ممبئی ،17جون(یواین آئی) ممبئی کے شمال وسطی علاقہ باندرہ بہرام پاڑہ میں مانسون سے قبل نالے سے متصل جھوپڑوں اور کچی بستی کی انہدامی کاررو ائی کے دوران نورمدینہ مسطجد اور مدرسہ کے انہدام کی کارروائی مہاراشٹراسمبلی میں ڈپٹی لیڈر اور سنیئرکانگریسی ایم ایل اے عارف نسیم خان کی مداخلت سے متبادل جگہ دیئے جانے تک روک دی گئی ہے۔
گزشتہ روز انجمن فدائے ملت مدرسہ اورنورمدینہ مسجد کے سلسلہ میں پولیس حکام اور ٹرسٹیوں کے درمیان میٹنگ میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا ،جس کے بعد نائب صدر اقلیتی شعبہ مدثر پٹیل نے ایوان میں ڈپٹی لیڈر عارف نسیم خان سے رجوع کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے مقامی افراد اور ٹرسٹیوںسے ہمراہ میونسپل کمشنرپروین پردیسی سے ملاقات کی ۔انہوںنے یقین دلایا کہ متبادل جگہ پر منتقلی تک کولسہ گلی میں نالے سے متصل مسجد کو منہدم نہیں کیا جائے گا۔دراصل نالے کی توسیع کی زد میں مسجد کے آنے پر مسئلہ پیدا ہوا ہے۔حالانکہ آس پاس کے علاقے میں جھوپڑوں کو منہدم کرنے کی کارروائی گزشتہ آٹھ دنوں سے جاری ہے ،ان افراد کو متبادل جگہ دیئے جانے کے سلسلہ میں انتظامیہ غور کرے گی اس کا بھی یقین دلایا گیا ہے ،لیکن مسجد کے انہدام کو اسٹے دے دیا گیا تاکہ متبادل جگہ فراہم کی جائے ۔
گزشتہ روز نرمل نگر پولیس اسٹیشن میں ڈپٹی پولیس کمشنر،ڈپٹی میونسپل کمشنر اور اعلیٰ پولیس اور میونسپل افسران کے ساتھ ساتھ ٹرسٹی بھی میٹنگ میں شامل ہوئے ،بی ایم سی اور پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد کے متصل چھونپڑوںکے مکینوں کو راضی کیا جائے جن کی باز آبادکاری کی جائے اور ان کے ہٹنے کے بعد مسجد کو اس جگہ منتقل کیا جائے ،لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا اور آج مہاراشٹر اسمبلی میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر عارف نسیم خان نے مداخلت کی اور کمشنر نے عارضی اسٹے دے دیا ہے۔