محرم اور عرس کے موقع پر کچھوچھہ شریف درگاہ میں شربت، لنگر اور مفت میڈیکل کیمپ – زائرین کی خدمت کے لیے خصوصی انتظامات

محرم اور عرس کے موقع پر کچھوچھہ شریف درگاہ میں شربت، لنگر اور مفت میڈیکل کیمپ – زائرین کی خدمت کے لیے خصوصی انتظامات

کچھوچھہ (آفتاب شیخ):

برصغیر کے معروف صوفی بزرگ غوث العالم محبوب یزدانی تارک السلطنت سلطان مخدوم میر اوحد الدین سید اشرف جہانگیر سمنانیؒ کی درگاہ کچھوچھہ شریف میں محرم الحرام اور سالانہ 639 ویں عرس کے موقع پر ملک بھر سے عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہِ محرم کے دوران درگاہ شریف اور اطراف کا علاقہ روحانیت، عقیدت اور خدمتِ خلق کی روایات سے روشن نظر آ رہا ہے۔

اس موقع پر جامعہ بی بی فاؤنڈیشن کے چیئرمین انیس ملت حضرت علامہ مولانا سید انیس اشرف اشرفیّ الجیلانی نے بتایا کہ 5 محرم سے 10 محرم تک خانقاہ دارالامن میں دور دراز سے آئے ہوئے زائرین کو گرمی اور سفر کی تھکان دور کرنے کے لیے شربت کی مفت تقسیم کی جارہی ہیں۔

فرزند انیس ملت سماجی خدمتگار حضرت سید عزیز اشرف مصباحی، جو کہ مولانا سید انیس اشرف کے صاحبزادے اور حضرت مخدوم اشرف جہاںگیر سمنانیؒ کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، نے بتایا:
"ہمارے بزرگوں اور صوفی روایت میں ہمیشہ یہ رواج رہا ہے کہ جو بھی اس پاک در پر حاضری دیتا ہے، اسے عزت، محبت اور تبرک کے ساتھ نوازا جائے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم 20 محرم سے 30 محرم تک روزانہ لنگر کا اہتمام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ایک مفت میڈیکل کیمپ بھی لگایا جائے گا جو گزشتہ 21 برسوں سے مسلسل جاری ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اور ہمارے جدِ امجد حضرت مخدوم اشرفؒ کے فیض و کرم سے ممکن ہو رہا ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ لنگر کی خدمت پچھلے 11 برسوں سے بلا ناغہ ہر سال انجام دی جا رہی ہے، جس میں ملک بھر سے آئے زائرین بغیر کسی امتیاز کے شامل ہوتے ہیں۔

محرم اور عرس کے ان ایّام میں ضلعی انتظامیہ، پولیس محکمہ، انتظامیہ مل کر پورے نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں مصروف ہیں۔ صفائی ستھرائی، بجلی، پانی، آمد و رفت اور سیکیورٹی جیسے تمام انتظامات کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے تاکہ زائرین کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

کچھوچھہ شریف کی یہ صوفیانہ روایت، جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ خدمتِ خلق کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، آج بھی انسانیت، بھائی چارے اور محبت کا پیغام عام کر رہی ہے۔

1002491665.mp4

1002491663.mp4

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading