روس کی سکیورٹی سروسز کے مطابق دارالحکومت ماسکو کے ایک کانسرٹ ہال میں حملے سے کم از کم 60 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملے میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کے بیان کے مطابق ’مرنے والوں کی لاشوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔بدقسمتی سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
روس کے وزیر صحت میخائل مراشکوو نے کہا ہے کہ 115 افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے پانچ بچے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ متاثرین میں سے 60 کی حالت تشویشناک ہے۔ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں روس کو ممکنہ حملے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ اس نے مارچ کے اوائل میں روسی حکام کو خبردار کیا تھا کہ ممکنہ طور پر ماسکو میں ’بڑے اجتماعات‘ کو نشانہ بنا کر حملہ کیا جائے گا۔
امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے کہا کہ اس ماہ کے اوائل میں امریکی حکومت کے پاس ماسکو میں ایک منصوبہ بند دہشت گرد حملے کے بارے میں معلومات تھیں جس میں ممکنہ طور پر بڑے اجتماعات کو نشانہ بنایا جانا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے یہ معلومات روسی حکام کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ اس سے قبل بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار گورڈن کوریرا نے کہا تھا کہ کریملن نے ان وارننگز کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
عالمی رہنما ماسکو میں ہونے والے حملے پر رد عمل ظاہر کر رہے ہیں۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایکس پر لکھا کہ ’ماسکو سے آج رات کی تصاویر خوفناک ہیں، ہماری ہمدردیاں متاثرین، زخمیوں اور روسی عوام کے ساتھ ہیں۔‘جرمن وزارت خارجہ نے بھی اس حملے کو ’ہولناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس کے پس منظر کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔‘
ماسکو میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے سے صدمے میں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل جان کربی کا کہنا تھا کہ ’ہماری ہمدردیاں فائرنگ کے اس ہولناک حملے کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔‘
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے مشیر میخیلو پوڈولیاک نے یوکرین کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ انھوں نے ایکس پر پوسٹ کیا، ’یوکرین نے کبھی بھی دہشت گردی کے طریقوں کا سہارا نہیں لیا ہے، اس جنگ میں ہر چیز کا فیصلہ صرف میدان جنگ میں کیا جائے گا۔‘