غالباًیہاں کی سرسبزوادی و خم دارپہاڑیوں کودیکھ کراس علاقے کانام سوجھاجورفتہ رفتہ کوسہ ہوگیا
از:ظفراللہ خان
ممبرامیں کوسہ کے متنازعہ قبرستان پرمقامی نومولود سیاستداں نے اخباری نمائندوں کو انٹرویودیتے ہوئے کوسہ گاوں کے کچھ باشندوں کے متعلق اناپ شناپ کہدیاجس پرکوسہ گاوں کی اکثرخاندان برانگیختہ ہو کراُس سیاستداں کے گھراوردفترکامحاصرہ کرنے پرتُل گئے،پولیس کی مُداخلت سے محاصرہ ٹوٹاتب ممبراوالوں کو پتاچلاکہ کوسہ گاوں میں تقریباً۳۲؍مختلف گھرانے بستے ہیں اورآخر میں کوسہ پہنچنے والوں میں بیشترکی تیسری نسل یہاں بودوباش ومعاش اختیارکئے ہوئے ہیں،بعدمیں ممبئی فسادزدگان کی آمد نے ایسی تیزی دکھائی کہ آج آبادہونے کے نام پر شہرمیں تِل دھرنے کی بھی جگہ میسرنہیں،یوں خوبصورت تالابوں اورپہاڑوں کے دامن میں خوشنماوادی کانکریٹ کاجنگل بنتی گئی اوراب یہ حال ہے کہ یہاں جیناتودورمرنابھی محال ہوگیاکہ پتانہیں تدفین کے بعدمٹّی ناجانے کیسی ملے گی،واضح رہے ممبئی ،نئی ممبئی اورتھانے کئی جزیروں پرمشتمل ساحلی وکوکن پٹّی کاکوہستانی علاقہ ہے جہاں صدیوں قبل ساحلوں پر کولی (ماہی گیر)اورپہاڑوں کے دامن میں جنگلات کے قدیم باشندے آگری(آدی باسی) بساکرتے تھے،جوبنیادی لحاظ سے دراڑنسل کے ہیں،ان علاقوں میں عربی تاجران ولشکر وں نے شروع میں قدم رنجافرماکراسے اپنامسکن بنالیا،کبھی تھانہ شہرتالابوں کاشہرکہلاتاتھااورآج تھانے شہرکئی فرقہ فرستوں کی آماجگاہ بن چکاہے،تھانے کمشنریٹ کی قدیم عمارت سے ملحقہ بنگلہ ناتھورام گھوڈسے کامسکن ہواکرتاتھاجسے حکومت نے مہربندکردیاتھااب فرقہ پرستوں کے برسراقتدارہونے کے بعدبنگلے سے تمام مہریں ہٹالی گئیں ہیں،
مقامی ذرائعوں کے مطابق ممبراشہرمیں بھی کئی تالاب ہواکرتے تھے جواب یاتونداردہیں یاسِمٹ گئے ہیں تھانے شہرکاایک معروف تالاب جوآج کوسہ تلاوپالی کے نام سے موسوم ہے،ممبراکوسہ شہرکے ایک جانب پارسک پہاڑی ہے تودوسری جانب اُلہاس ندی کاڈیلٹاواقع ہے اوراس قدیم وتاریخی کوسہ گاوں سے قدیم ممبئی پونے قومی شاہراہ گزرتی ہے ،اس شاہراہ کے مشرق میں ایک قدیم تالاب ہے جسے کوسہ تالاب کہتے ہیں قدیم زمانے میں شاہراہ کے مشرق میں اس علاقے کوبازاراورشاہراہ کے مغربی علاقے کوگاوٹھن کہتے تھے،کوسہ تالاب سے ملحقہ بازارمیں ساری دنیاکے تاجران وصارفین آیاکرتے تھے،یہاں خاص طورپرمویشیوں اوراُن سے وابستہ اشیاء کیساتھ دیگرضروریات زندگی کی منڈی لگتی تھی، کوسہ سے ملحقہ مسلم اکثریتی ڈاولہ گاوں میں بھی کچھ خاندان آبادتھے،معمرباشندوں کے مطابق تونگیکرجاگیرِکی اِِملاک میں گورے اوردھوروکوسہ گاوں میں آبادتھے اوراُرن کے گُلبارگھرانہ بھی یہاں کی تاریخ میں موجود ہیں،پھرٹٹوالاسے راوت،نیرل محمدہ پوراوربھیمڑی سے ڈونگرے،کیرالاسے شیخ اور خطیب،حاجی ملنگ نیرن گاوں سے سُرمے اورڈھولے،پٹیل،پنویل ورگھرسے ہونڈیکر،بارہ پاڑہ پنویل سے دلوی،اُرن سے مقری،نیرل سے نجے،نیرل کے دامت گاوں اورگورے گاوں سے بوبیرے،نیرل سالوک گاوں سے لوگڈے اورلگڑتجارت یارشتے داریکے سلسلے میں یہیں بس گئے،ٹھیٹ کوکن کے مختلف گاوں سے قاضی،کاروینکر،راجے خان،پاولے،مساٹے،خان بوبیرے،ناڈکر،رتناگیری کے خان،پالوبا،دُپارے اورشیخ ممبئی سے، تیلی(شیخ)اووے گاوں کھارگھرسے تجارت یارشتہ داری کے سلسلے میں آکریہیں کوسہ گاوں میں آبادہوگئے،یوں کوسہ مسلم اکثریتی گاوں پھلنے پھولنے لگا،اسی دوران کوسہ پیٹرول پمپ کے مالک اسمٰعیل ویرانی کے والدچوہاسیٹھ کوسہ میں آکربسے،آج جہاں کوسہ پیٹرول پمپ موجودہے وہیں کبھی اُن کی لکڑی اورکوئلے کی بکھارتھی ،واضح رہے کوسہ گاوں میں جو۳۲؍مختلف گھرانے گزشتہ کئی صدیوں قبل یہاں آکربسے اُن کاآبائی پیشہ کاشتکاری تھاتوکچھ ایک نے تجارت کارُخ کیااورکوسہ وگردونواح سے دھان خریدکرتلوجہ اورپنویل کی رائس ملوں میں پہنچا دیتے اور وہاں سے چاول خرید کر ممبئی کی منڈیوں میں فروخت کردیتے،اس کے علاوہ غیرمسلم خاندانوں میں چنچولکر،ٹکلے،فوجدار،دیسائی کر،بُورُوڈ،اورہندووں میں پسماندہ طبقات گائیکواڑاورواگھمارے بھی بستے تھے،مقامی جانکارکے مطابق فی الحال قدیم گھرانوں سے وابستہ تقریباًساڑھے تین سومسلم گھراوراُتنے ہی غیرمسلم خاندانوں کے گھرکوسہ جامع مسجداورتالاب کے اردگردموجودہیں،
آیایہ کوسہ تالاب مصنوعی ہے یا قدرتی ،یہ توکسی کو پتا نہیں کہ تالاب کیونکر وجود میں آیا،لیکن کوسہ کے معمرباشندے اپنے آباواجدادسے روایت کرتے ہیں کہ غالباًسترہویں صدی کے زمانے میں کلیان کی بندرگاہ پرمراٹھوں کاتسلّط تھا،بھیمڑی حیدرآبادکے نظام کی جاگیرتھی اورممبئی ،اُرن اورتھانے کاکچھ علاقہ تونگیکرکی جاگیرہواکرتاتھا اسی دوران ریاستِ بنگال کی ایک رانی، بیگم سہولت کی اُرن کے تونگیکرریاست سے رشتہ داری کے سبب اکثربحری و برّی راستوں سے یہاں آیاجایاکرتی تھیں،کوسہ کے بازارکاکافی چرچہ تھااُس سفرکے دوران ایک دفعہ اُن کاگزرکوسہ سے ہواانہوں نے تالاب کے پاس ایک برہمن ڈاون والاکے گھرکے پاس، اصطبل میں اپنے قافلے کے گھوڑے باندھ دیئے اورکوسہ گاوٹھن میں ایک چٹان پرخیمہ زن ہوئیں وہیں انہوں نے کسی شخص کونمازپڑھتادیکھاتوانہیں خیال گزراکہ اتنی بڑی مسلم آبادی میں کوئی مسجدنہیں ہے لہٰذادوسرے ہی روزانہوں نے مقامی لوگوں کو امداد دے کراُسی چٹان پرایک مسجدکی تعمیرکرنے کافرمان جاری کیااوراُس سے ملحقہ اراضی پرسرائے بنانے کوکہا جسے مقامی لوگوں نے کول والی مسجدکانام دیااورسرائے کودھرم شالاکے نام سے جاننے لگے،یہ بھی جاننادلچسپ ہے کہ عربوں کی جب یہاں آمدہوئی توانہوں نے اس جزیرہ نماعلاقے کویہاں کے جنگلات کو’’کرمال کاجنگل‘‘ کہااورپہاڑوں کے دامن میں بسی اس دلفریب اورقدرتی مناظرسے پُرسرسبزوشاداب وادی کو’’قوسۃ‘‘کانام دیا یہ بستی رفتہ رفتہ ’’کوسہ‘‘کے نام سے پہچانی گئی،تاریخ ابن خلدون میں حضرت عمرؓکے دورِخلافت میں حضرت تِہانہؓ کالشکرجزیرۂ کرمال کے جنگل سے گزرا،جہاں مقامی باشندوں کیساتھ جنگ ہوئی اورلشکرکوفتح ہوئی لیکن اس جنگ میں حضرت فخرالدین شامی ؒ شہیدہوگئے ،جو انہی جنگلوں میں مدفون ہیں،مقامی باشندوں کے مطابق وہ علاقہ غالباً ممبراہی ہے لیکن اصل جگہ کے متعلق وہ کچھ بھی بتانے سے قاصرہیں،۱۹۶۲ ء میں کوسہ گاوں میں ہیضے کی وباپھیلی اور۲۸سے ۳۰؍افرادجاں بحق ہوگئے،اُس زمانے میں کاکاسیٹھ نورمحمدتھانہ والاکے بنگلے میں طبّی کیمپ لگا،وہ جگہ آج کاکانگرکہلاتی ہے،۱۹۵۲ ء میں کوسہ جامع مسجدازسرِنوتعمیرہوئی جس میں تھانہ والا نے سب سے بڑاتعاون پیش کیاتھااس کے علاوہ ایچ۔بی پینسل کے بچّوعلی سیٹھ نے بھی کافی امداد پیش کی تھیں،خاص یہ کہ تھانے ٹیمبھی ناکہ پرجین مندرسے وابستہ وکیل مارواڑی نے کوسہ جامع مسجدکے سرکاری کاغذات تیارکروائے تھے،یوں ’’قوسۃ‘‘کا’’کوسہ ‘‘بنے کاسفرجاری رہا،معروف شاعرقیصرالجعفری نے ازراہِ مذاق مقامی کچھ باشندوں سے کہاتھاکہ اصل نام پرآجاوورنہ سارے لوگ ،کوسہ کوسہ ہی کوستے رہیں گے۔