مودی حکومت میں قرض کے بوجھ سے دب گئے ہندوستانی، گھٹ رہی گھریلو بچت

معاشی بحران، بے روزگاری، چوپٹ ہوتی صنعت اور مہنگائی کے درمیان ہندوستانی عوام کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں ہندوستانی خاندانوں کا قرض تقریباً دو گنا ہو گیا ہے اور اس دوران کل دینداری 58 فیصد بڑھ کر 7.4 لاکھ کروڑ روپے پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل سال 2017 میں یہ اضافہ محض 22 فیصد رہا تھا۔ یہ اعداد و شمار ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ریسرچ وِنگ کی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

اتنا ہی نہیں ان پانچ سالوں کے دوران ہندوستانی خاندانوں کا قرض دوگنا ہو گیا ہے، جب کہ ملک کے گھریلو بچت میں 4 فیصد کی بڑی گراوٹ درج کی گئی ہے اور یہ 34.6 فیصد سے گر کر 30.5 فیصد پر پہنچ گئی۔ اس دوران خرچ لائق آمدنی (ڈسپوزیبل انکم) محض ڈیڑھ گنا بڑھا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک کی کل بچت میں 4 فیصد کی بڑی گراوٹ آئی۔

گھریلو بچت میں آئی اس بڑی گراوٹ کی وجہ گھریلو سطح پر بچت کی شرح میں آئی کمی کو مانا جا رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک کے خاندانوں کی بچت تقریباً 6 فیصد (جی ڈی پی) گری ہے۔ اعداد و شمار کو دیکھیں تو مالی سال 2012 میں جو گھریلو بچت کی شرح 23.6 فیصد پر تھی وہ 2018 میں گھٹ کر 17.2 فیصد پر سمٹ گئی۔

گھریلو بچت میں آئی اس بھاری گراوٹ کا اثر ملک کی معیشت پر نظر آنے لگا ہے۔ دوسری جانب اس دوران ملک میں نجی سرمایہ کاری میں بھی زبردست کمی آئی ہے۔ سال 2007 سے 2014 کے دوران جہاں نجی سرمایہ کاری 50 فیصد تھی وہ 2014 سے 2019 کے دوران محض 30 فیصد رہی۔

چاروں طرف سے مل رہے اشاروں اور اب یہ تازہ اعداد و شمار صاف بتاتے ہیں کہ یہ محض ایک مالی بحران نہیں ہے۔ اس حالت کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں اور پچھلے پانچ سال میں یہ کافی گہرائی تک پہنچ گئی ہیں۔ اب حالات بے حد فکر انگیز ہو گئے ہیں۔ ایسے میں سبھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ حکومت کچھ بڑے راحتی اقدام کرے گی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading