ملک میں گھریلو استعمال کے ایل پی جی (رَسوئی گیس) سلنڈروں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے عام صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے 14.2 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 29 روپے فی سلنڈر اضافہ کیا ہے۔ نئی قیمتیں 7 جون سے نافذ ہو چکی ہیں، جس کے بعد دہلی میں ایک سلنڈر کی قیمت 913 روپے سے بڑھ کر 942 روپے ہو گئی ہے۔
یہ گزشتہ تین ماہ کے دوران دوسری مرتبہ ہے جب ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 7 مارچ کو سلنڈر کے داموں میں 60 روپے کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ عالمی توانائی منڈی میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی
ذرائع کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور وہاں سے توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے اثرات براہِ راست بھارتی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ سرکاری تیل کمپنیوں کو بین الاقوامی قیمتوں اور گھریلو فروخت کی شرح کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تیل کمپنیوں کو ہر ایل پی جی سلنڈر پر تقریباً 703 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ اسی وجہ سے لاگت اور خسارے کو کم کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر سمجھا گیا۔ تاہم اس فیصلے سے عام عوام کے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔