آج سیاست کا وقت نہیں شہر کے لیے کچھ کرنے کا وقت ہے :محمد عارف نوری:(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں)
مالیگاؤں (پریس ریلیز) پچھلے کئی برسوں سے مالیگاؤں شہر نے ہزاروں لوگوں کو صرف اس لئے کھو دیا کہ اُن کا وقت پر مناسب علاج نہیں ہو سکا یا ان کے پاس علاج کے لیے اتنی رقم نہیں تھی کہ اس مہنگائی اور لوٹ کھسوٹ کے دور میں مریضوں کا علاج کرواسکے آج بھی ہمارے شہر میں لوگ علاج کے لیے چندہ کرتے نظر آتے ہیں .
علاج کے لیے دھولیہ، ناسک، اورنگ آباد، شِرڈی وغیرہ شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں مالیگاؤں شہر ایک گنجان آبادی والا شہر ہے اس گنجان آبادی والے شہر میں چند سرکاری ہسپتال ہیں ان میں کچھ تو سردی، کھانسی وغیرہ کے لئے مشہور ہے ایک سول ہسپتال ہے جہاں ہمیشہ طبّی سہولیات کا فقدان رہتا ہے ڈاکٹروں و اسٹاف کی لاپرواہی اور عوامی شکایتوں کی وجہ سے ہمیشہ تنازعات میں رہتا ہے پچھلے دنوں کرونا مہماری کے دوران وقت پر مناسب علاج نا ہونے کی صورت اور انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے مالیگاؤں شہر کی عوام نے سینکڑوں قیمتی جانوں کو گنواں دیا جن میں شہر کی مشہور و معروف ملّی، سیاسی، سماجی شخصیت کا شمار ہوتا ہے۔
کیا اسی طرح ہم ہمیشہ اپنے پیاروں کو کھوتے رہیں گے؟ کیا ہم نے فسادات میں ہمارے بھائیوں، بزرگوں کو مرتے تڑپتے نہیں دیکھا؟ کیا ہم نے بم بلاسٹ میں لوگوں کو بِلکتے، مرتے نہیں دیکھا؟ روزانہ ہم لوگوں کو مرتے دیکھتے ہیں یقیناً اگر ہمارے شہر میں ملٹی اسپیشلیٹی ہاسپٹل ہوتا جہاں تمام علاج بہترین ڈاکٹروں و اسٹاف کی نگرانی میں ہوتا تو ہم ان قیمتی جانوں کو بچا سکتے تھے! مگر افسوس! ہم ان قیمتی جانوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اسی بات کو محسوس کرتے ہوئے حفاظت گروپ مالیگاؤں(محمد عارف نوری)، رسائیٹ اکیڈمی(کاشف سمن)، سُنّی جمعیة العوام(حافظ غفران اشرفی)، اقلیتی فلاں بہبود (جنید سہارا) و دیگر تنظیموں کی جانب سے شہر کے علمائے کرام، سیاسی، سماجی ،فلاحی ،تنظیموں کے سرکردہ افراد سے ملاقات اور مشوروں سے ایک تحریک چلائے جائے گی تاکہ غریبوں کو علاج کے لیے چندہ نا مانگنا پڑے، علاج کے لیے دوسرے شہروں میں دَر بدر بھٹکنا نا پڑے، مجبوری میں اپنے پیاروں کو تڑپتا، مرتا نا دیکھ سکے، کسی کے آگے ہاتھ نا پھیلانا پڑے، علاج کے لیے قرض نا لینا پڑے آج سیاست کا وقت نہیں ہے شہر کے لیے کچھ کرنے کا وقت ہے جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی ہم شہر کے سیاسی، سماجی، ملّی تنظیموں، سوشل ورکروں اور سرکردہ افراد، صحافیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ اس تحریک میں ہمارا ساتھ دیں اور ہمارے ساتھ شانہ بشانہ چلتے ہوئے اس تحریک کو کامیاب بنائیں۔