نئی دہلی: رسوئی گیس سلینڈر میں اضافہ کے بعد حزب ختلاف کی جماعتیں مودی حکومت پر حملہ آوار ہیں۔ اس معاملہ پر کانگریس نے کہا ہے کہ ’تھالی نامکس‘ کی بات کرنے والی حکومت کا رسوئی گیس کی شرحوں میں بے تہاشہ اضافہ کرنا اس کے دوغلے کردار کو ظاہر کرتا ہے اور سلینڈر کی قیمت 144 روپے بڑھا کر مودی حکومت نے عوام کی جیب پر کرنٹ مارا ہے۔
मोदी जी ने रसोई गैस की क़ीमत बढ़ाई ₹144!
2019 से 2020 यानी 1 साल में रसोई गैस की क़ीमत बढ़ा दी ₹200!
दिल्ली – ₹858.50
मुम्बई- ₹829.50
चेन्नई- ₹881
कोलकाता – ₹896करेंट की बात करते करते जनता की जेब पर ही करेंट मार दिया! https://t.co/IvGctnQaji
— Randeep Singh Surjewala (@rssurjewala) February 12, 2020
کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے بدھ کے روز ٹوئٹ کیا ’’مودی جی نے رسوئی گیس کی قیمت 144 روپے بڑھائی ہے۔ اس نے 2019 سے 2020 یعنی ایک سال میں رسوئی گیس کی قیمت 200 روپے بڑھا دی۔ دہلی میں ایک سلینڈر 858.50 روپے، ممبئی میں 829.50 روپے، چنئی میں 881 روپے اور کولکاتا میں 896 روپے کی شرح سے فروخت ہو رہا ہے۔ کرنٹ کی بات کرتے کرتے عوام کی جیب پر ہی کرنٹ مار دیا۔‘‘
The common man relies on fuel for his everyday needs & commute. Petrol prices have skyrocketed under BJP multiple times but not once has BJP assured the people that prices will be controlled. As long as BJP's divisive agenda is being fulfilled, they don't care about the people. pic.twitter.com/V7QfXXat9M
— Congress (@INCIndia) February 12, 2020
ادھر کانگریس پارٹی کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے بھی مودی حکومت پر نشانہ لگایا گیا ہے۔ ٹوئٹ میں لکھا ہے ’’وسائل کے معاملے میں جو ملک ہمارے سامنے ٹھہرتے تک نہیں، آج وہ بھی اپنے عوام کو ہم سے سستا ڈیزل دے رہے ہیں۔ مگر بی جے پی حکومت عوام کی جیب پر مسلسل حملہ کر رہی ہے۔
It is a shame that BJP has increased fuel taxes and have completely failed to pass on the benefits to the common man. Diesel in India is more expensive than any other South-Asian country. pic.twitter.com/92z6G3IBOS
— Congress (@INCIndia) February 12, 2020
’مودی نامکس ‘ کی زبردست کامیابی کے بعد ’تھالی نامکس‘ بھی برباد۔ بی جے پی الفاظ اور محاورے گڑھنے میں ماہر ہے مگر اس سے عوام کا پیٹ نہیں بھرتا۔ ’تھالی نامکس‘ جیسا جملہ گڑھ کر رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ بی جے پی کے دوغلے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
Mahila Congress will organize a nationwide massive demonstration against @BJP4India govt on 13th Feb 2020 demanding a rollback of #LPGPriceHike #करंट_महंगाई_का pic.twitter.com/4wspwoV2se
— All India Mahila Congress (@MahilaCongress) February 12, 2020
ادھر، رسوئی گیس سلنڈر کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف آل انڈیا مہیلا کانگریس نے 13 فروری کو ملک گیر پیمانے پر مظاہرہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مہیلا کانگریس کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ رسوئی گیس سلنڈر کی قیمت میں اس قدر اضافہ قابل برداشت نہیں ہے، اس لیے جمعرات کے روز سڑک پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن نے آج سے بغیر سبسڈی والا 14.2 کلوگرام کا گھریلو رسوئی گیس سلینڈر 144.50 روپے مہنگا کر دیا ہے۔ جبکہ سبسڈی والے سلینڈر پر لگنے والے جی ایس ٹی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو