مسلم تحریکات آزادی… ایک نظر میں
تسنیم فرزانہ (بنگلور)
بر صغیر میں اسلام عربوں کی تجارت کے ذریعے سے پہنچا – یہ عرب تاجر ایک حیات آفرین تہذیب و تمدن، مؤثر شخصیت اور دل پذیر اخلاق و کردار سے مالا مال تھے – اس وقت ہندوستان کا معاشرہ ذات پات اور اونچ نیچ، رنگ و نسل کے امتیاز پر قائم تھا، چھوت چھات کا رواج عروج پر تھا، عربوں کے عقائد و عبادات کو دیکھ کر مالابار کے چیرومن پیرومل کا آخری راجہ بہت متاثر ہوا اور وہ مشرف بہ اسلام ہو گیا اس نے عرب کے ایک تاجر کو کنانور کا راجہ بنا دیا – کالی کٹ کا زیمورین بھی عرب تاجروں کی بڑی قدر کرتا تھا.
اسی طرح ہندوستان کے مشرقی ساحل پر بھی عرب تاجر دسویں صدی تک پہنچ چکے تھے، اور وہ یہاں بلا تکلف شادی بیاہ بھی کر لیتے، جس سے مسلمانوں کی آبادی بڑھتی رہی، ان کی معاشرت اور مذہبی رواداری دیکھ کر ہندوستان کے اصلی باشندے متاثر ہوتے اور حلقہء بگوش اسلام ہوجاتے، اس تاریخی حقیقت کا اعتراف پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی اپنی کتاب "ڈسکوری آف انڈیا"( صفحہ 525_526)میں کیا ہے _
اس کے بعد مسلم سلاطین کا عہد آیا، انہوں نے بھی ہندی ثقافت کو اسلامی تہذیب و ثقافت سے روشناس کروایا پھر انگریز اس ملک میں تجارت کی غرض سے داخل ہوئے، یہاں کی خوشحالی اور مال و دولت کی فراوانی دیکھ کر ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کرنے کی جد و جہد میں لگ گئے – مسلمانوں نے سب سے اول انگریزوں کے ارادہء بد کو بھانپ لیا اور ان کو اس ملک سے باہر نکالنے کی کوشیش شروع کیں.
جنوب میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان جیسے سورماؤں نے فرنگیوں کے خلاف کمر کس لی لیکن اپنے ہی ملک کے غداروں کی لپیٹ میں آ گئے – اس کے ٹھیک تین سال بعد مولانا شریعت اللہ بنگالی نے( 1840 – 1781) فرائض تحریک کے نام سے بنگال میں انگریزوں کے خلاف جذبہء جہاد پیدا کیا، یہ تحریک کسانوں اور مزدوروں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور عوام تحریک کے قائد کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے اور انگریزی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا، لیکن ہندو اور انگریز دو عظیم طاقتوں اور زمینداروں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہ تحریک چند سالوں میں ہی ختم ہو گئی، اس تحریک کا تفصیلی ذکر انگریز مؤرخ ڈبلیو بی بنٹر کی کتاب "انڈین مسلمانس" میں ملتا ہے.
فرائضی تحریک کے خاتمے کے بعد سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے تحریک مجاہدین کی بنیاد ڈالی، اور ہند کی تاریخ میں پہلی بار احیائے دین اور اقامت حکومت الہیہ کے لئے منظم و مرتب جد و جہد کی گئی – آپ کا مقصد محض انگریزوں کو ملک سے پاک کرنا نہ تھا بلکہ اسلام کے فریضے کو پایہء تکمیل اور خدا کے دین کی حکومت قائم کرنا تھا – بہت سے علمائے کرام نے ان کا ساتھ دیا اور شہید ہوئے، مشہور زمانہ بالا کوٹ کا معرکہ ہوا.
یہ تحریک بالا کوٹ کی شہادت گاہ سے نکل کر پورے ملک میں آزادی کی لہر لے کر اٹھی، خود انگریز مؤرخین اس تحریک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں 66 خلفاء نے سید احمد شہید کے مشن کو زندہ رکھا اور انگریزوں کا ناطقہ بند کرتے رہے _
اس کے بعد وقتاً فوقتاً بہت سی تحریکوں نے جنم لیا ان میں پانچ تحریکات آزادی قابل ذکر ہیں –
تحریک آزادی 1857 ء
___________________
یہ تحریک مسلمانوں نے اس لئے چلائی تھی تاکہ غیر ملکی اقتدار سے نجات پا کر اسلامی تہذیب و تمدن کا احیاء کیا جا سکے
جس زمانے میں کانگریس اور قومی تحریکات کا وجود نہ تھا، ہندو اور دوسری قومیں انگریزوں کی گود میں سو رہی تھیں یا ان کی سرپرستی میں معاشی و سماجی تحفظات حاصل کر رہی تھیں، مسلمان مجاہدین نے سر دھڑ کی بازی لگا کر انگریزی اقتدار کو چیلنج کیا، گو ان کی تعداد بہت کم تھی لیکن جان و مال کی قربانیوں سے وہ تاریخ آزادی پر اپنے نقوش ثبت کر گئے –
اس تحریک کے روح رواں مولوی احمد شاہ مدراسی، مولانا فضل حق خیر آبادی، مولانا رحمت اللہ اور دوسرے بزرگان دیو بند ہیں، آپ لوگ سن ستاون کے ان ممتاز مجاہدین میں سے ہیں جن سے سخت دشمنی کے باوجود انگریزوں نے ان کی بے حد تعریف کی ہے.
میلی سن لکھتا ہے کہ "اگر محب وطن اسے کہتے ہیں جو اپنے وطن کی برباد شدہ آزادی کے حصول کے لئے سازشیں کرے اور لڑے تو یقیناً مولوی ایک سچا محب وطن تھا – اس نے اپنی تلوار کو (میدان جنگ سے باہر) قتل کے داغ سے آلودہ نہ ہونے دیا – اس نے قتل کے کسی بھی واقعہ سے چشم پوشی گوارہ نہ کی وہ ان اجنبیوں کے خلاف بلند ہمتی سے لڑتا رہا جو اس کے وطن پر مسلط ہو گئے تھے اور اس کی یاد تمام قوموں کے مخلصوں اور بہادروں کی جانب عزت و احترام کی مستحق ہے "
مولوی احمد شاہ مدراسی ایک زبردست مقرر تھے، عوام میں وعظ و نصیحت کے لئے پر جوش تقریریں کیا کرتے تھے ان کی تقریروں میں ہزاروں ہندو و مسلمان جمع ہوتے تھے – آگرہ کی تقریروں میں دس دس ہزار کا مجمع ہوتا تھا، ان کی ہر دل عزیزی کا یہ عالم تھا کہ ایک موقع پر مجسٹریٹ کے حکم سے پولیس تک نے انہیں گرفتار کرنے سے انکار کر دیا –
مولانا فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ مرتب کرایا جس پر علمائے دہلی سے دستخط لئے گئے اور یہی فتویٰ مولانا کی گرفتاری کا سبب بنا اور آپ کے لیے حبس دوام کا حکم صادر ہوا ان کی کتابیں، جائداد، مال و متاع، اہل و عیال کے رہنے کا مکان غرض ہر شئیء ضبطی میں آ گئی –
مولوی رحمت اللہ کیرانوی عیسائیت کے خلاف شمشیر برآں اور ایک زبردست مناظرہ باز تھے ایک مناظرہ میں عیسائی پادری کو رسوا کن شکست دے چکے تھے جب انگریزوں کے خلاف جنگ کا اعلان ہوا تو کیرانہ میں مجاہدین کی فوج کے سالار یہی تھے، مولانا کی گرفتاری کا حکم ہوا تو یہ مکہ ہجرت کر گئے –
ان کے علاوہ عظیم اللہ خان، جنرل بخت خاں، شہزادہ فیروز، مولانا لیاقت علی آلہ آبادی، ڈاکٹر وزیر خاں، نواب علی بہادر اور نواب تفضل حسین وغیرہ مجاہدین کا نام آتا ہے جنہوں نے اٹھارہ سو ستاون کی جنگ میں بھرپور حصہ لیا اور جان و مال کی قربانیاں دیں –
جنگ آزادی کی یہ کوشش ناکام ہوگئی تو انگریزوں کے قہر و غضب کا خصوصی نشانہ مسلمان بنے،ہلاکت خیزی اور سفاکی کا مظاہرہ کیا گیا اور لاکھوں مر و عورت، بچے، بوڑھے گولیوں کا نشانہ بنے، ہزاروں افراد کو پھانسی دی گئی، لارڈ وابرٹ کے بقول دہلی شہر کا منظر اس درجہ ہیبتناک اور لرزہ خیز تھا کہ گھوڑے بدک رہے تھے اور نتھنے پھلا رہے تھے کیونکہ پوری فضا بیماری اور لاشوں کے سڑنے کی بدبو سے لبریز تھی –
ایک معاصر مؤرخ لکھتا ہے کہ
"ستائیس ہزار اہل اسلام نے پھانسی پائی – سات دن برابر قتلِ عام رہا اس کا حساب نہیں، بچوں کو تک مار ڈالا عورتوں سے جو سلوک کیا بیان سے باہر ہے جس کے تصور سے دل دہل جاتا ہے،"
مجاہدین آزادی کو طرح طرح کی جسمانی و روحانی اذیتیں دی گئیں، معاش کے دروازے بند کر دئے گئے انہیں ہر حیثیت سے ذلیل و خوار بنانے کی کوشش کی گئی – لیکن یہ ساری کوششیں ناکام رہیں اور مسلمان اپنی تہذیب و تمدن اور مذہب و ایمان سے علیحدہ ہونے تیار نہیں ہوئے.
تحریک ریشمی رومال
_________________
یہ تحریک انگریزوں کے خلاف عملی جہاد کرنے اور ہندوستان سے انہیں نکال باہر کرنے کے لئے قائم ہوئی تھی اس تحریک کے سرخیل متعدد علماء اور دانشور تھے لیکن شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی شخصیت ان سب پر حاوی تھی، آپ 1851 عیسوی میں بریلی میں پیدا ہوئے، مختلف علماء کرام سے درس لیا اور دینی علوم میں مہارت پیدا کی، آپ کا کارنامہ علمی دنیا میں کافی وزن رکھتا ہے – آپ نے گیارہ کتابیں تصنیف فرمائیں.
انگریزوں سے نفرت آپ کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،چنانچہ جب ترک موالات کا استفتاء پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے تین شاگردوں، مفتی کفایت اللہ، مولانا سید احمد حسین مدنی اور مولانا شبیر احمد عثمانی کو جمع کر کے فرمایا کہ یہ فتویٰ آپ لوگ لکھیں ان حضرات کو تعجب ہوا کہ آپ کی موجودگی میں ہم کیا لکھیں تو فرمایا "مجھ میں انگریزوں سے نفرت کا جذبہ اتنی شدت لئے ہوئے ہے کہ مجھے اپنے نفس پر اطمینان نہیں ہے کہ حدود کی رعایت ہو سکے گی اوراللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ،" اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف کا دامن چھوڑ بیٹھو" اس لئے آپ ہی لکھیں
شیخ الہند نے ایک طرف مسلم نوجوانوں کو اسلام کے عقائد و افکار سے روشناس کرانے کے لئے سرحد پر مدارس کے قیام زور دیا تاکہ دینی علوم کی اشاعت ہو دوسری طرف آپ نے اندرون ہند اور بیرونی ممالک میں جگہ جگہ عسکری مراکز قائم کئے –
پروفیسر سعید احمد اکبر آبادی لکھتے ہیں کہ "جس وقت انڈین نیشنل کانگریس حقوق طلبی کی جنگ لڑ رہی تھی، حضرت شیخ الہند اس حکومت کا تختہ ہی الٹ دینے کا نقشہ تیار کر رہے تھے"
جب آپ کے خلاف ہندوستان میں کافی جاسوسی ہونے لگی اور یہاں رہ کر کام کرنا مشکل ہو گیا تو حجاز چلے گئے –
انگریزوں سے آپ کی اس سخت دشمنی کا اندازہ خود ان کو بھی تھا – سر جیمز مبسٹن گورنر یو پی نے ایک موقع پر کہا کہ: "اگر اس شخص کو جلا کر راکھ کر کر دیا جائے تو وہ بھی اس کوچہ سے نہ آڑے گی جس میں کوئی انگریز رہتا ہو"
ایک اور موقع پر اس نے کہا کہ: "اس شخص کی بوٹی بوٹی بھی کر دی جائے تو ہر بوٹی سے عداوت ٹپکے گی"
مولانا عبید اللہ سندھی کابل میں اس تحریک کا ساتھ دے رہے تھے انہوں نے امیر افغانستان سے کی تو امیر حبیب اللہ خان نے ترکی پر حملے کی اجازت دے دی، مولانا سندھی نے شیخ الہند کو ایک پیغام ریشمی رومال پر لکھ کر بھیجا جو انگریزوں کے ہاتھ لگ گیا، اسی کی مناسبت سے پوری تحریک کا نام "ریشمی رومال تحریک "پڑ گیا _19 فروری 1917 کی تاریخ انقلاب کے لئے مقرر کی گئی، لیکن یہ کامیاب نہ ہو سکی چنانچہ حسین احمد مدنی، شیخ الہند، مولوی عزیز گل اور حکیم نصرت حسین وغیرہ کو گرفتار کر لیا گیا اور مدتوں مالٹا کی جیل میں سختیاں برداشت کرنی پڑیں.
30 نومبر 1920 کو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی وفات ہوئی تو غسل دینے کے لئے جب تختہ پر لٹایا گیا تو پیٹھ بالکل سیاہ تھی اور اس پر ضرب کے نشان تھے – رفقائے مالٹا نے اس وقت انکشاف کیا کہ یہ نشانات ان دنوں کے ہیں جب آپ مالٹا میں اسیر تھے، آپ پر درے برسائے جاتے تھے لیکن حضرت نے انہیں وصیت کر دی تھی کہ ان مصائب کا کہیں ذکر نہ ہو –
اس تحریک کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کا بانی و رہبر وقت کا شیخ طریقت اور عالم ربانی ہے، وہ نہ فرانس کے
کی تاریخ پڑھی ہے نہ روسو و مانٹسکو کے انقلاب انگیز لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے، اس کا شیرازہء حیات قال اللہ وقال الرسول اور اس کی زندگی کا خمیر اتباع سنت نبوی ہے، وہ دیو بند کے ایک حجرے میں بیٹھ کر وقت کے عظیم ترین استعمار سے ٹکر لینے کا منصوبہ بناتا ہے اور باقاعدہ اس کے لئے تحریک قائم کرتا ہے اور راہ کی ساری آزمائشوں کا مقابلہ کرتا ہے –
اس تحریک کی ناکامی سے قطع نظر اس سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ آزادی کی لہر تیز ہو گئی اور علماء و طالبان علم کی حمایت کھل کر اسے حاصل ہو گئی جو تحریک خلافت کی شکل میں صورت پذیر ہوئی –
تحریک خلافت اور مولانا جوہر