان کے خلاف میدان میں ڈٹے رہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سناتن سنستھا ودیگرفرقہ پرست طاقتوں کے ذریعے انہیں کئی بار جان سے مارنے کی کوشش بھی کی گئی۔ گوری لنکیش کے قتل کے ملزموں کو جب گرفتار کیا گیا تھا تو اس وقت یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ جو لوگ اس قتل میں شامل ہیں، وہ جیتندر اوہاڈ کو بھی قتل کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ایسے شخص کے خلاف اگر کچھ لوگ الزامات عائد کرتے ہیں اور اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ یہ سب ایک سیاسی سازش کے تحت ہے۔ اوہاڈکے خلاف ایک گندی سیاست کھیلی جارہی ہے لیکن مجھے اطمینان ہے کہ نہ صرف ممبرا بلکہ پورے ریاست کی عوام اس سازش کو مکمل طور پر سمجھ رہی ہے۔ میں جیتندراوہاڈ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہوں۔