
مالیگاؤں: (راست) سیمانچل کے علاقے کشن گنج بہار سے کانگریس پارٹی کے نشان پر منتخب رکن پارلیمینٹ مولانا اسرارالحق قاسمی 7,دسمبر کو جب تہجد کی نماز کیلئے اٹھے ایسے موقع پر اچانک ان کو دل کادورہ پڑا اور داعئی اجل کو لبیک کہہ گئے ان کی رحلت نہ صرف کانگریس بلکہ ملک وقوم کا عظیم نقصان ہے ان تعزیتی جملوں کیساتھ مالیگاؤں کے رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے مولانا اسرارالحق قاسمی ممبر آف پارلیمینٹ اور ازہر ایشیاء دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن کے انتقال پر ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت مالیگاؤں شہر میں علی میاں ندوی لائبریری کی ایک تقریب میں تشریف لائے تھے لائبریری کے ذمہ داران سے یہ کہہ کر مجھے بلوایا تھا کہ مقامی کانگریس کے صدر سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں اور ان کی خصوصی دعوت پر میں نے شرف ملاقات حاصل کیا تھا انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کا رکن،ممبر آف پارلیمینٹ ہونے کے باوجود موصوف کی سادگی دیکھ کر میں تودنگ رہ گیا تھا اسوقت انہوں نے کانگریس کی پالیسی اور مسلمانوں کے ملکی حالات پر جو تبصرہ کیا تھا میں قوم کے تئیں ان کی سنجیدگی،اور تڑپ دیکھ کر ان کا گرویدہ ہوگیا تھا پارلیمینٹ میں مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا کوئی مدعا ہو،قوم مسلم کیخلاف فرقہ پرستوں کی کوئی سازش ہو،یا کانگریس کی ملک گیر پالیسی پر تبصرہ کرنا ہو وہ ببانگ دہل اپنی باتوں کو رکھتے تھے پارلیمینٹ کے اجلاس میں ایک کاغذ ہاتھوں میں لئے خالص اردو میں انتہائی سادہ اور سلیس زبان میں اپنی باتوں کورکھتے تھے وہ ایسے وقت میں بہار کے سیمانچل علاقے سے منتخب ہوئے جب پورے ملک میں مودی لہر چل رہی تھی صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مودی اور نتیش کمار کو ٹکر دیتے ہوئے ان کے حلقۂ انتخاب میں کل چھ اسمبلی نشستوں میں سے پانچ نشستوں پر کانگریس کے رکن اسمبلی منتخب کرنے پر کانگریس صدر شریمتی سونیا گاندھی نے ان کا خصوصی استقبال کیا تھا آصف شیخ رشید نے ان کی رحلت کو ملک اور ملت کا عظیم نقصان قرار دیا.
آصف شیخ رشید مقامی کانگریس کمیٹی قدوائی روڈ پر واقع مولانا اسرارالحق قاسمی کے انتقال پر منعقدہ تعزیتی میٹنگ سے خطاب کررہے تھے ان سے قبل کانگریس ترجمان صابر گوہر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اسرارالحق قاسمی ایک جید عالم کیساتھ ہی ایک ماہر سیاست داں بھی تھے جس وقت پارلیمینٹ میں تین طلاق بل پیش کیا گیا مسلمانوں کے مذہبی معاملات حکومت کی دخل اندازی اور تین طلاق کے موضوع پر انہوں نے نہ صرف زبردست تیاری کی تھی بلکہ شریمتی سونیا گاندھی سے بل پر بحث کرنے کی اجازت بھی لے لی تھی لیکن پارلیمینٹ میں اس بل پر بحث نہ کرتے ہوئے صوتی ووٹوں سے منظوری دیدی گئی تھی جس روز مولانا اسرارالحق قاسمی کا انتقال ہوا اسی روز ممبئی سے شائع ہونے والے اخبار انقلاب میں وراثت انبیا کا تقاضہ اور علمائے کرام میں احساس ذمہ داری پر ایک جامع مضمون شائع ہوا تھا وہ ایک جید عالم دین کیساتھ ہی مدبر سیاست داں،مصلح،مصنف اور صحافی بھی تھے ان کے انتقال کی وجہ سے جو خلاء ہوا ہے اس کا پر ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے.

اس تعزیتی میٹنگ میں سابق کونسلر محمد رضوان،سید مسلم، ظفر احمد، پپو اناؤنسر،جمال الدین سید،زین العابدین پٹھان، ریاض علی یوسف علی،غازی امان اللّٰہ خان،ریاض گیتانجلی،رضوان ثناء،امتیاز کمال،نوید پریم،ابراہیم انقلابی،محمد مسلم، شفیق باکسر،فہیم بادشاہ،مبشر شیخ،مشرف خان،محسن شیخ،یآسین بھیا،رفیق شیخ ،علی احمد سمیت کانگریس پارٹی اور انجمن محبان شیخ آصف کے سینکڑوں جانباز سپآہی شریک تھے تعزیتی میٹنگ کا اختتام مولانا اسرارالحق قاسمی مرحوم کے حق میں دعا برائے ایصال ثواب پر کیا گیا میٹنگ کی صدارت رکن اسمبلی آصف شیخ رشید صاحب انجام دے رہے تھے