ممبئی :۹جولائی (یو این آئی )مہاراشٹر کی دیویندر فڈنویس حکومت کی کابینہ نے اپنے تقریبا پانچ سال کے دور اقتدار میں آج پہلی مرتبہ اقلیتوں کی بالخصوص مسلمانوں کے تعلق سے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں خواتین کے بچت گٹ نامی گروپ تشکیل دیئے جائیں گے جس کی رو سے ان کی فلاح و بہبود کی جائے گی۔ 14 اضلاع میں 2800بچت گٹ قائم کیئے جائیں گے اور تقریبا ایک لاکھ اقلیتی خواتین کو مفت سلائی مشین دی جائے گی اور انہیں دیڑھ ماہ کی تربیت دے کر خود کفیل بنایا جائے گا۔ریاستی کابینہ میں کیئے گئے اس فیصلے پر مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے چیئرمین حاجی حیدر اعظم نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2018 میں ریاستی حکومت نے ضرورت مند خواتین و نوجوانوں کیلئے خود روزگار اسکیم تشکیل دی تھی جس کی رو سے ضرورت مند افراد کو کوشلیا وکاس یوجنا کے تحت مختلف چھوٹے موٹے کاموں کی تربیت دی جائے گی اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑے رہنے کیلئے اوزار اور سامان دستیاب کرایا جانا شامل تھا۔ اسی اسکیم میں آج اقلیتی خواتین و نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اقلیتی خواتین اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کیلئے 100کروڑ روپیہ مختص کیاہے جس میں اقلیتی خواتین کو گھریلو استعمال والی مفت سلائی مشین تربیت دینے کے بعد مفت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس یوجنا کے تحت ریاست کے اکولا ، امراوتی ، بلڈھانہ ، ایوت محل ، ہنگولی ، جالنہ ، عثمان آباد ، لاتور ، بیڑ ، چندر پور ، وردھا ، بھنڈارا ، گوندیا نامی اضلاع میں2800بچت گٹ قائم کئے جائیں گے جس می مسلم ،جین، بودھ ، عیسائی ، سکھ ، پارسی اور یہودی شامل ہیں