مسلمان سیاسی شعور کا مظاہرہ کریں’ کسی بھی قیمت پر ووٹ کا سودا نا کریں

Zulfeqarnain
ذوالقرنین احمد۔9096331543

مہاراشٹر و ہریانہ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں یو پے اے اتحادی پارٹیوں میں انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کے 145 امیدوار ہے، نیشنل کانگریس پارٹی کے 123امیدوار ہے، اسکے علاوہ 20 ہے اسطرح یو پی اے کے کل ملا کر 288 سیٹ ہے۔ اسی طرح این ڈی اے اتحادی پارٹیوں میں بی جے پی کے 152 امیدوار ہے، شیو سینا کے 124 امیدوار ہے، اور دیگر 12 ہے اس طرح انکے 288 امیدوار میدان میں ہے۔ انکے علاوہ دیگر 2663 امیدوار میدان میں ہے۔ اس مرتبہ مہاراشٹر میں اسمبلی انتحابات میں ایم آئی ایم نے اپنے 44 امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ جن میں مسلمان، سیکھ، دلت، وغیرہ کے اقلیتی برادری کے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ اسمبلی انتحابات کے اعلان ہونے کے بعد سے مہاراشٹر میں انتخابی سرگرمیوں کا موسم شروع ہے۔ ہر کوئی اپنے علاقوں کے لیڈروں کے پیچھے گھومنے میں اپنی بڑائی سمجھ رہا ہے۔ سیاسی شعور رکھنے والے مصنف اور سیاست دان، اور سماجی شخصیات کا یہ ماننا ہے کہ مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات میں اقلیتی ووٹوں کا بٹوارہ ہونے والا ہے۔ پچھلے اسمبلی انتحابات میں اقلیتی برادریوں کے ووٹ کو متحد کرنے کیلے ایم آئی ایم نے پرکاش امبیڈکر سے اتحاد کیا تھا۔ اور مہاراشٹر میں اپنا کھاتا کھولا تھا۔ لیکن اس بار ونچیت بہوجن اگھاڑی نے بغیر اتحاد کے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ کچھ سیٹوں پر مشتمل اتحاد کیا گیا ہے۔

کانگریس نے 70 سالوں سے مسلمانوں کو سیاسی طور پر محروم رکھا۔ جس کا نتیجہ آج کانگریس خود بھگت رہی ہے۔ کانگریس ملک میں سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی۔ لیکن آج وہ اپنی عزت بچانے کے لائق نہیں رہی ہے۔ کانگریس کا شیرازہ بکھرنے چکا ہے۔ اور نا مضبوط پلیٹ فارم انکے سامنے ہے۔ کے وہ اسکی ڈوبتی ناو¿ کو بی جے پی کے لہر میں بچا کر کنارے لگائے۔ جس طرح سے کانگریس نے مسلمانوں اور اقلیتی برادری کو قیادت سے محروم رکھا آج بھی اس کی اندرونی دشمنی ہمیں دیکھنے مل رہی ہے۔ پچھلی دفعہ لوک سبھا انتخابات میں کانگرس نے ایسی جگہ سے جان بوجھ کر مسلمان امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا جہاں سے پہلے ہی اقلیتی برادری کا امیدوار ایم آئی ایم یا ونچت سے میدان میں تھا۔ اور اسکا فائدہ سیدھے بی جے پی کو پہنچا ہے۔ لیکن مسلمانوں نے انکی اندرونی دشمنی آج تک نہیں سمجھا ہے۔ مسلمان صرف ووٹ بینک بن کر رہ گئے ہیں۔ بی جے پی نے لوک سبھا میں مسلمانوں کو امیدواری نہیں دی اور ای وی ایم کے زریعے انتخابات جیتنے کے بعد یہ بھی اعلان کیا کے ہم مسلمانوں کے ووٹوں کے بغیر اقتدار میں آئے ہیں۔ یہ کیسی بے وقوفی کی بات ہے کہ ہندستان کی اتنی بڑی اقلیتی برادری کے ووٹوں کو بے قیمت بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 25 سے 30 کروڑ کی مسلمانوں کی آبادی کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہندوستان دنیا کے ممالک میں سب سے بڑی جمہوریت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لیکن یہاں مسلمانوں کو ہمیشہ دورسے درجہ کا شہری دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہیں دبانے کی کوشش جاتی ہے۔ جس کانگریس کو ہم نے پال پوس کر بڑا کیا آج وہی آستین کے سانپ ثابت ہورہی ہے۔ جس کا حال ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی زندگی بچانے کیلے کس طرح سے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے ایسے کئی علاقے ہیں جہاں حال ہی میں کانگریس و دیگر اقلیتیں سیاسی جماعتوں کو پوری طور پر ختم کردیا گیا۔ اور رات و رات بی جے پی میں داخل ہورہے ہیں۔

آج بھی مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ اگر تم اپنے مذہبی شعائر اسلام اور تہذیب و ثقافت پر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اسکے لیے سسٹم میں ہماری ملی قیادت کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتحابات میں ڈی جے پی مرکزی اقتدار حاصل کرنے کے بعد بی جے پی نے مہاراشٹرا میں بھی اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب کرلی تھی۔ اور آج مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں پوری تیاری کے ساتھ میدان میں ہے۔ شیو سینا کے اتحاد کی بنا پر وہ ایک مضبوط پارٹی کے طور پر نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے سامنے ہے۔ کانگریس ہو یا بی جے پی دونوں ہی پارٹیوں سے مسلمانوں کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچا ہے۔ جو آج ملک میں اپنے مضبوط اور مستحکم قیادت نا ہونے کی بنا پر خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اگر مسلمان سرکاری اداروں اور سیاست میں 20 سے 25 فیصد بھی ہوتے تو وہ اپنے آپ کو آج بے وزن محسوس نہیں کرتے۔
فلحال مہاراشٹر کے مسلمانوں کے پاس یہ ایک بہترین مواقع ہے۔ کہ وہ اقلیتی سیاسی جماعتوں سے تعلقات کو بہتر بناکر اپنے حصے داری کی بات کریں اور ان اپنے شرائط کے کے ساتھ ان سے اتحاد قائم کرلیں۔ جہاں جہاں سے ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدوار میدان میں ہے اقلیتی برادری اور دیگر سیکولر ووٹوں کے ساتھ اگر جیت حاصل ہوسکتی ہے تو ایسی جگہ سے متحدہ دور پر پوری کوشش کرکے اسی امیدوار کے حق میں اپنا ووٹ ڈالے، اسی طرح جہان پر ایم آئی ایم کے مضبوط امیدوار میدان میں ہے اور وہاں سے سیٹ کا نکلنا یقینی ہے تو اپنے زور بازو پر ونچیت کو ساتھ میں لے کر پوری ایمانداری سے اس امیدوار کے حق میں اپنے حق رائے دہی کا صحیح استعمال کریں۔ اور جہاں پر کانگریس کا مضبوط امیدوار میدان میں ہوں یا آزاد امیدوار میدان میں ہو جبکہ وہاں کوئی ایم آئی ایم یہاں ونچت کا امیدوار نا ہو تو اس جگہ پر کانگریس یعنی یو پی اے کو اپنا ووٹ ڈالے۔ اس سے بہت بڑا فائدہ ہمیں دیکھنے مل گا۔ اگر بی جے پی اور شیو سینا کو مہاراشٹر میں سرکار بنانے سے روکنا ہے تو کم سے کم اتنی کوشش کرنی ہوگی کہ سیکولر ووٹوں کا بٹوارہ نا ہونے دیا جائے۔ عوام اپنے سیاسی شعور کا مظاہرہ کریں۔

بلکل بھی بہکوے میں آکر اپنے ووٹ کو فرقہ پرست پارٹیوں کے حوالے نہ کردیں۔ کیونکہ ووٹ آپ کا جمہوری حق ہے۔ یہ آئندہ پانچ سالوں کا وہ عکس ہے۔ جس کا استعمال آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کس طرح سے امیدوار کو اپنا قیمتی ووٹ دیتے ہیں۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ جب مسلمانوں کی شریعت میں مداخلت کی جاتی ہے تو ایوان بالا میں ہماری آواز ان فرقہ پرستوں کے جھنڈ میں سنی نہیں جاتی ہے۔ اگر ہماری ملی قیادت کو اور حقیقی قوم کے رہنما و درد مند خادم کو ووٹ دیتے ہیں تو وہ ہماری نمایندگی کر سکتا ہے۔ وہ شریعت میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں نے دیکھا ہے۔ جب آرڈیننس لا کر بار بار طلاق ثلاثہ بل کو قانونی شکل دینے کیلے ایوان پیش کیا جارہا تھا تب ایک اکیلا شیر پارلیمنٹ میں دھاڑ رہا تھا اور نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے لیڈران اپنے آقاو¿ں کے دباو¿ میں آکر اس دن پارلیمنٹ سے فرار تھے۔ اسی لیے اپنی نسلوں کی حفاظت کیلے اپنے دین اسلام کی بقا و تحفظ کیلے ہمیں سیاسی شعور کو بیدار کرنا بے حد ضروری ہے۔
ورنہ جن حالات سے ملک کے مسلمان دوچار ہے۔ وہ یاد رکھے کے تمہارے مستقبل تاریک دیکھائی دیتا ہے۔ اپنے ضمیر کو جھنجھوڑئیے عقل و شعور سے کام لیجیے۔ قوم کے غداروں سے قوم کے نام نہاد رہبروں سے ہوشیار ہوجائیے، کہ یہ لوگ چند پیسوں کی خاطر کو آپ کا ووٹ خریدنے کی کوشش کریں گے۔ جس کی قیمت لینا بلکل بھی جائز نہیں ہے۔ ووٹ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی شخص کے بارے میں گواہی پیش کر رہے ہیں کہ وہ شخص کیسا ہے۔ اگر آپ اس کے تعلق سے پیسے لے جھوٹی گواہی دیتے ہیں یعنی ووٹ کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ تو یہ کل قیامت میں زبردست پکڑ کا زریعہ ہوگا۔ سورہ انعام میں اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے ” انصاف کی بات کرو چاہے اس کی زد میں تمہارا رشتے دار ہی کیوں نا آئے” یہ چند روپیوں کی خاطر اپنی آنے والی نسل کو غربت و افلاس کی عمیق گہرائیوں میں دھکیلنے اور انھیں دشمنوں کے ہاتھوں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے سے بچانے کی فکر کریں ورنہ آپ کی نسل آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔
ووٹ کے پیسوں سے پرورش پانے والا جسم حرام کے لقمہ سے وجود پاتا ہے اور حرام کے جسم سے پروان چڑھنے والا جسم جہنم کی آگ میں جلے گا۔ بچاو¿ں اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوگے۔ ووٹ ضرور کریں لیکن سوچ سمجھ کر کریں ان بے قصور مسلمانوں کے لاشوں کو یاد کرنا جنہیں سڑکوں پر فرقہ پرستوں نے ہجومی دہشتگردی کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ان مقدس نفوس مسلم خواتین کی عصمتیں کو یاد رکھنا جن کے گھروں میں گھس کر فرقہ پرست عناصر نے انکی عزتوں کو پامال کیا تھا۔ ان معصوم نو مولود بچوں بچوں کی تصویروں کو اپنے خیال میں لاکر سوچنا کہ کس طرح سے بے قصور نو نہالوں کو قتل کردیا گیا تھا۔ ان حمل والی خواتین کو بھی یاد رکھنا جن کے پیٹ چاک کر کے انکے معصوم بچوں کو قتل کردیا گیا تھا۔ اس اتنی درخواست ہے کہ آپ اپنے ووٹ کا سودا نہیں کرے گے اور اپنے جمہوری حق رائے دہی کا استعمال صحیح امیدوار کیلے کرے گے جو مظلوموں کی آواز بن کر ابھرے جو انصاف اور حق کی بات کرسکے اور تمہارا حق تمہیں دلانے میں کامیاب رہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading