مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے – از: شیخ اکرم ، ناندیڑ

مضمون نگار

۔Cell:9028167307

آیا ہی تھا خیال کہ آنکھیں چھلک پڑیں

آنسو کسی کی یاد کے کتنے قریب تھے

حضرت مولانا معین صاحب قاسمی ؒ کو اس دنیا سے کوچ کئے ہوئے پورا ایک سال گزر گیا ہے۔ اس کے باوجود ایسا لگتاہے کہ مولانا مرحوم بقید حیات ہوں، اور مدرسہ کے ایک تخت پر بیٹھے ہوئے رسائل و اخبارات کا مطالعہ کررہے ہوں

۔31جولائی 2018ءکی دوپہر جب میں نے اپنا فیس بک آن کیا تو مولانا مرحومؒ کے اچانک انتقال کی خبر پڑھ کر میں حیرت زدہ رہ گیا، میری سانسیں اُکھڑ رہی تھیں۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔ خبر کی تصدیق کے لئے پسینے میں شرابور میں نے فوری مدرسہ کا رُ خ کیا۔ لیکن وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ میں نے ہانپتے کانپتے فون کو اپنے ہاتھ میں لیا اور پریس فوٹو گرافر منور خان سے خبر کی تصدیق چاہی۔ انہوں نے خبر کی تصدیق اور نماز جنازہ کے وقت و مقام سے آگاہ کیا جس کے بعد میں کافی ملول و افسردہ ہو گیا اور اُس کے بعد مولانا کی یادیں میری آنکھوں کے سامنے آکر جم گئیں۔ چونکہ دفتر روزنامہ تہلکہ ٹائمز مدرسہ کے قریب ہی واقع ہے اس لئے مجھے جب کبھی دفتر سے قباءمسجد میں نماز کے لئے جانا ہوتا تو باہر کے گیٹ میں سے مولانا اندر بیٹھے ہوئے نظر آتے تھے۔ وہ یا تو کسی سے گفتگو کررہے ہوتے، یا پھر مطالعہ میں غرق نظر آتے۔ مجھے جب کبھی مولانا حامد اظہرکاشفی سے ملاقات کے لئے مدرسہ میں جانا ہوتا تو میںمولانا مرحومؒ کو بڑے ادب سے سلام کرتا اور وہ نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ سلام کا جواب دیتے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک مرتبہ وہ اتفاق سے جمعہ کے دن انوارالمساجد میں تشریف لے آئے اور خطبہ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے اپنے مخصوص لب و لہجہ سے سامعین کو محو حیرت کردیا تھا۔ انہوں نے جس عنوان پر خطاب کیا تھا وہ ” عصری تعلیم کے ساتھ دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت او راتحاد بین المسلمین“ تھا۔ میں نے اُن کے خطاب کا خلاصہ تیار کرکے مقامی اخبارات میں شائع بھی کیا تھا۔ میں نے یہ خلاصہ تیار کرنے کے بعد مولانا مرحومؒ کی خدمت میں پہنچا اور انہیں تصحیح کرنے کے لئے پیش کیا تو مولانا نے مجھے اُن کے سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھنے کے لئے کہا۔ لیکن مولانا کے ادب و احترام کی وجہ سے میں کرسی پر نہ بیٹھ سکا، بلکہ نیچے رکھی ہوئی چٹائی پر بیٹھ گیا۔ مولانا نے اصرار کیا لیکن مولانا کےغایت درجہ ادب و احترام کی وجہ سے نیچے چٹائی پر ہی بیٹھے رہنا مناسب سمجھا۔ مولانا نے بیان کا خلاصہ پڑھنے کے بعد ایک لائن حذف کردینے کے لئے کہا۔ جس میں مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے والے علماءکا بائیکاٹ کرنے کی بات لکھی ہوئی تھی۔ مولانا نے کہا کہ چونکہ اس کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی ہے اس لئے اس جملہ کو حذف کردو۔ بعد ازیںیہ خلاصہ مقامی اخبارات میں شائع بھی ہوا۔ اب مجھے کافی تلاش و بسیار کرنے کے بعد بھی نہ مل سکا۔ مگر اب بھی اُن کے بیان کے نکات میرے کان میں سرسراہٹ پیدا کررہے ہیں جس میں وہ کہہ رہے ہیں مسلمانوں متحد ہوجاﺅ، اللہ کے لئے آپس میں نہ لڑو، ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھو، دل بڑا کرو، یہ دنیا دھوکہ کا گھر ہے، مچھر کا پر ہے، مکڑی کا جالا ہے۔ اس مختصر سی زندگی میں کسی سے حسد نہ رکھو، کسی سے بیر نہ رکھو، کسی سے نفرت نہ کرو، دلوں کو صاف کرو، ، معاف کرنا سیکھو، معافی مانگنے میں پہل کرو، چھوٹے کا ادب بڑوں کا احترام کرو، اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے، چھوٹا وہ ہے جو اللہ کی نظر میں چھوٹا ہو، بڑا وہ ہے جو اللہ کی نظر میں بڑا ہے۔ ایک دوسرے کو ذلیل نہ کرو، ایک دوسرے کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو۔ کسی کو اپنے سے کمتر نہ سمجھو۔ بلکہ کوئی شرابی جو نالی میں گرا ہوا ہو اُسے بھی اپنے سے بہتر سمجھو۔ اتحاد اسلام اور انتشار کفر ہے۔ وغیرہ۔ مولانا نے یہ شعر بھی کہا تھا۔

اُن کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

مولانا اکثر اپنے خطاب میں مذکورہ شعر کا آخری مصرعہ ” میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“ پڑھا کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً اس کا عملی ثبوت بھی دیتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ممتازو جید عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے انوارالمساجد میںایک مرتبہ اپنے خطاب میں مولانا کی حیات میں ہی مولانا کو” ناندیڑ کی شان “کہا تھا۔ مولانا نے مختلف علمی و رفاہی شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی تھیں اور سماجی ہم آہنگی و بھائی چارہ کے فروغ میں بھی پیش پیش رہے۔مولانا ایک جید عالم دین اور وسیع المطالعہ عالم ہونے کے علاوہ انتظامی صلاحیتوں سے بھی لیس تھے۔ اخلاق و کردار میں اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔ مولانا مرحوم درس و تدریس اور خطابت و بیان کے ذریعے صرف طلباءہی نہیں بلکہ پورے علاقہ مراٹھواڑہ کو سیراب کئے۔ مولانا کا انداز سخن منفرد تھا۔ جس سے ہر شخص محظوظ ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا کو حافظہ بھی بہت اچھا دیا تھا۔ ایک مرتبہ مدرسہ میںمسلم پرسنل لاءمیں حکومت کی مداخلت کے سلسلہ میںمولانا عمرین محفوظ رحمانی (جنرل سیکریٹری مسلم پرسنل لاءبورڈ)کی پریس کانفرنس رکھی گئی تھی تواُنہیں مولانا مرحوم ؒ نے تمام صحافیوںاور نمائندوںکا تعارف مع اخبارات کے نام دل نشین و سلیس انداز میں کروایا تھا۔ مجھے اُس وقت احساس ہوا تھا کہ مولانا مرحوم ؒ واقعی ” طوطی مراٹھواڑہ“ ہیں۔ مولانا کے ساتھ ڈھیر ساری یادیں وابستہ ہیں۔ وہ اکثر کوئی تحریر یا نیوز اخبار میں شائع کروانا ہو تو اپنے نمائندہ یا مدرسہ کے طالب علم کو میرے پاس بھیج کر روانہ کردیتے تھے، تاکہ اُسے مقامی اخبارات میں ای میل کرسکے۔ تھوڑی دیر کے بعد دفتر کے فون پر اُن کا کال آتا اور شکریہ، جزاک اللہ اور دعائیہ کلمات ضرور کہتے۔ آج جب کہ مولانا مرحوم کو گذرے ہوئے پورا ایک سال ہوگیا ہے، لیکن اب بھی اُن کے الفاظ کان میں رس گھول رہے ہیں۔ میں ذاتی طورپر سمجھتاہوںکہ مولانا کو صرف دعائیہ کلمات یا ایصال ثواب یا پھر مولانا کی یاد میں آنسو بہانے سے اُنہیں خراج پیش نہیں کیا جاسکتا،بلکہ اُن کے ”پیغامِ اتحادو محبت“ اور آپس میں”الفت و محبت،ہمدردی و بھائی چارگی، اثیار و قربانی، عفو و درگزر “کو اپنا کر ہی اُنہیں خراج پیش کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین۔

جان کر منجملہ خاصان میخانہ مجھے

مدتوںرویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading