شیو سینا نے اپنی 60 سالہ روایت کو توڑتے ہوئے بال ٹھاکرے کے پوتے آدتیہ ٹھاکرے کو ممبئی کی ورلی اسمبلی سیٹ سے انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ شیو سینا کے اس قدم سے سیاسی حلقوں میں خاص طور سے بی جے پی میں زبردست بے چینی پیدا ہو گئی ہے کیونکہ سب کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب شیو سینا کی نظر ریاست کی وزیر اعلی کی کرسی پر ہے۔
اس بیچ شیو سینا کے سینئر رہنما سنجے راؤت نے بیان دیا ہے کہ بھلے ہی چندریان 2 لینڈ نہیں کر پایا لیکن آدتیہ ٹھاکرے وزیر اعلی کے دفتر ضرور پہنچیں گے۔ سنجے راؤت نے ورلی اسمبلی حلقہ میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’کچھ تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر چندریان 2 چاند پر لینڈ نہیں کر پایا لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ سورج (آدتیہ ٹھاکرے) 21 اکتوبر کو وزیر اعلی دفتر تک ضرور پہنچے گا۔‘‘ ورلی سیٹ پر شیو سینا کا قبضہ رہا ہے فی الحال شندے اس سیٹ سے رکن اسمبلی ہیں۔
شیو سینا این ڈی اے کی سب سے پرانی پارٹی ہے اور مرکز و ریاست میں بی جے پی کی اتحادی پارٹی ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں شیو سینا اور بی جے پی میں جہاں اتحاد ہے وہیں کانگریس اور این سی پی میں بھی انتخابی اتحاد ہے۔ شیو سینا مہاراشٹر کی 288 اسمبلی سیٹوں میں سے آدھے پر انتخاب لڑنا چاہتی تھی لیکن بی جے پی نے اس کی یہ پیش کش خارج کر دی تھی۔
سال 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور شیو سینا نے علیحدہ چناؤ لڑا تھا اور بی جے پی کو 122 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی جبکہ شیو سینا صرف 63 سیٹیں ہی جیت پائی تھی۔ اس وقت کانگریس 42 سیٹوں پر اور این سی پی 41 سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی۔
شیو سینا نے آدتیہ ٹھاکرے کو انتخابی میدان میں اتار کر بی جے پی کو واضح سیاسی پیغام دے دیا ہے کہ وہ اب مہاراشٹر سیاست میں مزید متحرک ہونے والی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں یہ بات ہو رہی ہے کہ آدتیہ ٹھاکرے کے میدان میں اتارنے سے اب شیو سینا باقائدہ سودے بازی کرے گی اور بہت ممکن ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد آنکھے بھی دکھائے۔ یہ بھی بات کہی جا رہی ہے کہ آدتیہ ٹھاکرے کو وزیر اعلی کی کرسی ملے یا نہ ملے لیکن نائب وزیر اعلی تو وہ بن ہی سکتے ہیں، لیکن اس کے لئے دونوں پارٹیوں کو انتخابات میں اچھی سیٹیں لانی پڑیں گی۔ سیاسی پنڈتوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقتصادی محاذ پر عوامی ناراضگی کی وجہ سے کانگریس اور این سی پی انتخابات میں بہت اچھا کریں گی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
