میں رحم نہیں کر سکتا، ہمارا کام صرف قتل کرنا ہے‘: سوڈان کا بدنام زمانہ مسلح گروہ، ایک ’بے رحم‘ کمانڈر اور قتل عام پر جشن کی لرزہ خیز ویڈیوز

انتباہ: اس خبر میں قتلِ عام کی کچھ تکلیف دہ تفصیلات شامل ہیں

ایک ٹرک کے پیچھے سوار جنگجو نو لاشوں کے قریب سے تیزرفتاری سے گزرتے ہوئے قہقہ لگاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے ’یہاں دیکھو، اس قتل عام کو دیکھو۔‘وہ کیمرہ کا رخ اپنی جانب کرتا ہے اور ساتھ میں دیگر ججنگجو بھی نظر آتے ہیں جن کے یونیفارم پر ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ (آر ایس ایف) کا بیج نمایاں ہے اور کہتا ہے: ’یہ سب اسی طرح مریں گے۔‘

یہ جنگجو گزشتہ ماہ سوڈان کے شہر الفاشر میں ہونے والے اس قتل عام پر جشن منا رہے تھے جس کے بارے میں حکام کو خدشہ ہے کہ اس دوران مجموعی طور پر 2000 افراد ہلاک ہوئے۔

سوموار کے دن انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ آیا آر ایس ایف نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا یا نہیں۔

الفاشر شہر آر ایس ایف نامی سوڈانی نیم عسکری فورس کا اہم ہدف تھا۔ سوڈان کی باضابطہ فوج کے لیے دارفور میں یہ آخری گڑھ تھا۔ آر ایس ایف 2023 سے سوڈان کی فوج کے خلاف تباہ کن جنگ لڑ رہی ہے۔ گزشتہ دو سال میں ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دونوں فریقین پر جنگی جرائم کے الزامات لگ چکے ہیں۔

الفاشر: دنیا سے کٹا ہوا شہر
آر ایس ایف نے دو سال سے اس شہر کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اگست میں آر ایس ایف نے باقی ماندہ شہری آبادی کو بھی گھیرے میں لے لیا تھا۔

سیٹلائیٹ کی مدد سے حاصل شدہ تصاویر بتاتی ہیں کہ الفاشر کے گرد ریت کی مدد سے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور تمام راستے بند کر دیے گئے تھے۔ 19 ستمبر کو آر ایس ایف کے ایک مسجد پر حملے میں 78 افراد ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر میں ایک کیمپ پر ڈرون اور توپ خانے کی بمباری سے 53 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
بی بی سی نے ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ آر ایس ایف نے خوراک اور روز مرہ ضروریات کی اشیا تک رسائی بھی روک دی تھی۔ اکتوبر کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص، جس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں، ایک درخت کے ساتھ الٹا لٹکایا گیا ہے اور ویڈیو بنانے والے اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ شہر میں سامان سمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ویڈیو بنانے والا شخص چلاتا ہے ’خدا کی قسم تمھیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘ پھر وہ درخت سے بندھے شخص سے مطالبہ کرتا ہے کہ اپنی جان کی بھیک مانگے۔اس دوران آر ایس ایف شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی جہاں گلیوں میں شدید لڑائی ہوئی۔

غیر مسلح افراد کا قتل
26 اکتوبر کی صبح کا سورج طلوع ہوا تو آر ایس ایف سوڈان کی فوج کے مرکزی اڈے پر قبضہ کر چکی تھی جو خود پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی۔

آر ایس ایف کے جنگجو گرینیڈ لانچر اٹھائے اس اڈے میں قہقہے لگاتے ہوئے گھومتے دکھائی دیے۔ اسی دن آر ایس ایف کمانڈر عبدالرحیم دگالو، جو آر ایس ایف سربراہ محمد ہمدتی دگالو کے بھائی ہیں، اس اڈے کا دورہ کرتے ہوئے نظر آئے۔

آر ایس ایف کا ارتقا جنجاوید نامی ملیشیا سے ہوا تھا جس نے دارفور میں 2003 سے 2005 کے درمیان لاکھوں لوگوں کو قتل کیا تھا اور طویل عرصہ سے اس پر سوڈان میں غیر عرب گروہوں کے خلاف مظالم ڈھانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر پوسٹ ہونے والی ویڈیوز سے ایسا لگتا ہے کہ آر ایس ایف کا ارادہ تھا کہ الفاشر کے عام لوگوں کے خلاف تشدد ہو۔

الفاشر پر قبضے سے قبل کئی ماہ تک اس شہر کے بارے میں کم ہی اطلاعات باہر نکل سکی تھیں۔ تاہم سوڈانی فوج کی شکست کے چند ہی گھنٹوں کے اندر آر ایس ایف کی جانب سے مظالم کی فوٹیج دکھائی دینا شروع ہوئی۔

ان میں سے ایک ویڈیو، جس کا تجزیہ بی بی سی ویریفائی نے کیا ہے، میں شہر کے مغربی حصے میں واقع ایک یونیورسٹی کی عمارت میں قتل عام کے بعد کے مناظر نظر آتے ہیں جہاں درجنوں لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔

ایک ادھیڑ عمر شخص سفید لباس میں لاشوں کے بیچ تنہا بیٹھا ہوا ہے۔ ایک مسلح جنگجو بندوق اٹھائے اس کی جانب بڑھتا ہے تو وہ مڑ کر اسے دیکھتا ہے۔ مسلح شخص اپنی بندوق سے ایک گولی چلاتا ہے اور ادھیڑ عمر شخص زمین پر گر جاتا ہے۔ دیگر جنگجو اس دوران فوری طور پر بات کرتے ہیں کہ لاشوں کے بیچ ایک شخص کی ٹانگ ہل رہی ہے۔

ان میں سے ایک چلاتا ہے: ’یہ اب تک کیوں زندہ ہے؟ اسے گولی مارو۔‘

ییل ہیومینیٹیریئن ریسرچ لیب کی ایک رپورٹ کے مطابق 26 اکتوبر کی سیٹلائیٹ تصاویر سے ثابت ہوتا ہے کہ الفاشر کی گلیوں میں بھی قتل عام ہوا۔ لیب کے تجزیہ کاروں نے تصاویر میں انسانی لاشوں کی موجودگی دیکھی اور زمین پر پرانی تصاویر کا بھی جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ اس مقام پر انسانی خون کی وجہ سے رنگ بدل چکا تھا.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading