مودی حکومت: آعندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں

کانگریس پارٹی میں گھوٹا لوں،گھپلوں اور مہنگائی زیادہ ہو نے کی وجہ سے عوام کا غصہ پھوٹ پڑا۔ اس سارے منظر نامہ کو بھانپتے ہوئے بھاجپا نے ۲۰۱۴ میں تو قع کے خلاف لال کرشن اڈوانی کو ہٹا کر ” اب کی با رمودی سرکار ” کا نعرہ دے کر الیکشن لڑااور اچھے دن آئیں گے کا نعرہ دیکر فتح حاصل کی لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان چار سالوں میں ملک کے نہ تو اچھے دن آئے ہیں۔ اور نہ ہی کچھ اچھا ہوا ہے۔ الٹا ملک ہر اعتبار سے کافی پیچھے چلا گیا ۔آئیے ہم اس حکومت کا مختصر جائزہ لیں۔

بے روزگاری :

نریند مودی نے یہ کہہ کر نوجوانوں کو ورغلایا کہ اگر ہم حکومت میں آئے تو ہر سال ایک کروڑ نوکریاں دلائیں گے۔ لیکن چارسال بیت جانے پربھی حکومت صرف ڈھائی لاکھ ہی نوکریاں دے پائی ہے۔ جبکہ2014 میں روزگار شرح 3.14% تھی۔ اور 2018 میں 6.23% ہوگئی ہے۔ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات الٹا ا ن چار سالوں عوام سے روزگار چھن گیا ۔اوروزیر اعظم عجیب منطقی فرمان دینے لگے کہ اگر کوئی پکوڑوں کی دکان لگاتاہے تو سمجھوکہ وہ برسرِ روزگار ہے۔ ہونا تو یہ چاہییے تھا کہ وعدوں کے مطابق ان چار سالوں میں چار کروڑ نوکریاں ملتیں ۔ لیکن اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 2017 کے آخر تک صرف 8.23 لاکھ ہی نوکریاں مل پائی ہیں۔ روزگار کو لیکرملک میں اتنی بھیانک صورتحال ہے اور وزیر اعظم کہتے ہیں کہ پکوڑے بیچنا بھی روز گار ہی کا ایک ذریعہ ہے۔

مہنگائی:

’بہت ہوئی پیٹرول کی ماراب کی با رمودی سرکار‘ کا نعرہ لگا کر برسرِ اقتدار آئی مودی سرکار چارسال گزرنے کے بعد بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کم نہ کر سکی۔ جب دوسرے ملکوں میں پیٹرول کی قیمت کم ہے تو بھارت میں اس قدر کیوں؟ اس معاملے پر بھی مودی حکومت نا کام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ مختلف وعدوں اور دعوئوں کے ساتھ مودی حکومت کر رہے ہیں۔ لیکن نہ ہی تو کوئی وعدہ پورا ہوا ہے اور جو دعوی کیا اسے بھی پورا کر نے میں نا کام نظر آرہے ہیں۔ مودی نے کہا تھا کہ میں چوکیدار ہوں لیکن دیکھنے میں یہ آیا کہ چوکیدار کی چوکیداری میں بینک فراڈ کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔ جب کہ 17,789 کروڑ کا ملک کو نقصان ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ صاحب چوکیداری کر رہے تھے یا بھاگیداری ؟؟؟

وعدے:ـ

مودی نے ایک اور وعدہ کیا تھا کہ نہ کھائوں گا "نہ کھانے دوں گا” لیکن فاربس انڈیا کے مطابق انڈیا ایشیاء کا سب سے کرپٹ ملک بن گیا ہے۔ جسکی پہلی مثال یہ کہ سونے کے تاجر نیرومودی نے پنجاب نیشنل بینک کو تقریباََ 13,000 کروڑ کا چونا لگا کر ملک سے بھاگ نِکلنے نے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس کے ساتھ ہی للت مودی ، میہول چوکسی اور وجئے مالیا نے بھی ہندوستان کی صفائی کی۔ شاید سوچھ بھارت ابھیان کو ان لوگوں نے بہت زیادہ دل پر لے لیا تھا۔ کل ملاکر 31 گھوٹالے ہمارے چوکیدار کے ناک کے نیچے ہوئے ہیں۔ جس پنامہ کیس میں پڑوسی ملک پاکستاں کے وزیراعظم کو اپنی کرسی چھوڑ کر جیل کی ہوا کھانی پڑ ی ہے ‘ اسی پنامہ کیس میں ہمارے ملک کے تقریباََ 500 لوگوں کے نام آنے پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیا جاتاہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نریندرمودی نے سب کو کھا نے کیلئے کھلا چھوڑ دیا ہے۔

ویاپم اور رافیل :

سب سے زیادہ سر خیوں میں رہنے والا مدھیہ پردیش کا ویاپم گھوٹالا بہت بڑا گھوٹالا ہے۔ مدھیہ پردیش جہاں بی۔جے۔پی کی حکومت تھی۔ اس گھوٹالے میں کئی لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ساتھ ہی رافیل طیاروں کی خرید و فروخت میں بھی بہت بڑا گھوٹالہ ہوا ہے۔ رافیل گھوٹالے میں راہل گاندھی مسلسل حملہ کر رہے ہیں۔ حکومت میں آنے سے پہلے مودی نے گھلا پھاڑ پھاڑ کر لوک پال کولانے کی بات کہہ کر عوام کو خوب خواب دکھائے ۔ لیکن نہ ہی لوک پال آیااور نہ ہی کالادھن اور نہ ہی کرپشن پر روک لگی ۔اب عوام اس فرضی گاندھی وادی اناہزارے کو ڈھونڈ رہی ہے۔ جس نے کانگریس حکومت میں بہت دھوم مچائی تھی اور عوام بھی کسی نئے چوکیدار کی تلاش میں ہیں۔

مذہبی منا فرت :

مودی حکومت میں ان چار سالوں میں سب سے ذیادہ مذہبی منافرت پھیلی ہے۔ خاص طور پر اقلیتوں پر ظلم انتہاء کو پہنچ گیا ہے۔ جبروظلم کے نت نئے طریقے ایجاد ہوچکے ہیں۔ اس کی شروعات اخلاق کے بیف رکھنے کے معاملے پر ہوئے قتل سے ہوئی ۔یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اور اب تک نہ جانے کتنے بے گناہ قتل کئے جاچکے ہیں۔اس پر ارباب اقتدار کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔کبھی لوجہاد‘ تو کبھی گائے اور بیف کے نام پر کبھی‘ طلاق‘ تو کبھی پرسنل لاء کے ذریعے حملے کئے جا رہے ہیں ۔ اقلیتوںاوردلیتوں پر حملے کئے جارہے ہیں۔ 2008 کے اعداد وشمار کے مطابق کل 33,000 معاملے سپریم کورٹ میں تھے۔جبکہ 2014 میں یہ بڑھ کر 45000 ہوگئے ہیں۔ گائے کے نام پر 2014 سے لیکر اب تک 176 افراد بے گناہ مارے جا چکے ہیں۔ ان میں84% مسلم افراد ہیں ۔

کسانوں کی خودکشی:

یوں تو کانگریس حکومت میں بھی کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ شروع تھا۔ لیکن یہ تعداد کم تھی۔جب سے مودی حکومت آئی ہے۔تب سے یہ گراف بڑھ گیا ہے۔ پیداوار شروح 2010-2014 کے درمیاں 5.2 % فیصد تھی۔ لیکن 2014-2018 کے درمیاں یہ کم ہوکر 2.4% فیصد رہ گئی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 2014-2016 کے درمیاں اب تک 36,420 کسانوں نے خودکشی کرلی ہے۔ مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد کسانوں کا قرض معافی کا اعلان کیا تھا۔بڑے پیمانے پر قرض معاف نہیں ہوا ۔

تعلیم:

ان چار سالوں میں تعلیم کے اعتبار سے ملک کافی پیچھے ہوگیا ہے۔ سال 2017 میں فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے اعلان کیا کہ تعلیمی جی ڈی پی 4.5% ہو چکی ہے۔ جب کہ ا یکونامک رپورٹ کے مطابق 2016-17 میں اس کا تناسب صرف 2.9% فی صدی ہی تھا۔جب کہ وزیر کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بہت ترقی ہوئی ہے اور ہم نے 6 % ٹارگیٹ حاصل کیا ہے۔ جبکہ تصویر اس کے بالکل مخالف ہے۔گزشتہ چارسالوں میں معیاری اور کل وقتی اساتذہ کی بھرتی کرنے کے بجائے کئی سرکاری اسکولوں کو بند کیا گیاہے۔ آج بھی سرکاری اسکولوں کا بہت برا حال ہے۔نہ ہی عمارتیں صحیح حالت میں ہیں اور نہ ہی ان اسکولوں میں اساتذہ کا تقرر ہورہا ہے۔

ان چار سالوں میں مودی حکومت نے درسی کتاب کے نصاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ہے۔ اور اس کے ذیعے سماج اور معصوم بچوں کے ذہنوں میں نفرت بھر نے کا خوب کام کیا ہے۔ مغل تاریخ کو آہستہ آہستہ نصاب سے ہٹایا جارہاہے۔اس کے علاوہ مودی حکومت کے دیگر اقدامات کا ذکر کیا گیاہے۔ دنیا کے سات عجائبات میں شامل تاج محل کی تاریخ کو بھی درسی کتابوں سے ہٹایاجارہا ہے۔ گوشت خوری کے صحت پر اثرات ، وزیر اعظم کے بیرونی دورے، سولہویں لوک سبھا الیکشن، سوچھ بھارت ابھیان، پیرس معاہدہ وغیرہ جیسے غیر ضروری مواد کو شامل کیا گیا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان نقاط کو درسی کتابوں میں شامل کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟ جبکہ ہم آسمان میں اڑنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔اور ہمارے وزیر اعظم ملک کو پوری دنیا میں سب سے آگے لے جانے کی بات کر تے ہیں۔ایسے نصاب کو دیکھ کر ہنسی آتی ہے۔گاندھی کے قاتلوں کودیش بھکت بتا کر درسی کتابوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے گاندھی مخالف نظریات کو فروغ دینے کاکام کیا جا رہا ہے۔

یونیورسٹیوں پر شکنجہ:

یونیورسٹیوں میں ملک کا مستقبل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ تعلیم حاصل کر تا ہے۔لیکن گزشتہ چار سالوں مین ان یونیورسٹیوں اور اعلی تعلیمی اداروں پر حکومت نے قدغن لگا رکھا ہے۔اور انہیں اپنے اختیار میں کر نے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ان اداروں کی تعلیم کو آسان بنانے کی بجائے حکومت انہیں اور مشکل بنارہی ہے۔ جن یو نیورسٹیوں کو پچھلے چار سالوں مین نشانہ بنایا گیا ہے ان میں جے۔این۔یو ِ، حیدرآبادیونیورسٹی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی ، بنارس ہندویونیورسٹی،جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی وغیرہ شامل ہیں۔جہاں حکومت اپنے خیالات کو نافذ کر نا چارہی ہے۔

خواتین کے حقوق اور ان کی حفاظت:

ان چار سالوںمیں عورتوں پر ظلم اور عصمت ریزی کے معاملات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ کٹھوا اور انائو عصمت ریزی واقعات نے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ واقعی ہندوستان میں عورتیں محفوظ نہیں ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈبیورو کے مطابق ریپ کے واقعات میں 12.4% فی صد اضافہ ہوا ہے۔ 2015 میں 34,651 معاملات سامنے آئے تھے ۔ جب کہ 2016 میں بڑھ کر 38.947 ہو گئے ہیں۔ ان واقعات کے لئے خودسیاستدان اور ان کے بیانات بھی کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔ ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمرس کے سروے کے مطابق کئی ممبر آف پارلمینٹ اور ممبران اسمبلی خواتین سے متعلق جرائم میں شامل ہیں۔عورتوں کے حقوق کی بات ہوتی ہیں، لیکن ان کے لئے کچھ بھی نہیںکیا جاتا۔ پارلمینٹ میں عورتوں کی نمائندگی کے معاملے میں ہمارا ملک بھا رت پاکستان اور بنگلہ دیش سے بھی پیچھے ہے۔ اس ضمن میں بھارت کا 148 واں نمبر ہے۔ جبکہ پاکستان 89 اور بنگلہ دیش 91 نمبرپر ہے۔ بیٹی بچائو،بیٹی پڑھائو بس نعرہ ہی رہ گیا ہے۔ پارلمینٹری پینل کی رپورٹ کے مطابق 90% فی صدفنڈ بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو کے پروگرام میں خرچ ہی نہیں ہوا۔

عدلیہ پر حملہ :

ہندوستان کی 70 سال کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا جب سپریم کورٹ کے چار ججوں نے مل کر ایک پریس کانفرنس کر کے عدلیہ میں مودی حکومت کی بے جا مداخلت کو اجا گر کیا۔ اسی کے ساتھ جج لویا کی پر اسرار موت ان چار ججوں کی پریس کانفرنس کی سچائی کو مزید تقویت پہنچاتی ہے۔ واضح رہے کہ جج لویابی۔جے۔ پی صدر امت شاہ کیس کی تحقیقات کر رہے تھے۔ اس سے واضح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ کس حد تک مودی اینڈ کمپنی کی عدلیہ میں بھی بے جا مداخلت جاری ہے۔ ساتھ یہ واضح ہو جا تا ہے کہ عدلیہ کا کس قدر غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے :
کانگریس سرکار نے جب آدھار کارڈ بنوانے کا اعلان کیا تھا تب نریندر مودی نے کہا تھا کہ یہ محض ایک سیاسی ہتھکنڈہ ہے۔ لیکن مودی حکومت کے آتے ہی آدھار کارڈ کو سختی سے لاگو کرایا گیا ہے۔ چاہے وہ سم کارڈ ہو، تنخواہ ہو، پینشن ہو، مختلف بیماریاں ہوں یہاں تک کہ اس لنک کے چکر میں 30 افراد کو اپنی جانیں گنوانی پڑی۔ آج بھی یہ معاملہ پھنسا ہوا ہے۔ لیکن بیچ میں عوام پسے جارہے ہیں۔

صحت عامہ :

صحت کے اعتبار سے 195 ملکوں کی فہرست میں بھارت کا 145 واں نمبر ہے۔ گورکھپور سانحہ ہندوستان کی صحت کتنی ٹھیک اور کتنی خراب ہے اس بات کو اجاگر کرتا ہے۔ بلکہ کتنی ہی جانوں کو بچانے وا لے ڈاکٹر کفیل کو جیل ہوجاتی ہے۔ حکومت اپنی نا کامیوں کو چھپانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتی آرہی ہے۔

اسکیم :

جب سے مودی حکومت میں آئے ہیں ان لوگوں نے پچھلی حکومت کی اسکیم کے نام بدلنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا ۔ الٹا ان اسکیموں کے تحت صرف شوبازی اور پیسوں کا بیجا استعمال کیا گیا ۔اسمارٹ سٹی،سوچھ بھارت ابھیان اور نہ جا نے ایسی کتنی اسکیم کے تحت ملک کے خزانے کو چونا لگا یا گیا۔

غیر ضروری اخراجات :

ایسے وقت میں جبکہ ملک بے روذگاری ، معاشی بدحالی سے جھوجھ رہا ہے تب حکومت غیر ضروری اسکیم اور ووٹروں کو لبھانے والی حرکتیں کر رہی ہے۔ ایکتا کا مجسمہ کے نام سے سردار پٹیل کا مجسمہ بنا یا گیا۔ جب کہ اسکی کل لاگت 3000 کروڑ روپئے ہے ۔ ساتھ ہی شیواجی کے مجسمہ کے لیے 2500 کروڑ روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ ایودھیا میں رام کے مجسمہ کے لیے 330 کروڑ روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں ۔جس ملک میں بھوک سے بچے مرتے ہوں، جہاں ہزاروں کسان خود کشی کر تے ہوں، جہاںروزگار نہ ہو۔ تعلیم اور صحت کی حالت بدسے بدتر ہو اس ملک میں کروڑوں روپیوں کے مجسمے کس کام کے ؟ ساتھ ہی پچھلے چار سالوں میں 4343 کروڑ روپئے اس حکومت نے صرف اور صرف اشتہار اور پبلسٹی پر خرچ کئے۔ جس ملک میں ریلوے حادثات اتنے بڑے پیمانے پر ہوتے ہوں وہاں بلیٹ ٹرین پرہزاروں کروڑ روپئے خرچ کر نے کی کیا ضرورت؟

میڈیا پر حملے :

ورلڈ پریس فریڈم کی فہرست میں بھارت 136 ویں مقام پر پہنچ چکا ہے۔ سال 2017 میں تقریباََ 12 صحافیوں کی مشتبہ حالت میں موت واقع ہوتی ہے۔ آج بھی یہاں صحافت اور اس سے جڑے افراد پر حملے جاری ہیں۔ یہ حملے ایک جمہوری ملک پر بد نما داغ ہیں۔

ماحول دشمن حکومت :

ماحول کے پرفارمانس کو ظاہر کر نے والی 180 ملکوں کی فہرست میں بھارت کا 177 واں نمبر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہاں کی ماحولیاتی حالت کتنی خطرناک ہے۔ سال 2016 میں آرٹ آف لیونگ کے رہنما شری شری روی شنکر نے ورلڈ کلچر فیسٹول کا یمونا ندی کے کنارے انعقاد کیا جس سے بڑے پیمانے پر ماحول پر برا اثر رونما ہو ا ۔ نما می گنگا پروجیکٹ کے باوجود گنگا ندی کی اب تک صفائی نہیں ہو سکی۔

خارجہ پالیسی:

خارجہ پالیسی میں بھی ان چار سالوں میں ہندوستان کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں حاصل کر سکا۔اقوامِ متحدہ میںرہنمائوں کے ساتھ مودی کی گلے ملتے ہویے تصویریں تو خوب شیئر ہورہی ہیں۔لیکن معاہدہ کیا ہوا، عالمی سطح پر کیا بات چیت ہوئی۔ اس کا اب تک کوئی خلاصہ نہیں ہو سکا ۔برطانیہ نے وہاں کام کر نے والے ہندوستانیوں پر ویزے کو لیکر شکنجہ کسا ہوا ہے۔شام اور ایران و فلسطین کے مسئلہ پر بھی اب تک ہندوستان کوئی اہم قدم نہیں اٹھا سکا۔ پاکستان کے ساتھ اب بھی تعلقات کشیدہ ہی ہیں۔بن بلائے پاکستان جانا بھی دونوں ملکوں پر کوئی خاطر خواہ اثر مرتب نہیں کر سکا ۔ اس کے بر خلاف جو لوگ امن و خیر سگالی کے لئے کام کر رہے ہیں انہیں زبر دستی نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔سرجیکل اسٹرائیک اب تک معمہ بنا ہوا ہے۔ سرحد پر نوجوانوں کی اموات میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

لے دیکر ان چار سالوں میں صرف عوام سے جھوٹے وعدے کئے گئے صرف ہوائی باتیں کی گئی ۔ زمینی حقاحق بہت کچھ ظاہر کر تے ہیں۔ان چار سالوں میں مودی حکومت نے اس ملک ہندوستان چمنستان کی وہ حالت کردی کہ رند لکھنوی کا یہ شعر زبان پر آتاہے کہ

آعندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں

تو ہائے گل پکار میں چلائوں ہائے دل

ایم۔ایم۔سلیم ( آکولہ)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading