حماس کی اسرائیل کے اندر تاریخ کی مہلک ترین کارروائی کو آج ایک برس مکمل ہو چکا ہے، لیکن آج بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اسرائیل کے سکیورٹی ادارے آخر اِس اتنے بڑے حملے کی آمد کو کیوں بھانپ نہ سکے اور یہ ادارے کیسے اتنی آسانی سے حماس کے قابو میں آ گئے؟
غزہ کی پٹی سے ایک کلومیٹر دور واقع ایک اسرائیلی فوجی اڈے پر اُس روز (سات اکتوبر 2023) جو کچھ ہوا، بی بی سی نے اس کی تفصیلات وہاں موجود اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے اہلخانہ کے ذریعے حال کی ہیں اور ان بیانات تک رسائی حاصل کی ہے جو اسرائیلی فوج نے متاثرہ فوجیوں کے خاندانوں کو دیے ہیں۔
آج سے ٹھیک ایک برس قبل یعنی سات اکتوبر کی صبح حماس کے مسلح افراد نے ’ناحل عوز‘ نامی اسرائیلی فوجی اڈے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 60 سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ دیگر کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس بڑے حملے کے بعد حماس کے جنگجوؤں نے اس فوجی اڈے پر اپنا قبضہ جما لیے۔

ایک سال گزرنے کے باوجود بھی اسرائیلی فوج نے کوئی سرکاری تحقیقات شائع نہیں کیں جن سے معلوم ہو سکے کہ آخر اُس روز ’ناحل عوز‘ فوجی اڈے پر ہوا کیا تھا۔ لیکن وہاں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کے رشتہ داروں کو سرکاری سطح پر حماس کی اُس روز کی گئی کارروائی کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کیا جا چکا ہے۔ اِن خاندانوں نے حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی کچھ تفصیلات بی بی سی کے ساتھ شیئر کی ہیں۔
سات اکتوبرکو ’ناحل عوز‘ اڈے پر جو کچھ ہوا وہ اسرائیلی فوج کے اُس مؤقف کے قریب ترین ہے جو ہم حاصل کر سکے ہیں۔
اُس دن اس فوجی اڈے پر جو ہوا اور جس رفتار سے ہوا، اُس کی کہانی ترتیب دینے کے لیے ہم نے وہاں زندہ بچ جانے والوں سے بھی بات کی، ہلاک ہونے والوں کے پیغامات دیکھے اور حملے کی ابتدائی اطلاع دینے والی ریکارڈنگ بھی سُنی۔ موصول ہونے والی اس تمام تر تفصیل سے ایک تصویر اُبھر کر سامنے آتی ہے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا کہ:
سات اکتوبر کے حملے سے قبل یہاں تعینات بہت سے فوجیوں نے سرحد کے پار (یعنی غزہ کی سائیڈ پر) بہت سی مشکوک سرگرمیوں کو نوٹس کیا تھا، ان سرگرمیوں کو نوٹس کرنے والوں میں غزہ، اسرائیل سرحد پر تعینات وہ خواتین فوجی اہلکار بھی تھیں جن کی ذمہ داری سرحد پر لگے کیمروں کی مانیٹرنگ کرنا تھا
سرحد پر تعینات فوجیوں نے نوٹس کیا تھا کہ سات اکتوبر کو ہونے والے بڑے حملے سے چند روز قبل یہ مشکوک سرگرمیاں حماس کی جانب سے اچانک ختم کر دی گئی تھیں
اس فوجی اڈے پر تعینات بہت سے اسرائیلی فوجی اہلکار غیر مسلح تھے اور یہاں رائج سرکاری پروٹوکول کے مطابق اگر یہاں کسی قسم کا حملہ ہوتا ہے تو انھیں آگے بڑھ کر جواب دینے کے لیے بجائے پسپائی اختیار کرنا تھی
یہاں نصب نگرانی کے کچھ آلات یا تو اُس روز کام نہیں کر رہے تھے اور بقیہ حماس کے حملہ آوروں کی جانب سے آسانی سے تباہ کیے جا سکتے تھے
ہم نے جو تفصیلات حاصل کی ہیں اُن سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں جیسا کہ سرحد کے انتہائی نزدیک واقع ایک فوجی اڈے پر اتنی کم تعداد میں مسلح اہلکار کیوں تعینات تھے؟ سرحد کے نزدیک مشکوک سرگرمیاں نوٹس کیے جانے کے باوجود بروقت بچاؤ کے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ حملے کے بعد اس اڈے پر فوجی کمک پہنچنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟ اور کیا اڈے کے انفراسٹرکچر نے وہاں تعینات لوگوں کو غیرمحفوظ بنا دیا تھا؟
بی بی سی نے موصول ہونے والی تمام تر تفصیلات اسرائیلی فوج کے سامنے رکھیں، جس نے جواب میں فوج نے کہا کہ ’ناحل عوز‘ فوجی اڈے سمیت سات اکتوبر کو پیش آنے والے تمام واقعات، اور اس سے پہلے کے حالات کی جامع تحقیقات جاری ہیں۔
چلیے اب پڑھتے ہیں کہ حملے کے روز اِس فوجی اڈے پر کیا ہو رہا تھا۔
سات اکتوبر کے روز شیرون (فرضی نام) نے مقامی وقت کے مطابق چار بجے ’ناحل عوز‘ پر اپنی شفٹ کا آغاز کیا۔ یہ فوجی اڈہ غزہ کی سرحدی باڑ سے تقریباً ایک کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔
شیرون خواتین کے اُس فوجی یونٹ کا حصہ تھیں، جسے عبرانی زبان میں ’تتزپیٹانیوٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اُن کے فرائض میں باڑ کے ساتھ لگے کیمروں کے ذریعے براہ راست حاصل ہونے والی فوٹیج کا معائنہ کرنا تھا۔خواتین اہلکاروں پر مشتمل یہ اسرائیلی فوجی یونٹ ناحل عوز کے وار روم یا ’ہمال‘ میں شفٹوں میں کام کرتا تھا اور ان کے بنیادی فرائض میں دن کے 24 گھنٹے کیمروں کے ذریعے باڑ کے اُس پار غزہ کی صورتحال کا جائزہ لینا اور اسے رپورٹ کرنا تھا۔
درحقیقت وار روم یا ’ہمال‘ کھڑکیوں کے بغیر ایک مضبوط اور بڑا کمرہ ہے جس کی خصوصی دیواریں دھماکوں کو برداشت کر سکتی تھیں جبکہ اس کمرے میں نصب دروازے بھی انتہائی مضبوط تھے اور اس کمرے میں داخل ہونے کے سخت حفاظتی پروٹول تھے۔

اسرائیلی فوج نے سات اکتوبر کو یہاں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے اہلخانہ کو بتایا ہے کہ اُس روز یہاں تعینات بہت سے فوجی اہلکار غیر مسلح تھے۔
اسرائیلی فوج کے آپریشنز ڈویژن کے سابق سربراہ جنرل اسرائیل زیو نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی ملازمت کے دوران سرحدی علاقوں میں کبھی بھی غیر مسلح فوجی تعینات نہیں ہوتے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سپاہی ہتھیارکے بغیر۔۔۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔‘
اُس دن ناحل عوز پر جو مسلح اہلکار تعینات تھے اُن میں سے چند کا تعلق اسرائیلی فوج کے گولانی بریگیڈ کی انفنٹری یونٹ سے تھا۔
اس سے قبل بی بی سی نے خبر دی تھی کہ خواتین پر مشتمل فوجی یونٹ ’تتزپٹانیوٹ‘ کی اہلکاروں نے باڑ کے دوسری جانب سات اکتوبر 2023 سے قبل مشکوک سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا تھا لیکن اب بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ’تتزپٹانیوٹ‘ یونٹ کے علاوہ اِس اڈے پر تعینات مختلف یونٹوں سے تعلق رکھنے والے فوجیوں نے اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
تاہم اسرائیلی فوجیوں کو مشکوک سرگرمیوں کے بعد باڑ کے اُس پار یعنی غزہ میں 7 اکتوبر سے کچھ روز پہلے خاموشی ہو گئی تھی۔
اڈے پر تعینات ایک فوجی یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ (سات اکتوبر سے قبل) ’وہاں کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا، اور یہی بات ہمیں پریشان کر رہی تھی۔ ہر کسی کو لگ رہا تھا کہ کچھ عجیب ہے، لیکن کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔‘
جنرل زیو کہتے ہیں کہ سات اکتوبر سے قبل جو کچھ ہو رہا تھا اس کو سمجھنے میں ناکامی دراصل اسرائیلی فوجی کے تکبرانہ رویے کی وجہ سے تھی۔ یعنی وہ تکبرانہ خیال کہ ’حماس حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا اور اگر کوشش کی بھی تو اس میں اتنی صلاحیت ہی نہیں۔‘
’ہم 6 تاریخ کو یہ سوچ کر سوئے تھے کہ وہاں ایک بلی ہے اور ہم 7 تاریخ کو جا گے تو وہاں ایک شیرتھا۔‘
مقامی وقت کے مطابق صبح کے ساڑھے پانچ بجے ناحل عوز پر تعینات گولائی بریگیڈ کے مسلح جوان باڑ کے ساتھ اسرائیلی حصے میں جیپ پر گشت شروع کرنے کی تیاری کر رہے تھے، وہ یہ گشت ہر صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے کرتے تھے۔
اُن میں سے تین فوجیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اُس روز اعلیٰ حکام نے ممکنہ ٹینک شکن میزائل حملے کے خدشے کے پیش نظر گشت میں تاخیر کرنے اور پیچھے کھڑے ہونے کا حکم دیا تھا۔
ایک اور فوجی نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایک وارننگ جاری ہوئی اور ہمیں باڑ کے ساتھ والے راستے پر جانے سے منع کر دیا گیا تھا۔‘
ایک اور21 سالہ فوجی شیمعون مالکا نے کہا کہ ’اس طرح کی وارننگ جاری ہونا غیرمعمولی بات تھی لیکن ایسی کوئی انہونی بھی نہیں تھی۔ لہذا انھوں نے اس کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی۔‘بی بی سی کے ساتھ شیئر کیے گئے اسرائیلی فوج کے ’فیملی بریفنگ نوٹ‘ کے مطابق 06:40 بجے ناحل عوز پر موجود آبزرویٹری کو راکٹ سے نشانہ بنایا گیا، اس حملے میں آبزرویٹری کو نقصان پہنچا۔
اسرائیلی فوج نے ناحل عوز اڈے پر موجود اہلکاروں کے اہلخانہ کو بتایا کہ اڈے کے مرکز یعنی ہمال (وار روم) میں نصب سنائپرز کو دیکھنے اور نشانہ بنانے کے نظام کو فعال کیا گیا اور ایک افسر نے سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے مسلح افراد پر ریموٹ کے ذریعے گولی چلانے کی کوشش بھی کی تھی۔
یہ وہ موقع پر انفنٹری افسران بھی ہمال میں موجود خواتین اہلکاروں کے یونٹ ’تتزپٹانیوت‘ تک پہنچ گئے۔ شیرون یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ایک انفنٹری کمانڈر پاجامے میں وہاں آ گئیں۔
اور پھر جیسے جیسے مسلح افراد نگرانی کے کیمروں پر فائرنگ کرتے رہے، ہمال میں نصب مانیٹرنگ سکرینوں پر اندھیرا چھانے لگا۔
جنرل زیو کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے حملوں سے قبل حماس جو ہفتوں سرحد پر نگرانی کرنے والے کیمروں کے سامنے موجود تھے وہ ایک حکمت عملی تھی۔
الرؤے نامی اہلکار اسرائیلی فوج کی ’بیلون آبزویٹری‘ (نگرانی کرنے والے غبارے) میں موجود پانچ افراد میں سے ایک تھے۔ اُن کے والد رفیع بن شتریت نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کا بیٹا راکٹ فائر ہونے اور بعدازاں بجنے والی سائرن کی آواز سُن کر جاگا۔
اسرائیلی فوج نے بعد میں الرؤے کے اہلخانہ کو ابتدائی تحقیقات کی تفصیلات فراہم کیں کہ اُس دن کیا ہوا تھا۔ناحل عوز کے مقام پر موجود یہ غبارے غزہ پر گہری نظر رکھتے تھے اور وہ 24 گھنٹے متحرک رہتے ہیں لیکن 7 اکتوبر کو سرحد پر موجود تین غباروں میں سے صرف ایک کام کر رہا تھا۔