مسلم نوجوان کے قاتل کی ضمانت عرضداشت ممبئی ہائی کورٹ نے رد کی

جمعیة علماءکی بر وقت مداخلت سے ہندو شدت پسند کو شدید جھٹکا

ممبئی:8 جنوری(ای میل)گنجان مسلم آبادی والے شہر مالیگاﺅں کے قریب واقع نامپور نامی دیہات میں رہائش ایک مسلم شخص کو بے دردی سے قتل کرنے والے ہندو شدت پسندکی ضمانت عرضداشت ممبئی ہائی کورٹ نے آج مسترد کری۔ مہلوک کے بھائی کی جانب سے جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) نے ممبئی ہائی کورٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ضمانت عرضداشت کی سخت لفظوںمیں مخالفت کی تھی، ابتک جمعیة علماءکی مداخلت کی وجہ سے تین ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں مسترد ہوچکی ہیں جبکہ نچلی عدالت میں جمعیة علماءبطور مداخلت کار اپنی خدمات پیش کررہی ہے تاکہ مقتول کو انصاف مل سکے ۔آج دوران بحث جمعیة علماءکی جانب سے ایڈوکیٹ متین شیخ نے جسٹس نتن سامبرے کو بتایا کہ درخواست گذارملزم نے دو ملزمین کی مدد سے نامپور شہر میں رہائش پذیر وارث شیخ کو ۴۲ جنوری ۸۱۰۲ءکو قتل کردیا تھا جس کے بعد علاقے میں تناﺅ بڑھ گیا تھا اور ہندو مسلم فساد ہونے کی نوبت آگئی تھی۔ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ اگر ملزم کو ضمانت پررہا کیا گیا تو علاقے میں ماحول خراب ہوسکتا ہے نیز وہ اس کے خلاف موجود ثبوت وشواہد مٹانے کی کوشش کریگا اور اس معاملے میں نچلی عدالت میں چارج فریم ہوچکا ہے اورسرکاری گواہوں کی گواہی شروع ہونے والی ہے۔ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کی توجہ اپنے بیانات سے انحراف کرنے والے گواہوں کے دستاویزات کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ملزم کے ڈر و خوف سے گواہوں نے اپنے بیانات سے انحراف کرنا شروع کردیا ہے لہذا ان سب باتوں کے مد نظر ملزم کی ضمانت عرضداشت مسترد کی جانی چاہئے۔متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس سے قبل ہائی کورٹ نے اس معاملے میںملوث دو ملزمین کی درخواست مستر کرچکی ہے لہذ ا عرض گذار کی درخواست ضمانت بھی مسترد کردیا جانا چاہئے کیونکہ تینوں نے ملکر بے گناہ شخص کا قتل کیا تھاملزم دنیش باپوراﺅ کاپڑنیس کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی درخواست کرتے ہوئے ان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ اب جبکہ ملزم کے خلاف فرد جرم عائد کیا جاچکا ہے اسے مشروط ضمانت پر رہا کردینا چاہئے۔فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس سامبرے نے ملزم کی درخواست ضمانت مستر کردی۔واضح رہے کہ ملزم کی ضمانت عرضداشت مالیگاﺅں سیشن عدالت نے جمعیة علماء(مالیگاﺅں) کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نیاز احمد لودھی کی مدلل بحث کے بعد مسترد کردی تھی جس کے بعد ملزمین نے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، ملزمین کی جانب سے ممبئی ہائی کورٹ میں ضمانت درخواست داخل کیئے جانے کی خبر موصول ہونے کے بعد مہلوک کے اہل خانہ نے مالیگاﺅں جمعیة علماءکے ذمہ داران مفتی محمد اسماعیل قاسمی، عبدالمالک بکرا اور حاجی مکی کے ذریعہ جمعیة علماءمہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی سے رابطہ قائم کرکے قانونی امداد طلب کی تھی۔مہلوک کے اہل خانہ کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے گلزار اعظمی نے ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم کو ممبئی ہائی کورٹ میں مداخلت کار کی عرضداشت داخل کرکے ضمانت عرضداشت کی مخالفت کرنے کی درخواست کی تھی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading