ناندیڑ:20ڈسمبر(ورق تازہ نیوز)سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں آج ناندیڑشہر میں کل جماعتی تحریک ناندیڑ کی جانب سے تاریخی مظاہرہ کیاگیا اورمسلمانوں نے رضاکارانہ طور پراپنا کاروبار پوری طرح بند رکھا ۔ مرکزی حکومت کے شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے بعد سارے ملک بھر میں مظاہرے کئے جارہے ہیں ۔سی اے اے پوری طرح سے دستور ہند کے خلاف ہے جس کاراست اثر مسلمانوں پر پڑے گا۔

ا س لئے ملک بھرمیں مسلمان اس قانون کی سخت مخالفت کررہے ہیں ۔ آج ناندیڑ شہر میں بھی کُل جماعتی احتجاجی دھرنادینے کافیصلہ چند روز قبل لیاگیاتھا ۔جس کےلئے کُل جماعتی تحریک ناندیڑکاقیام عمل میں آیااور چند روز میں ہی کمیٹی نے تیزی کیساتھ دھرنے کالائحہ عمل تیار کیا ہے ۔
آج بروز جمعہ کو صبح سے ہی شہر میں مسلمانوں میں دھرنے میں شرکت کیلئے جستجو نظر آرہی تھی اور سبھی دھرنے میں جانے کیلئے تیاری کررہے تھے ۔شہر کے مسلم گنجان آبادی والے علاقہ دیگلورناکہ سے آج دوپہر بعد نماز جمعہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ضلع کلکٹر آفس کی سمت روانہ ہوئے ۔اس موقع پر جوش وجذبہ سے سرشار نوجوان حکومت مخالفت زبردست نعرہ بازی کررہے تھے اور ہاتھوں میں پلے کارڈس بھی تھامے ہوئے تھے جس پر شہریت ترمیمی قانون مخالف نعرے تحریر تھے ۔شہر کے ہر کونے سے مسلمان ضلع کلکٹر دفتر کی سمت پہنچ رہے تھے ۔دوپہر چاربجے تک ہزاروںکی تعداد میں لوگ کلکٹر آفس کے روبروجمع ہوگئے ۔
کلکٹر آفس کے روبرو سڑک پرشاندار اسٹیج لگایاگیاتھاجس پر علماءکرام اور مختلف سیاسی وسماجی اورملی تنظیموں کے ذمہ داراان کے علاوہ سکھ ‘بودھ اور دلت سماج کے لیڈران بھی موجود تھے ۔دھرنے سے معزز علماءکرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت ایسے متنازعہ اور غیر دستوری قوانین لارہی جس سے ملک کے سیکولر کردار کو ختم کیا جائے۔اور ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔شہریت میں ترمیمی سے متعلق لایا قانون نہ صرف مسلمانوں پر حملہ ہے بلکہ ملک کے دستور کو سیکولر قدروں کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔اس قانون سے نہ صرف مسلمان متاثرہونگے بلکہ دیگر مذاہب کے لوگوں پر بھی اس کے اثرات پڑیں گے۔ اس قانون کو غیر دستوری اور نا انصافی پر مبنی بتاتے ہوئے مودی حکومت جب تک یہ قانون منسوخ کرنے کا اعلان نہیں کرتی اس وقت تک احتجاجی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا۔اس تاریخی احتجاجی مظاہرے میں مولانا ایوب قاسمی، مولانا سرور قاسمی، مولانا مرتضٰی رضوی، مولانا عبدالحسیب قادری، ایم زیڈ صدیقی‘ جماعت اسلامی کے ریاض الحسن عامر، مولانا آصف ندوی، مولانا عظیم رضوی کے علاوہ ایم آئی ایم کے سید معین، فیروز لالہ، صابر چاوش، سابقہ میئر عبدالستار، شمیم عبداللہ، شفیع احمد قریشی،ونچت بہوجن آگھاڑی کے فاروق احمد، نریندر چوہان ‘ وریندر سنگھ بونگئی ‘بودھ دھرم گرو‘ کارپوریٹرس عبدالفہیم، عبدالرشید، عبدالعلیم، عبدالحفیظ، ناصر خطیب، قاضی رفیق ‘ ایڈوکیٹ نصیر فاروقی، فیروز خان، ایڈوکیٹ ایوب جاگیردار و دیگر موجود تھے۔ اس احتجاج کو جماعت اسلامی، جمیعت علمائ،پاپولر فرنٹ، سنّی علماء بورڈ، مرکزی میلاد کمیٹی، ایس ڈی پی آئی، ایم پی جے، تنظیم انصاف، مینارٹی میڈیا اسوسی ایشن، ہپپی کلب،مولانا آزادوچار منچ‘ خادمین امت کی تائید حاصل تھی۔آج احتجاجی دھرنے کے مدنظر مسلمانوںنے رضاکارانہ طور پر اپنے کاروبار مکمل بند رکھے اور احتجاجی دھرنے میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی ۔
آج احتجاجی دھرنے کے بعد ریلوے اسٹیشن کے قریب وزیر آباد پولس اسٹیشن کی جیپ گاڑی پر نامعلوم اشرار نے سنگباری کی جس سے جیپ کے شیشے ٹوٹ گئے ۔گاڑی نمبر MH 26-R 0525 ریلوے اسٹیشن کے قریب دھرنا آندولن کے بندوبست کیلئے تعینات کی گئی تھی اس وقت نامعلوم اشرار نے گاڑی پرسنگباری کی جس سے جیپ کے عقب کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں ۔