(از عمران خان)
کسی بھی ملک کے حال میں رونما ہو رہے واقعات ہی اس ملک کا مستقبل طے کرتے ہیں۔ اور اگر حال میں ایک مذہب، ایک نظریہ کو فروغ دیا جائے اور سماج کے دوسرے حصوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جائے اور اسے سیاسی طور پر غیر موزوں بنا دیا جائے تو اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا اس کا آسانی سے تصور کیا جا سکتا ہے۔
پریاگ اکبر کے ناول پر مبنی ’لیلیٰ‘ سیریز ہے، اس کے ہدایت کار مشترکہ طور پر دیپا مہتا، شنکر رمن اور پون کمار ہیں۔ ’لیلیٰ‘ کے اہم اداکار، ہما قریشی، راہل کھنہ، عارف ذکریہ، سنجے سوری، سیما بسواس اور آکاش کھورانا ہیں۔
سیریز میں شالنی پاٹھک (ہما قریشی کا کردار) کا کردار اہم ہے جس نے مسلمان لڑکے رضوان چودھری سے شادی کی ہوئی ہے۔ شالنی اور رضوان’ آریہ ورت‘ نام کے ایک خیالی ملک کے رہائشی ہیں۔ آج کل جس طرح ’لو جہاد‘ کے نام پر شدت پسند ہنگامہ آرائی کرتے ہیں، 2047 کے’آریہ ورت‘ میں اس کا شدید روپ نظر آتا ہے اور شالنی کو ایک مسلمان سے شادی کرنے کی سخت سزا دی جاتی ہے۔ گھر میں گھس کر شالنی کے شوہر کو قتل کر دیا جاتا ہے اور حملہ میں شالنی کی بچی اس سے بچھڑ جاتی ہے۔ شالنی کو اٹھا کر ’ونیتا کلیان کیندر‘ نامی ایک ایسے قید خانے میں رکھا جاتا ہے جہاں خواتین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور ان کا ’شدھی کرن‘ کیا جاتا ہے۔ بس یہیں سے شالنی کی زندگی بدل جاتی ہے اور فلم اس کے اذیت ناک سفر کے درمیان ’آریہ ورت‘ کی خوفناک تصویر پیش کرتی ہے۔
دراصل آریہ ورت میں اگر الگ الگ کیٹیگری کے مرد اور عورت شادی کر لیتے ہیں، تو ان کے جو بچے پیدا ہوتے ہیں انہیں ’مِشرت‘ یعنی مکسڈ بچے کہا جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو سماج پر کلنک مانا جاتا ہے اور انہیں مٹا دیا جاتا ہے یا غائب کر دیا جاتا ہے۔ لیلیٰ بھی چونکہ ہندوں ماں اور مسلم باپ کی اولاد ہے اس لئے وہ بھی غائب ہو جاتی ہے۔ شالنی کو معلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں لیکن پھر بھی وہ اپنی بچی کے لئے ہر حد تک جاتی ہے اور خطروں سے کھیل جاتی ہے۔

’آریہ ورت‘ کہنے کو ایک خیالی ملک ہے لیکن جگہ جگہ بھگوا رنگ اور گونجتے ہوئے منتروں سے یہ احساس ہو جاتا ہے کہ یہ کس ملک کا ’مستقبل‘ ہے۔ یہاں کا سپریم لیڈر ڈاکٹر جوشی ہے جو ایک تاناشاہ بن چکا ہے۔ سماج پانچ حصوں (ایک سے لے کر پانچ کیٹیگری) میں تقسیم ہو چکا ہے۔ پانچ کیٹیگری یعنی کہ پنچ خدمت گاروں کا طبقہ ہے جنہیں غلاموں کی زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ ایک ایک کٹیگری یا طبقہ کا ایک علیحدہ سیکٹر ہے جس میں لوگ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں لیکن بغیر اجازت کسی دوسرے سیکٹر میں جانے پر پابندی ہے۔ ان پانچ کیٹیگریوں کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں جنہیں دوش (دوشت یعنی ناپاک) کہا جاتا ہے، انہیں زبردستی شہروں سے بہار نکال دیا گیا ہے اور شہروں کے باہر فلک بوش دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ دوش افراد گندی بستیوں کی جھگیوں میں رہتے ہیں جہاں چاروں طرف گندگی اور کوڑے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ دو سال کی ’محنت‘ کے بعد سپریم لیڈر جوشی کے حکم سے تمام دوش لوگوں کو شہروں سے بہار نکالا گیا ہے اور اب وہاں بھی ان کی زندگی خطرے میں ہے کیونکہ ایک ایسا پروجیکٹ لانے کی تیاری ہے جس کے آغاز کے ساتھ ہے شہروں سے باہر رہنے والے تمام لوگوں کی نسل کشی یقینی ہے۔
اس سیریز کے دو مناظر قابل غور ہیں۔ شالنی (ہما قریشی) کا تعاقب کرتے ہوئے ’آریہ ورت‘ کے لوگ ایک دوشوں کی بستی تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں ایک کباڑ خانہ نما دکان میں گاندھی جی کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ جیسے ہی آہٹ ہوتی ہے وہ شخص گاندھی کی تصویر کو پلٹ دیتا ہے اور جوشی کی تصویر کو سامنے کر دیتا ہے۔ بعد میں جب وہ لوگ چلے جاتے ہیں تو وہ پھر سے گاندھی کی تصویر کو سامنے کر دیتا ہے۔ دوسرے منظر میں بابری مسجد کی طرز پر تاج محل کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ اس منظر میں جنونی ہجوم اور کئی لیڈران تاج محل کو منہدم کر دینے کی خوشی مناتے نظر آتے ہیں۔

مذہبی جنون اور قدامت پسندی سے لبریز ’آریہ ورت‘ میں ٹیکنالوجی کی ترقی تو ظاہر ہوتی ہے، کمیونی کیشن کے نئے ذرائع ایجاد کر لئے گئے ہیں، کمپیوٹر مزید طاقت ور ہو گئے ہیں، ہتھیار بھی جدید ہو گئے ہیں لیکن پانی اور صاف ہوا کا بحران اپنی حدوں کو پار کر چکا ہے۔ ساتھ ہی انسانیت بھی مر چکی ہے اور گالی گلوچ پہلے سے بھی زیادہ عام ہو گئی ہے۔ ’آریہ ورت‘ میں حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا موت ہے اور ’جوشی جی‘ جو بھی کہیں وہی حرف آخر ہوتا ہے۔
یوں تو آریہ ورت میں مسلمانوں کا بھی ’اشرف گنج‘ نام سے سیکٹر ہے لیکن وہاں کے مسلمان بھی ’جوشی‘ کی ہر بات پر ہاں ملاتے ہیں ورنہ ان کی خیر نہیں۔ ہمارا ملک ہندوستان بھی اگر موجودہ ڈھرے پر چلتا رہا تو یہ بھی ’آریہ ورت‘ بننے سے محض دو-چار قدم ہی دور ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
