ممبئی:4 مارچ(ورق تازہ نیوز)مالیگاﺅں 2008ءبم دھماکہ معاملے میں ہائی کورٹ کے حکمنامہ کے مطابق خصوصی این آئی اے عدالت میں مقدمہ کی سماعت روز بہ روز جاری ہے ، آج اس معاملے میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے۵ فراد کی گواہی عمل میںآئی جس کے دوران انہوں نے عدالت کو بتایا کہ29 ستمبر 2008ءکو بھکو چوک میں ہونے والے بم دھماکہ کے تعلق سے بتایا۔گواہان استغاثہ فیصل رحمان لقمان خان، جاوید اختر محمد اسراعیل، طارق عبدالعزیز، اعجاز احمد اور محمد حنیف شیخ نے خصوصی جج ونود پڈالکر کو بتایا کہ زخمی ہونے کے بعد انہیں مقامی لوگوں نے فاران اسپتال اور نور اسپتال پہنچایا تھا جہاں انکا علاج کیا گیا اور بعد میں پولس نے ان کا بیان بھی درج کیا تھا۔وکیل استغاثہ اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہو ئے سرکاری گواہوں نے عدالت کو بم دھماکوں کے متعلق مزید تفصیلات بتاتے ہو ئے کہا کہ بم دھماکوں کے بعد علاقے میں افر ا تفری کو ماحول مچ گیا تھا اور موٹر سائکلیں بکھری پڑی ہوئی تھیں ۔بھگوا ملزمین کے وکلاءنے گواہوں سے جرح کرتے ہوئے ان پر عدالت میں این آئی اے کے دباﺅ میں جھوٹی گواہی دینے کا الزام عائد کیا ۔
دوران کارروائی عدالت میں متاثرین نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے وکلاءشاہد ندیم، ابھیشک پانڈے و دیگر موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں ابتک 39 گواہوں کی گواہی عمل میں آچکی ہے جس میں بم دھماکوںمیں زخمی ہونے والے افراد کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے علاوہ بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد شامل ہیں۔