’میں تو زندہ ہوں‘، جب میڈیا نے مولانا طارق جمیل کے بیٹے کی غلط تصویر چلائی

وہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر کافی متحرک رہتے ہیں اور اپنے کام کے حوالے سے بھی سرگرمیاں شیئر کرتے رہتے ہیں، اس لیے ان کی تصویریں اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔

میڈیا نے عاصم جمیل کی تصویر مولانا طارق جمیل کی تصویر کے ساتھ نشر کی۔ (فوٹو: میڈیا)

عاصم جمیل کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے ان کی تصویر کس نے کہاں سے اٹھائی ہے۔

’قوی امکان ہے کہ لوگوں نے عاصم جمیل کا نام سرچ کیا ہو گا جس پر میری تصویر سامنے آئی ہو گی تو انہوں نے مجھے مولانا طارق جمیل کا بیٹا سمجھا اور خبروں میں میری تصویر لگا دی۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان والے پریشان تھے لیکن ان کے گھر پہنچنے ہر سب کو تسلی ہو گئی۔

’میں گھر آیا جہاں سارے میرے حوالے سے پریشان تھے۔ میری واپسی پر ان کو تسلی ہوئی۔ اس کے بعد میں نے خود اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی وضاحت دی تاکہ عزیز و اقارب آگاہ ہو جائیں۔‘

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری وضاحتی پیغام میں بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں اور ان کی تصویر میڈیا نے مولانا طارق جمیل کے بیٹے سے غلطی سے منسوب کی ہے۔

انہوں نے درخواست کی ’میڈیا پلیٹ فارمز کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مکمل تصدیق کے بعد ایسی خبر یا تصویر شائع کرنی چاہیے تاکہ کسی کو اس قدر پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading