نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ جمہوریت میں لوگوں کو حکومت کی غلطیوں اور فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے کا پورا حق ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے عوام کی آواز دبانے کےلیے ظلم و جبر کا راستہ اختیار کیا ہے۔
नागरिकता संशोधन कानून भेदभावपूर्ण है। नोटबंदी की तरह एक बार फिर एक-एक व्यक्ति को अपनी एवं अपने पूर्वजों की नागरिकता साबित करने के लिए लाइन में खड़ा होना पड़ेगा : कांग्रेस अध्यक्ष श्रीमती सोनिया गांधी #IndiaAgainstCAA pic.twitter.com/DutghemChe
— Congress (@INCIndia) December 20, 2019
سونیا گاندھی نے جمعہ کے روز جاری کئے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں شہریت ترمیمی قانون کو امتیازی سلوک پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ نوٹ بندی کی طرح لوگوں کو ایک بار پھر اپنی اور اپنے آبا و اجداد کی شہریت ثابت کرنے کے لیے لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا۔اس سے غریبوں اور کمزور لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا اس لیے لوگوں کی تشویش جائز ہے ۔اس مسئلہ پر کانگریس لوگوں کے ساتھ ہے اور عوام کے مفاد کے تئیں عہدبندہے ۔
انھوں نے کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے کہ اس قانون کے خلاف مظاہر کررہے طلبا، نوجوانوں اور شہریوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک ہورہاہے اور انھیں کچلا جارہاہے ۔یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں طلبا کے ذریعہ اس قانون کی مخالفت فطری ہے اور لوگوں کو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آوازاٹھانے کا حق ہے ۔
کانگریس صدر نے کہاکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی آواز دبانے کے بجائے اسے سنے لیکن یہ بات تکلیف دہ ہے کہ بی جےپی حکومت نے لوگوں کی آواز کونظرانداز کیاہے ۔یہی نہیں انکی آواز دبانے کے لیے انتہائی سفاکانہ طریقہ سے طاقت کا استعمال کیاہے ۔جمہوریت میں یہ قابل قبول نہیں ہے اور کانگریس مرکزی حکومت کے اس سلوک کی مذمت کرتی ہے ۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
