لاک ڈاؤن: گھروں میں ’رامائن‘ کا لطف اور سڑکوں پر روٹی کی ’مہابھارت

لکھنؤ: عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکے کورونا وائرس کے انفیکشن کو روکنے کے لئے پورا ملک اس وقت لاک ڈاؤن پر ہے۔ دریں اثنا، خانہ نظربند لوگوں کو لطف اندوز کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے سرکاری ٹی وی چینل ’دوردرشن‘ پر مذہبی سیریل ’رامائن‘ کو از سر نو نشر کرنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن بڑے شہروں میں روزگار ختم کے بعد دیہاتوں کی جانب پیدل سفر کرنے والے مزدوروں کے لئے سڑک پر ’روٹی‘ حاصل کرنا ’مہابھارت‘ (جنگ عظیم) بنتا جا رہا ہے۔

اُن بڑے شہروں سے لوگ زیادہ تعداد میں واپس لوٹ رہے ہیں جہاں انفیکشن سے متاثرہ مریض پائے جا رہے ہیں۔ سڑکوں پر میلہ لگا ہوا ہے اور لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ذمہ داری سنبھال رہے پولیس اہلکار کہیں غریب اور مزدوروں کو لاٹھیاں سے مار رہے ہیں تو کہیں انسانوں کو مینڈکوں کی طرح چلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ سب سے خوفناک تصویر بریلی کی ہے، جہاں سرکاری ملازمین نے خواتین اور بچوں پر کیمیکل چھڑک کر انہیں سینی ٹائز کرنے کی کوشش کی!

اگر بندیل کھنڈ کی بات کریں تو یہاں کے تقریباً دس سے پندرہ لاکھ کارکن بڑے شہروں میں رہائش پذیر ہیں، جو اب اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار دنوں میں ایک لاکھ سے زیادہ مزدور واپس آئے ہیں اور ان میں سے بہت کم لوگوں کی ’تھرمل اسکریننگ‘ ہوئی ہے۔

تاہم ، چتر کوٹ دھام زون کے کمشنر گورو دیال پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ ’’بندیل کھنڈ کی سرحد میں ہر جگہ کورونا چیک پوسٹیں لگائی گئی ہیں، جہاں باہر سے آنے والوں کی مکمل جانچ کی جاتی ہے اور سوشل ڈسٹنسنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔تاہم، پیر کے روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ باندہ کے جاری کردہ ایک خط نے سرحد کی تیاریوں کو بے نقاب کر دیا گیا ہے۔ اپنے خط میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) سنتوش بہادر سنگھ نے کہا ہے کہ ’’دیہاتوں میں بڑی تعداد میں لوگ باہر سے آئے ہیں، ان کی گائوں کے مطابق فہرست بنائی جائے اور انہیں اسکولوں، آنگن واڑی مراکز میں قرنطینہ کیا جائے۔‘‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading