میں کوئی ٹرمپ نہیں ہوں، اپنے لوگوں کو تڑپتے ہوئےنہیں دیکھ سکتا : وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے

samnaممبئی : 22 جولائی ( یو این آئی ) میں کوئی ٹرمپ نہیں ہوں، اپنے لوگوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتے ہوئےنہیں دیکھ سکتا، اس طرح کا اظہار خیال مہاراشٹرا کے و زیر اعلیٰ اور شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کی ہی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور شیو سینا کے ترجمان اخبار سامنا کے ایگزیکٹو ایڈیٹر سنجے راؤت کو دیئے گئے انٹرویو میں جو آیندہ 25 اور 26 جولائی کو دو حصوں میں شائع اور نشر کیا جائے گا انھوں نے کورونا وائرس کے تناظر میں ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اس طرح کا باالوسطہ طنز کیا۔


راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار کے انٹرویو کے بعد ، اب شنجے راؤت نے ،ریاستی وزیر اعلی کا انٹرویو لیا ہے، جس میں انھوں نے ادھوٹھاکرے سے مختلف مضوعات پر سوالات کیے۔ جلد ہی نشر کیے جانے والے اس انرویو کے بارے میں سنجے راوت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ شیئر کی ہے۔ جس میں ایک ویڈیو کلپ ادھو ٹھاکرےیہ بات کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔


اس انٹرویو میں ریاست کی کورونا صورتحال اور ٹھاکرے حکومت کے چھ ماہ کے دورانیے کے بارے میں بہت سارے سوالات پوچھے گئے ہیں۔ اس کی جھلک اس پرموشنل ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہے۔وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ریاست میں کورونا اور لاک ڈاؤن کی صورتحال کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے حزبِ اختلاف کی تنقید کا بھی جواب دیا۔ پچھلے چھ مہینوں میں مختلف چیلنجز سامنے آئے تھے۔


ریاست میں وبائی مزض کورونا اور لاک ڈاؤن کے ضمن میں اپنے لائحہ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کورونا بحران ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی۔ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ الاک ڈاؤن ہے، ایک ایک چیز ہم حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، میں ٹرمپ نہیں ہوں ، میں اپنے لوگوں کو اپنی نظروں کے سامنے تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔


واضح رہے کہ اس سے کچھ دن قبل، سنجے راوت نے این سی پی کے صدر شرد پوار کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں ، شرد پوار نے ملک اور ریاست کی سیاسی پیشرفتوں اور صورتحال پر، کھلے دل سے تبصرے کیے ھے۔لہذا اب 25 اور 26 جولائی کو دو حصوں میں شائع ہونے والے ادھو ٹھاکرے کے اس انٹرویو پر سبھی کی نگاہیں لگی ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading