دہلی کے جعفرآباد میں مظاہرین پر پولس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
تازہ اطلاعات کے مطابق پولس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولووں کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ پولس نے کچھ لوگوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔ علاقہ کے حالات کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔
علاقے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو دیکھتے ہوئے 3 میٹرو اسٹیشن ویلکم، جعفرآباد اور موج پور۔بابرپور کے اینٹری اور ایگزٹ گیٹ بند کر دیئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ مظاہرین سلیم پور سے مارچ نکال رہے تھے ہوا جو جعفرآباد کے علاقے میں پرتشدد ہو گیا۔
Protests now taking place in Seelampur and Jafrabad area. Ppl set vehicles on fire and pelted stones at police officials. Several injured. #CAAProtests @TOIDelhi pic.twitter.com/jSDMiPnVtr
— Sakshi Chand (@sakshichand8TOI) December 17, 2019
دہلی کے جعفرآباد علاقہ میں پولس اور مظاہرین کے درمیان تصادم
شہریت ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج کے درمیان دہلی جعفرآباد علاقہ میں پولس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تصادم کے بعد دہلی ٹرفک پولس نے مظاہرہ کی وجہ سے 66 فٹا روڈ (سیلم پور سے جعفرآباد) پر ٹریفک کو بند کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آج صبح کانگریس کی طرف سے شہریت ترمیمی بل کے خلاف بائیک ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا، جو پُر امن طریقہ سے نکالی گئی تھی۔ دوپہر کے وقت کسی پارٹی یا تنظیم کی طرف سے احتجاج کی کال نہیں دی گئی تھی بلکہ لوگ خود ہی سڑکوں پر اتر پر احتجاج کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق پولس کے لوگوں کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران تصادم بھڑک اٹھا۔
Delhi: Clash breaks out between police & protesters in Jafrabad area, during protest against #CitizenshipAmendmentAct pic.twitter.com/DIJH0iCoLF
— ANI (@ANI) December 17, 2019
Delhi Traffic Police: Traffic movement has been closed on 66 feet road from Seelampur to Jafrabad (both carriageways) due to demonstration. #CitizenshipAmendmentAct https://t.co/tzASL7OE9b
— ANI (@ANI) December 17, 2019
کیرالہ میں سی اے اے کے خلاف مظاہروں میں 100 افراد حراست میں
ترواننت پورم: کیرالہ میں منگل کے روز شہریت ترمیم ایکٹ (سی اے اے) کے سلسلے میں ہوئے مظاہروں کے دوران تشدد کے معاملے میں اب تک 100 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔
ریاست میں سی اے اے میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، ویلفئر پارٹی، کیرالہ مسلم یوتھ فیڈریشن، بہوجن سماج پارٹی، ایس جی او اور سالیڈیٹری آرگنائزشن نے مشترکہ طور پر مظاہرے کا انعقاد کیا ہے۔
اس دوران مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور اور کئی مقامات پر سڑکیں جام کردیں، جس کے سبب ٹریفک میں رخنہ پڑا۔ سی اے اے کے خلاف ہورہے مظاہروں کے سبب پوری ریاست میں ٹرین خدمات تاخیر سے چل رہی ہیں اور پرائیویٹ گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہیں۔
اوکھلا: کئی مسجدوں کے امام جامعہ طلبا پر پولس بربریت کے خلاف سڑکوں پر اترے
نئی دہلی: جامعہ نگر علاقے کی کئی مسجدوں کے امام آج سڑک پر اتر کر شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے۔ مختلف مسجدوں کے امام جامعہ کے مرکزی دروازے پر آکر طلبہ کے ساتھ متحد نظرآئے اور ان پر اتوار کے روز ہوئی پولس بربریت کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ اس درمیان اماموں نے طلبا سے پرامن مظاہرے کی اپیل کی اور کہا کہ آئین بچانے کی اس لڑائی میں وہ طلبا کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں بابا صاحب امبیڈکر کے آئین پر ہمیں پورا بھروسہ ہے اور آئین سے چھیڑخانی کسی بھی حال میں برداشت نہیں ہے۔
خلیل اللہ مسجد کے امام نے کہا کہ ہم مسجدوں میں رہتے ہیں لیکن ملک اور آئین پر جس طرح کا خطرہ منڈرا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے سڑک پر اترے ہیں۔ اماموں نے اتوار کی رات پولس کی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولس نے جامعہ کی مسجد میں گھس کر امام کے ساتھ دھکا مکی کی ہے جو قابل مذمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولس کس منشا سے مسجد میں گھس کر امام کے ساتھ بدسلوکی کی، اس کا جواب حکومت کو دینا پڑے گا۔ طلبا کے ساتھ مجرمین سے بھی برا سلوک کیا گیا جو بے حد شرمناک ہے۔
اڈیشہ: بھونیشور میں شہریت قانون کے خلاف لوگوں کی بھیڑ سڑکوں پر اتری
شہریت ترمیمی قانون کو لے کر پورے ملک میں مظاہرے جاری ہیں اور اس درمیان اڈیشہ کے بھونیشور کیا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر کر مودی حکومت کے ذریعہ لائے گئے اس قانون کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اقلیتی طبقہ سے جڑے ہوئے لوگ اس مظاہرے میں نو منظور شدہ شہریت قانون کے ساتھ ساتھ این آر سی کے خلاف بھی نعرے لگا رہے تھے۔
Minorities hit streets in #Bhubaneswar protesting #CitizenshipAmendmentAct & #NRC #Odisha pic.twitter.com/z16smYAKoA
— OTV (@otvnews) December 17, 2019
شہریت قانون کے خلاف ہو رہے مظاہروں پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع
شہریت قانون کے خلاف ہو رہے مظاہروں پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو چکی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ ٹرائل کورٹ نہیں اس بات کا خیال رکھا جائے۔ عدالت نے یہ رد عمل ایک وکیل کے بیان پر دیا۔ وکیل نے کہا کہ شہریت قانون کے کلاف مظاہرہ کے دوران مغربی بنگال سمیت ملک کے کئی حصوں میں پبلک پراپرٹیز کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
SC says, it's not a trial court&can’t assume jurisdiction for whatever is happening all over the country, after an advocate mentions before it that in the name of Citizenship (Amendment) Act, public properties including trains and fire tenders have been destroyed in West Bengal pic.twitter.com/48vBEJnXEC
— ANI (@ANI) December 17, 2019
جامعہ طلبا پر پولس بربریت کے خلاف لاء اسکول کے طلباء نے بھی اٹھائی آواز
نیشنل لا اسکول سے جڑے کئی اداروں نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ سبھی طلبا نے جامعہ اور اے ایم یو طلبا پر پولس کے ذریعہ کی گئی بربریت کی بھی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور کہا کہ اپنی آواز بلند کرنے والے طلبا کے خلاف پولس کی ظالمانہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

جامعہ طلبا کے حق میں سامنے آئیں چنئی کی طالبات، کہا ’یہ اسلاموفوبیا ہے‘
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر اتوار کے روز ہوئی پولس بربریت سے پورے ملک کے طلبا ناراض ہیں۔ اب چنئی کی طالبات نے ان کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نومنظور شدہ شہریت قانون آئین مخالف ہے اور احتجاج کر رہے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسلاموفوبیا کی نشانی ہے۔
'This is Islamophobic', say protesting students in Chennai, in solidarity with #JMI and #AMU.https://t.co/4p3uOEH09N
— The Quint (@TheQuint) December 17, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
