مودی کے ساتھ رہنے والی جماعت کا اچانک بدلا موقف، اب سی جے پی کے حق میں آواز بلند

نئی دہلی (ورق تازہ نیوز)ملک کی سیاست میں ان دنوں ایک اہم تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ وائی ایس جگن موہن ریڈی، جو ماضی میں متعدد اہم معاملات پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی حمایت کر چکے ہیں، اب انتخابی کمیشن کے طریقۂ کار اور سی جے پی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے معاملے پر حکومت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ان کے اس بدلے ہوئے موقف نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

انتخابی کمشنروں کی تقرری پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا

اطلاعات کے مطابق، جگن موہن ریڈی نے 2023 میں انتخابی کمشنروں کی تقرری سے متعلق این ڈی اے حکومت کے قانون کی حمایت کرنے پر اب افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس قانون کے تحت انتخابی کمشنروں کی تقرری کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا کو شامل نہیں رکھا گیا تھا، جبکہ وزیر اعظم، وزیر اعظم کی جانب سے نامزد کابینی وزیر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف کو کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا۔

جگن موہن ریڈی نے اس طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی کمشنروں کی تقرری کے عمل میں چیف جسٹس آف انڈیا کا کردار بحال کیا جانا چاہیے، تاکہ آئینی اداروں کی غیر جانب داری اور اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔ ان کے اس بیان کو ان کے سابقہ سیاسی موقف میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سی جے پی رہنماؤں کی گرفتاری پر بھی ردعمل

دوسری جانب، سی جے پی کے رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رنکا کی گرفتاری کے معاملے پر بھی جگن موہن ریڈی نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان رہنماؤں کو دہلی کے جنتر منتر علاقے میں احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ جگن موہن ریڈی نے ان کی حمایت میں آواز اٹھاتے ہوئے حکومت کی کارروائی پر تنقید کی۔

ووٹر لسٹ اور انتخابی عمل پر جاری ہے تنازع

ملک میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے معاملے پر بھی سیاسی تنازع جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور سی جے پی کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرستوں سے حذف ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، انتخابی کمیشن کا موقف ہے کہ اس مشق کا مقصد جعلی، دوہرے اور نااہل ووٹروں کے ناموں کو ہٹانا ہے۔اس معاملے پر اپوزیشن جماعتیں انتخابی کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

سیاسی موقف میں تبدیلی کے کیا معنی ہیں؟

جگن موہن ریڈی کی جانب سے انتخابی کمشنروں کی تقرری کے قانون پر نظرثانی کی حمایت اور سی جے پی رہنماؤں کے حق میں آواز اٹھانے کو سیاسی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، ان بیانات کی بنیاد پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وائی ایس آر کانگریس نے این ڈی اے سے باضابطہ طور پر سیاسی تعلق ختم کر لیا ہے۔

فی الحال، ان کا موقف انتخابی اداروں کی تشکیل، ووٹر فہرستوں اور احتجاج کرنے والے نوجوان رہنماؤں کے ساتھ برتاؤ جیسے معاملات پر سامنے آیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وائی ایس آر کانگریس اپنے اس موقف کو کس حد تک آگے بڑھاتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اس کا تعاون مزید بڑھتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading