ایک مرتبہ فیکٹری کے مالک نے اپنے ملازمین سے کہا کہ فیکٹری کے علاقے میں جو تالاب ہے اُسے تَیر کر جو بھی ملازم اس کِنارے سے دوسرے کِنارے تک جائےگا اُسے 50,00000 لاکھ روپئے انعام دیا جائیگا،اور اگر وہ مگرمچھوں کا شکار ہوگیا تواُسکے وُرثہ کو 10,00000لاکھ روپئے دئیے جائینگے،کسی بھی ملازم کی ہمت نہیں ہو پارہی تھی سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ اچانک تالاب میں کسی نے چھلانگ لگادی اور تالاب کی ساری مگرمچھ اُس شخص کے پیچھے لگ گئیں۔ بہر حال وہ شخص تیزی و پھرتی سے تالاب کے دوسرے کنارے پر پہنچ گیا، اور پچاس لاکھ روپیئے انعام کا حقدار بن گیا ۔مگر وہ کہتا ہے مجھے یہ ضرور بتائیں کہ مجھے پیچھے سے کس نے ڈھکیلا تھا۔ اُس شخص کو کسی اور نے نہیں ڈھکیلا تھا بلکہ اُس کی بیوی نے ڈھکیلا تھا اور کہاتم جیتنے پر پچاس لاکھ اور تمہاری موت پر دس لاکھ کسی بھی صورت میں فائدہ ھی فائدہ ہے ـ
اسی لئے کہا گیا کی عورت انسان کو لالچ دلاتی ہے اور دنیا بناتی بھی ھے بگاڑتی بھی ہے ـ
کسی نے کیا خوب کہا ہے اگر تمہارے پیچھے جنگل کا شیر لگ جائے تو اُس کا ڈٹ کر مقابلہ کرو اور کوئی عورت تمہارے پیچھےپڑ جائے تواپنا راستہ بدل ڈالو ـ