ناندیڑ: 14جو ن (شیخ اکرم) ممتاز و محترم عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے انوارالمساجد میں خطبہ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے تعلیم و معیشت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مسلمانوں کو تاکید کی کہ تعلیم کے حصول اور معاشی استحکام کے سلسلے میں غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کریں۔ مفتی صاحب نے کہا کہ تعلیم و معیشت کسی بھی فرد و معاشرے کی بقاءکے لئے انتہائی اہم بنیاد ہے۔ اگر تعلیم یا معیشت میں کوئی ایک سے فرد یا معاشرہ محروم ہوتو اُس کا وجود مسلسل خطرہ میں ہوتا ہے اور اُس کا تباہ و برباد ہونا یقینی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ یو پی ایس سی اور ایم پی ایس سی امتحان اور صنعت و حرفت، سائنس و ریسرچ کے میدان میں شعور و دلچسپی پیدا کرکے اس ملک میں اپنے آپ کو نافع بخش ثابت کریں۔کیونکہ جو اپنے آپ کو نافع بخش ثابت نہ کرے اُس کی اہمیت دوسروں کے نزدیک بھیڑ بکری اور کتے بلی سے زیادہ نہیں ہوتی۔ قرآن کی سب سے پہلی آیت کا نزول ” اقرائ“ سے ہوا۔ جس سے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح معیشت کو بہتر بنانے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔ سیرت میں متعدد واقعات و ارشادات تعلیم کے حصول اور معاشی استحکام کے بارے میں درج ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کی جماعت میں ہر قسم کے ماہرین تیار ہوئے اور مسلمانوں کی تاریخ میں بڑے بڑے ماہر ڈاکٹر، انجینئر، سیاستداں، سائنس داں، ماہرین فلکیات، ریاضی داں، سپہ سالار، بہترین منتظمین وغیرہ پیدا ہوئے۔ یہ لوگ نہ صرف اپنے فن میں ماہر ہوتے تھے بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ڈروخوف بھی اپنے اندر رکھتے تھے اور اُس کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کرتے تھے۔ لیکن آج کل (استثنیٰ کے ساتھ) ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر، سیاستداں وغیرہ کو عوام کو لوٹنے اور پیسے بٹورنے کے سوا دوسرا کچھ نہیں آتا۔ اُن کے دماغ میں ہر وقت اس بات کی دُھن سوار ہوتی ہے کہ کس طرح اپنے مال اور تن آسانی کے وسائل میں اضافہ کیا جائے۔ چاہے اس کے لئے اُنہیں اپنے ضمیر کی آواز کو نظر انداز کرنا پڑے۔ مفتی صاحب نے مزید کہا کہ نااہل لوگ اہم منصب پر فائز ہوجائے تو اُس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ڈونیشن کلچر نے اس بات کا موقع فراہم کیا ہے کہ نااہل لوگ بہ آسانی اہم منصب پر فائز ہوسکے۔ آج تعلیمی اداروں میں نااہل لوگوں کی بھرمار ہے۔ اُنہیں اپنے منصب کی ذمہ داریوں کا احساس نہیں اور نہ ہی وہ اس بات کے اہل ہیں کہ خود کو معمارِ قوم ثابت کرسکیں۔ شہر کے اُردو مدارس کا نتیجہ انتہائی حد تک مایوس کن رہا۔ متعلقین کو ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور خاطی اساتذہ اس بات کے قابل ہیں کہ وہ خود چلّو بھر پانی میں ڈوب کر مرجائیں۔ آخر میں مفتی صاحب نے کہا کہ موبائل اور ٹی وی کا زیادہ استعمال کرنے سے کوئی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ اپنے فرائض کو بحسن و خوبی ادا کرسکے۔