مہاراشٹر سمیت ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ملی اور سیاسی اتحادلازمی،مسلم عمائدین کا اظہار خیال

mumممبئی23 جولائی (یواین آئی)مہاراشٹر سمیت ملک کے موجودہ سنگین حالات کا سبھی کوعلم اور اسکا مقابلہ کرنے کے لیے ملی اور سیاسی اتحادلازمی ہے کیونکہ فرقہ پرستوں اور ہمارے اپنے درمیان پائی جانے والے ملت فروشوں کی شناخت کرتے ہوئے ،انہیں کیفرکردار تک پہنچا جائے ۔بلکہ عام لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ حالات سے مایوس نہ ہوں،اور ایسی طاقتوں کا ڈٹ کر سامنا کیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار ممبئی اورمہاراشٹر کے علماءکرام ،عمائدین اور سیاسی شخصیات نے مہاراشٹر اسمبلی میں حال میںکانگریس کے ڈپٹی لیڈر مقررکیے گئے سنیئر لیڈرعارف نسیم خان کے لیے منعقدہ تہنیتی جلسہ میں کیا۔اس موقع پرسیوا نامی این جی اوکی نئے صدرشہزادیوسف ابراہانی اور ان کے معاوئین کی بھی تہنیت کی گئی ،جوکہ سابق ایم ایل اے اور اسلام جمخانہ کے صدرایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کے صاحبزادے ہیں،حاضر ین سے خطاب کرتے ہوئے عارف نسیم خان نے مزید کہا کہ حالات انتہائی سنگین ہیں اور ایساماحول ہے کہ ارباب اقتدار کو حزب مخالف اور عام آدمی کی کوئی پروا نہیں ہے اور نہ ہی وہ ان کے مسائل کو حل کرنے کے حق میں ہیں۔یہ ایک ذہن بن چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ مہاراشٹرمیں دوتین مہینے میں اسمبلی انتخابات ہیں اور سیاسی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں ،نئے نئے تجربات کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں اور ایک خدشہ یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کو ایوان سے دوررکھنے کی منصوبہ سازی کی جارہی ہے تاکہ مستقبل میں اپنی من مانی کی جاسکے ۔یہ صحیح ہے کہ ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم کی جڑیں کافی مضبوط ہیں ،لیکن اس کو پیش کرنے کے طریقہ کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے جوکہ ان جڑوں کو کھوکھلا کرنا ہوگا ۔عارف نسیم خان نے کہا کہ یہ ایسا دورآیا ہے کہ ہمیں اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور فرقہ پرستوں سے لڑنے اور انہیں زیر کرنا ہوگا تو اپنے معاملات اور ذاتی معاملات کو کنارے رکھتے ہوئے ،غلط اور صحیح کی پہچان کرنا ہوگا۔اس کے لیے عمائدین اور علمائے کرام کو آگے آنا ہوگا۔انہوںنے مسلم ریزرویشن کا ذکرکیا اور کہا کہ حالات کامقابلہ کرنے کے لیے بلاخوف میدان میں آنا ہے تاکہ جمہوریت اور سیکولرزم کی بقا کی جاسکے ۔اس تقریب سے ایم ایل اے امین پٹیل نے کہاکہ حالات یقینی طورپر موافق نہیں ہیں ،لیکن نسیم عارف خان جیسے رہنماءاور بے خوف علمائے کرام کی مددسے ایسے عناصر کو شکست دینے کے لیے ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ،انشاءاللہ مستقبل میں ایک بار پھر کانگریس اور سیکولرپارٹیاں کامیابی حاصل کرکے برسراقتدار آئیں گی اور آپسی انتشار اور پھوٹ ڈالنے والوں طاقتوں کو زیر کیا جائے گا۔اس سے قبل اپنے خطاب میں حافظ اطہر علی نے مسلم عمائدین اور سیاستدانوں کی بہتر کارکردگی کو پیش کرتے ہوئے اس خدشہ کو پیش کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں مسلم عوامی نمائندوں کو شکست دینے کی سازش رچی جارہی ہے جوکہ افسوس ناک ہے اور یہ سب اپنوں کے ذریعہ جاری ہے۔مولانا اعجاز کشمیری ،صحافی سرفراز آرزو،سلیم الوارے ،سعید خان نے بھی خطاب کیا جبکہ اسلام جمخانہ کے صدریوسف ابراہانی نے حاضرین کا شکریہ اداکرتے ہوئے واضح طورپرکہا کہ ہم ایسی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لیے اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ حضرت مولانا معین میاں اشرفی کی سرپرستی میںتقریب ہوئی جبکہ محب ناصر،ایڈوکیٹ مبین سولکر،صحافی خلیل زاہد ،نظام الدین راعین ،جاوید جمال الدین ،نصیر پٹھان ،فاروق سیّد اور دیگر بھی موجودتھے ،فاروق سیّد نے نظامت کی

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading