’مہاراشٹر میں صدر راج کی سفارش جمہوریت کا قتل‘

نئی دہلی: مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) نے مہاراشٹر میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی سخت تنقید کی ہے اور اسے جمہوریت کا قتل بتایا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے منگل کے روز ٹوئٹ کر کے کہا ہے کہ جب مہاراشٹر کے گورنر نے این سی پی سربراہ شرد پوار کو آج رات 8 بجکر کر 30 منٹ تک کا وقت دیا تھا تو وقت گزرنے سے قبل ہی صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کیوں کر دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں و کشمیر، منی پور، گوا اور اتراکھنڈ سمیت تمام ریاستوں میں حکومت بنانے کے لئے اسی طرح وفاقی ڈھانچے کے ضابطوں اور روایات کی خلاف ورزی کر کے جمہوریت پر کھلے عام حملے کرتی رہی ہے۔ مہاراشٹر میں بھی اس نے یہی کیا ہے۔

’کانگریس کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کیوں نہیں کیا گیا‘

ادھر، کانگریس نے کہا ہے کہ جب تمام سیاسی جماعتوں کو مہاراشٹر میں حکومت تشکیل دینے کے لئے مدعو کیا اور وقت دیا گیا تو پھر کانگریس کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔

چوہان نے کہا کہ سب سے بڑی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کو سب سے پہلے وقت دیا اور اس کے بعد شیو سینا کو وقت دیا گیا جبکہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو آج رات ساڑھے8 بجے تک وقت دیا گیا لیکن گورنر نے کانگریس کو حکومت بنانے کے لئے مدعو نہیں کیا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر سشیل کمار شندے نے کہا کہ اگر گورنر راج نافذ بھی ہو جاتا ہے اور اگر کوئی پارٹی اکثریت کے ساتھ گورنر کے پاس جاتی ہے تب بھی حکومت بن سکتی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading