ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز) پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل پر جمعرات 13 اگست 2026 کو ضلع ناندیڑ کے مدکھیڑ تعلقہ کے موضع موگٹ میں واقع گردوارہ ماتا صاحب دیوا جی کے احاطے میں خنجر (کرپان) سے حملہ کیا گیا، جس میں وہ زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق سکھبیر سنگھ بادل دوپہر تقریباً 1:50 بجے گردوارہ میں درشن کے بعد سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے، اسی دوران ایک سکھ سیوادار نے ان کے ہاتھ پر خنجر سے وار کر دیا۔ حملے کے دوران ان کی حفاظت کے لیے آگے آنے والے ایس پی یو کے پولیس انسپکٹر سنتوش کیندرے بھی زخمی ہو گئے۔
دونوں زخمیوں کو فوری طور پر ناندیڑ کے یشوسائی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں کی حالت خطرے سے باہر اور مستحکم ہے۔حملہ آور سیوادار کو پولیس نے موقع پر ہی حراست میں لے لیا ہے اور واقعہ کے سلسلے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔یہ معلومات ناندیڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ میں دی گئی ہیں۔ناندیڑ کے ضلع مجسٹریٹ راہل کارڈیلے نے واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ سکھبیر سنگھ بادل ذاتی دورہ پر گرودوارہ پہنچے تھے۔ انھیں طے وقت کے مطابق پوری سیکورٹی دی گئی تھی۔ جب وہ گرودوارہ پہنچے تو اچانک ایک شخص گرودوارہ احاطہ میں داخل ہوا اور ان پر حملہ کر دیا۔
ضلع مجسٹریٹ نے سکھبیر بادل کو ہلکی چوٹیں آنے کی جانکاری دی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ کو بچانے پہنچے پولیس انسپکٹر کو بھی ہلکی چوٹیں آئی ہیں۔اس حملہ کے بعد جب سکھبیر بادل اسپتال پہنچے تو وہاں کچھ لوگوں نے ان کی ویڈیوز بنائیں، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ وہ ہاتھ پر کپڑا رکھ کر اسپتال میں داخل ہو رہے ہیں۔ حملہ کو واقعہ کے فوراً بعد ہی حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس اس سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ سکھبیر بادل کی سیکورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے۔گرودوارہ بورڈ کےسابقہ سیکریٹری رویندرسنگھ بونگئی نے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ فی الحال بادل صاحب کی طبعیت بہتر ہے ۔
وزیراعظم نریندر مودی ٗ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس ٗ نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے سکھبیر بادل سے موبائل فون پر بات چیت کی اور انکی جلد صحت یابی کی دعا کی ۔اور حملہ کی تفتیش کا تیقن دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ کیا گیا ہے۔ 4 دسمبر 2024 میں امرتسر واقع سورن مندر کے باہر بھی ان پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ ان پر گولی چلانے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ سکھ طبقہ میں ان کے خلاف کچھ ناراضگی بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہے، لیکن تازہ حملہ کیوں کیا گیا ہے، اس بارے میں فی الحال کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔