شہریت قانون کے خلاف ہو رہے مظاہروں پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع
شہریت قانون کے خلاف ہو رہے مظاہروں پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو چکی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ ٹرائل کورٹ نہیں اس بات کا خیال رکھا جائے۔ عدالت نے یہ رد عمل ایک وکیل کے بیان پر دیا۔ وکیل نے کہا کہ شہریت قانون کے کلاف مظاہرہ کے دوران مغربی بنگال سمیت ملک کے کئی حصوں میں پبلک پراپرٹیز کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
SC says, it’s not a trial court&can’t assume jurisdiction for whatever is happening all over the country, after an advocate mentions before it that in the name of Citizenship (Amendment) Act, public properties including trains and fire tenders have been destroyed in West Bengal pic.twitter.com/48vBEJnXEC
— ANI (@ANI) December 17, 2019
جامعہ طلبا پر پولس بربریت کے خلاف لاء اسکول کے طلباء نے بھی اٹھائی آواز
نیشنل لا اسکول سے جڑے کئی اداروں نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ سبھی طلبا نے جامعہ اور اے ایم یو طلبا پر پولس کے ذریعہ کی گئی بربریت کی بھی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور کہا کہ اپنی آواز بلند کرنے والے طلبا کے خلاف پولس کی ظالمانہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

جامعہ طلبا کے حق میں سامنے آئیں چنئی کی طالبات، کہا ’یہ اسلاموفوبیا ہے‘
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر اتوار کے روز ہوئی پولس بربریت سے پورے ملک کے طلبا ناراض ہیں۔ اب چنئی کی طالبات نے ان کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نومنظور شدہ شہریت قانون آئین مخالف ہے اور احتجاج کر رہے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسلاموفوبیا کی نشانی ہے۔
‘This is Islamophobic’, say protesting students in Chennai, in solidarity with #JMI and #AMU.https://t.co/4p3uOEH09N
— The Quint (@TheQuint) December 17, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-