ناندیڑ: 17؍دسمبر ( ورقِ تازہ نیوز) ایک مہینہ قبل ہوئے جھگڑے سے مشتعل ہوکر 14 دسمبر کو ایک نوجوان کو زبردستی فوروہیلر گاڑی میں بٹھاکر چار افراد نے مارپیٹ کی تھی، جس کے بعد اتوارہ پولیس نے ان میں سے تین ملزمین کو حراست میں لیا ہے۔ آج فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کورٹ نے ان تینوں کو دو دن یعنی 19 دسمبر تک پولیس کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔
شیخ الیاس شیخ آغا میاں کی دی گئی شکایت کے مطابق وہ اردھاپور سے اپنے آٹو کو لے کر صبح سات بجے دیگلور ناکہ کے قریب برکت کامپلیکس کے پاس آئے۔ تاہم اردھاپور کے مسافرین لے کر جانے کے انتظار کے دوران MH26-BE-0520 پر فوروہیلر گاڑی سے چار افراد اُترے اور انہوں نے مجھے قدیم رنجش کی بنیاد پر گاڑی میں مارپیٹ کرتے ہوئے نامعلوم مقام پر لے گئے۔ اور وہاں ہاکی اسٹک سے شدید مارپیٹ کی۔ زخمی حالت میں شیخ الیاس کو حملہ آوروں نے دیگلور ناکہ لے کر آئے اور چھوڑ دیا۔
جس کے بعد شیخ الیاس کے والد کو اس واقعہ کی کسی نے فون پر اطلاع دی گئی۔ اس شکایت کی بنیاد پر ناندیڑ دیہی پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 365، 326، 324 اور 34 کے تحت مقدمہ نمبر 377/2023 درج کیا ۔ اس معاملہ کی تفتیش پولیس انسپکٹر سنتوش تامبے کی رہنمائی میں شیخ اسد کررہے ہیں۔ 16 دسمبر کو پولیس نے محمد ابرار محمد ابراہیم (24سال، ساکن رضا نگراتوارہ، ناندیڑ) ، راہول رام کریل ( 25 سال، ساکن رضا نگر اتوارہ)، شبھم کشن پردیشی ( 26 سال، ساکن گاڑی پورہ، حال مقیم شکتی نگر ناندیڑ)،
ان تینوں کو گرفتار کرلیا۔ پولیس سب انسپکٹر شیخ اسد، پولیس کانسٹیبل ریوناتھ کول نورے، لکشمن داسر واڑ، موہن ہاکے، حبیب چائوش، امول بھوکرے وغیرہ نے مذکورہ تین ملزمین کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے پولیس کسٹڈی کا مطالبہ کیا۔ تب عدالت نے ملزمین کو دو یوم کی پولیس کسٹڈی میں روانہ کرنے کا حکم دیا۔