رام مندر کی ریلی نکالی جاتی ہے، مدھیہ پردیش میں یہ ریلی چاند کھیڑی کی ایک مسجد کے باہر رک جاتی ہے اور وہاں ‘ ہنومان چالیسہ ” پڑھتی ہے، جس کے بعد وہاں مسلمان بھی جمع ہوجاتےہیں، پولیس کی موجودگی میں رام۔مندر والی بھیڑ مسجد پر حملہ کردیتی ہے، مسجد کے مناروں پر بھگوا جھنڈا لہرایا جاتاہے، اس کے علاوہ یہ ہندوتوا دہشتگرد، مسلم آبادیوں میں مسلمانوں کے مکانات پر حملے کرتےہیں توڑ پھوڑ مچاتے، ان کی املاک تباہ کرتےہیں اور گھروں میں گھس کر ان کی مالیات چوری کرتےہیں
دوسری طرف پولیس، سیکورٹی فورس، ضلعی ایڈمنسٹریشن اور علاقائی سیاسی لیڈر سب کے سب رام۔مندر والے ہندوتوا غنڈوں کو پروٹیکشن فراہم کررہےہیں.

وہاں ممبرآف پارلیمنٹ سدھیر گپتا اور مقامی ایم ایل اے یشپال سِنگھ سسودیا دونوں بی جے پی سے ہیں
مقامی بھاجپا کے لیڈر نے تو بڑی بے شرمی سے یہ بیان بھی دے دیا کہ ” رام بھکتوں پر پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائی کے لیے احکامات جاری کیے گئے ہیں ”
یہ کس قدر دیدہ دلیری ہے کہ انہی کی بھیڑ پہلے رام۔مندر اور ہندوراشٹر اور جے۔شری۔رام کے نام پر مسجد پر حملہ کردیتی ہے، جے شری رام کے نعرے لگاتے مکانات میں لوٹ مار مچائے، پھر منظم بھیڑ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ یہ فسادی کھیل رچے، اور پھر ہندوتوا کے لیڈران ہمیشہ کی طرح اپنے غنڈوں کو ” رام بھکت ” کا خطاب دیں اور انہی کو مظلوم قرار دے دیں… مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی لیڈرشپ میں ہندوتوا زہر پھیلانے اور سَنگھی غنڈوں کو دنگا بھڑکانے کے لیے پوری چھوٹ دی جارہی ہے،
ایم۔پی کے بھاجپائی وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان درحقیقت مسلم دشمنی اور ہندوتوا دہشتگردی میں اپنے سَنگھی کیڈر کے ہم منصب اور اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے مقابلہ کررہےہیں

صوبے سے ایک شخص نے بتایاکہ: شیوراج سنگھ چوہان کے مدھیہ پردیش میں گزشتہ کئی مہینوں سے ہندو۔مسلم بھڑکانے اور نفرت کی کاشت کے لیے منظم ماحول بنایا جارہاہے، مسلمانوں کو نقصان پہنچانے، اور کمزور کرنے کے لیے شیوراج کی حکومت پولیس اور ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ملکر کام کررہی ہے، شدت پسند ہندو تنظیموں کو فساد پھیلانے اور ماحول کو زہریلا کرنے کی آزادی دی جاچکی ہے”

شیوراج سنگھ نفرت کی سیاست کے ذریعے غالباﹰ برہمنی استعمار میں مزید بلند مقام حاصل کرنے کی فراق میں ہیں
گزشتہ دنوں بھوپال کے مضبوط مسلم لیڈر عارف مسعود کے تعلیمی ادارے پر شیوراج سنگھ انتظامیہ نے بلڈوزر چلادیا تھا
اجین، اندور مندسور سمیت مدھیہ پردیش کے کئی علاقوں میں مسلم۔مخالف ماحول اور نفرت کو پروموٹ کرنے کی خبریں ہیں

یہ بات طے شدہ ہیکہ: نریندرمودی کی قیادت والی مرکزی سرکار نوٹ بندی، جی ایس ٹی، ملک کی املاک کو بیچنے، چینی سرحد پر بزدلی کا مظاہرہ کرنے سے لیکر کسانوں کےساتھ ناانصافی تک ہر محاذ پر ناکام ہے، پورا ملک ان سے پریشان ہے، امیت شاہ کی داخلہ پالیسیاں بھی کشمیر سے لیکر دہلی تک میں بدنامی کا سبب بن چکی ہیں،
بھاجپا اپنی ناکامی کو چھپانے اور ملک کا رخ تبدیل کرنے کے لیے برہمنی استعمار کے کامیاب ہتھیار کو استعمال کرےگی، وہ ہتھیار ہے ہندو۔مسلم دنگے، رام۔مندر بنام مساجد کے جھگڑے بھڑکائیں گے، ملک کی شودر، دلت اور پچھڑی ذاتوں میں ہندوتوا کے ہندوراشٹر کی پیاس جگائیں گے، اور اس کے لیے خطرہ مسلمانوں کو بتائیں گے، جب ملک بھر میں نفرت اور زہر کا ایسا ماحول عروج پر ہوگا تب تین فیصد اقلیتی ” برہمن ” اپنی کمین گاہوں میں مست رہےگا.
ایسےمیں بہت ضروری ہے کہ مسلمان اپنا آئینی اور ملّی لائحہ عمل مرتب کریں، جن لوگوں میں ہندوراشٹر کا زہر بھر دیا گیاہے انہیں غلط فہمی کا شکار سمجھ کے اپنی باری کا انتظار کرنا عقلمندی نہیں ہے_
ہمیں سردست بھارت کے پچھڑے مظلوموں کو اور اپنے تمام طبقات کو ساتھ لیکر ایک مضبوط اتحاد کی ضرورت ہے جو ظلم کا مقابلہ انسانی عزت کےساتھ کرسکے جو بھارت میں آئینی بالادستی، امن کو یقینی بنانے کے لیے اور عزتوں کی حفاظت کے لیے مخلص اور بے لوث ہوں یہ تاریخی حقیقت اور فطری اصول ہیکہ آپ جتنے چاہے شانتی سمیلن، قومی یکجہتی، انسانیت اور ایکتا کے کام پر محنت کیجیے جوکہ یقینًا بڑے اچھے اور ضروری کام ہیں لیکن جب پولیس اور فورس دنگا فساد چاہتاہے تبھی خون بہتا ہے اگر سیکوریٹی فورسز شفاف ہوں اور ان کی کمان ایماندار ہاتھوں میں ہو تبھی وہ امن کے لیے کام کرتےہیں_
✍🏻: سمیــع اللّٰہ خان
۳۰ دسمبر ۲۰۲۰
ksamikhann@gmail.com