
موٹاپے سے متعلق ریسرچ کرنے والے ادارے دی اوبیسیٹی سوسائٹی کے محققین نے بتایا کہ یہ موٹے افراد دنیا بھر میں 1.6 فیصد گرین ہاؤس گیس پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
تحقیق کے مصنف فیڈون میگ کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے اوسط سائز میں اضافے کی وجہ سے دنیا میں انسان کے سانس لینے سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو کم کرنے کی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحققین ان لوگوں کے لیے زیادہ اہم ہے جو موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے لیے کام کررہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس میں مختلف عوامل شامل ہیں جن میں موٹے افراد کے میٹا بولیزم کے تیز ہونے کی وجہ سے اضافی کھانا بنانا وغیرہ شامل ہیں۔
دی اوبیسیٹی سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اس نے تحقیق کے لیے گرین ہاؤأس گیسز کے اخراج، ڈیموگرافک ڈیٹا اور موٹاپا پھیلنے کے اعدادوشمار کا استعمال کرتے ہوئے اپنا نتیجہ اخذ کیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ متوسط وزن رکھنے والے افراد کے مقابلے میں بھاری جسامت والے انسان 20 فیصد زیادہ گرین ہاؤس گیسز پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے. جس میں ادارہ نے کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سچ نیوز پاکستان – اصل لنک